قرضوں اور غربت کی دلدل سے نکلنے کا راستہ

قرضوں اور غربت کی دلدل سے نکلنے کا راستہ 0

قرضوں اور غربت کی دلدل سے نکلنے کا راستہ، کمائی نہیں، پیسے کا استعمال اصل مسئلہ ہے

 دن رات کی محنت، موسم کی سختیاں، تناؤ اور وقت کی قلت کے باوجود  ہم قرضوں اور غربت کی دلدل سے نکلنے کا راستہ نہیں ڈھونڈھ پاتے، کیا کبھی آپ نے اس کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی؟

کڑی دھوپ اور ٹھٹھرتی راتوں میں دن رات کی محنت کے بعد بھی اگر آپ کی زندگی قرضوں اور غریبی کے شکنجے میں جکڑی ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔  ہم سب اس بھاگ دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں آمدنی سے زیادہ خرچے ہوتے ہیں۔ ہم اس مشکل کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے صرف قسمت کو کوستے ہیں یا حکومت کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ہر مہینے ایک ہاتھ سے تنخواہ آتی ہے اور دوسرے سے نکل جاتی ہے، پیچھے وہی قرضے، وہی مہنگائی اور وہی بے برکتی کا رونا رہ جاتا ہے۔

قرضوں اور غربت کی دلدل سے نکلنے کا راستہ ہمیں کیوں نہیں مل رہا؟

کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ اس کی اصل وجہ ہماری اپنی کچھ عادتیں تو نہیں؟ آپ جتنا کماتے ہیں، اس سے زیادہ خرچ ہو جاتا ہے۔ مہینے کی تنخواہ آتے ہی اُڑ جاتی ہے۔ دکاندار کے حساب پورے نہیں ہوتے اور ہر طرف مہنگائی کا شور سنائی دیتا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔

خرچے بڑھنے کی بیماری: زیادہ کمائی = زیادہ خرچ

یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہمارے مالی استحکام کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے۔ جب ہماری آمدنی بڑھتی ہے، تو اکثر اس کے ساتھ ہمارے خرچے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ایک خودکار عمل ہے جس پر ہم غور نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر:

  • اگر آپ کی تنخواہ میں اضافہ ہو تو آپ فوراً ایک بڑے اور مہنگے گھر کا سوچنے لگ جاتے ہیں۔

  • بونس مل جائے تو نئی گاڑی خریدنے کا خیال آجاتا ہے۔

  • آمدنی بڑھے تو مہنگے ریستورانوں میں کھانے اور شاپنگ کا رجحان بڑھنے لگ جاتا ہے۔

یہ ساری باتیں ہمیں ایک لمحے کی خوشی تو دیتی ہیں مگر طویل مدت میں ہماری بچت کو صفر کر دیتی ہیں۔ فرض کریں آپ 50,000 روپے کماتے ہیں اور آپ کی آمدنی 10,000 روپے بڑھ کر 60,000 روپے ہو گئی۔ اگر آپ نے ہوش سے کام نہ لیا تو یہ 10,000 روپے فوراً ان چیزوں پر خرچ ہو جائیں گے:

  • 3,000 روپے زیادہ کرایہ والا گھر۔

  • 2,000 روپے مہنگی گاڑی کی قسط۔

  • 2,000 روپے ماہانہ باہر کے کھانے۔

  • 3,000 روپے کی فضول شاپنگ۔

اور نتیجہ؟ 10,000 روپے آئے اور چلے گئے۔ آپ کی بچت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔

اس کا حل: جب بھی آپ کی آمدنی بڑھے، اس کا ایک بڑا حصہ فوری طور پر بچا لیں یا ایسی جگہ لگائیں جہاں وہ بڑھ سکے۔ اپنے اخراجات کو ہمیشہ اپنی آمدنی سے کم رکھیں۔

دکھاوے پر خرچ

کڑکتی دھوپ، برف جیسی ٹھنڈی راتیں، گھٹا ٹوپ اندھیرے، دن رات کی محنت، لیکن اس کے باوجود وہی قرضے اور وہی غریبی۔ یہ سب کیا ہے؟

دوسرے لوگوں کو ،اپنے دوستوں کو دکھڑے سناتے رہتے ہیں کہ کوئی چیز پوری نہیں ہوتی لیکن کبھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ اس کے پیچھے محرکات کیا ہیں یعنی کہ ان چیزوں کی اصل وجہ کیا ہے ان پر ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا اور نہ ہی ان کو سمجھنے کی کوشش کی ۔

جب ایسا سوچیں گے تو آپ کو بہت سی چیزیں نظر آئیں گی کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہم پر بڑھتے قرضوں کا بوجھ کیوں ہے۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کتنا پیسہ کما رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اسے سنبھالتے کیسے ہیں۔
کچھ چیزیں یا کام وہ ہیں جو ہمیں ، صرف ریپریزنٹ کرتی ہیں ، یعنی بس لوگوں کو دکھاتی ہیں کہ ہم امیر ہیں، مگر اندر سے ، یہ ہمیں کمزور کرتی ہیں۔ اگر ہم ان کو سمجھ لیں اور انہیں چھوڑ دیں، تو تبہی ہم اس “بھگدڑ” سے نکل کر اصل امیر بن سکتے ہیں۔

دکھاوے پر پیسہ خرچ کرنے کا مطلب ہے ایسی چیزیں خریدنا جو صرف دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے ہوں۔ یہ چیزیں ایک عارضی خوشی دیتی ہیں مگر مالی طور پر آپ کو کمزور کر دیتی ہیں۔

  • مہنگی گاڑی جو آپ کی ضرورت سے زیادہ ہو، صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے۔

  • برانڈڈ کپڑے اور لوازمات جن کی کوئی ضرورت نہ ہو، بس برانڈ دکھانے کے لیے۔

  • مہنگی ڈیوائسز جو آپ کے کام کی نہ ہوں، مگر آپ ان کو خرید کر دوسروں پر اپنا رعب جھاڑیں۔

یہ تمام چیزیں آپ کو کامیاب دکھاتی ہیں لیکن یہ آپ کی بچت اور سرمائے کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہیں۔ ان کی قیمت وقت کے ساتھ کم ہوتی ہے اور یہ آپ کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچاتیں۔

اس کا حل: پیسے کو وہاں لگائیں جہاں وہ بڑھ سکے۔

  • کسی اچھے کاروبار میں سرمایہ کاری کریں۔

  • کوئی ایسا نیا ہنر سیکھیں جو آپ کی آمدنی میں اضافہ کرے۔

  • ایسی چیزوں میں سرمایہ لگائیں جن کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھے (جیسے کہ پراپرٹی یا قیمتی دھاتیں)۔

یاد رکھیں، جب آپ حقیقی طور پر دولت مند بنیں گے، تو آپ کو زیادہ خوشی اور اطمینان ملے گا۔ عارضی چیزوں پر پیسے اڑانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی مالی بنیاد کو مضبوط کریں۔

حقیقی امیر وہ نہیں جس کے پاس مہنگی گاڑیاں اور کپڑے ہوں، بلکہ وہ ہے جو اپنے مستقبل کو محفوظ کر چکا ہو۔

 تاریخ بھری پڑی ہے کہ اقوام نے اپنی تقدیر کیسے بدلی۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ دکھاوے کی دلدل میں پھنسے رہنا چاہتے ہیں یا مالی آزادی کا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں