فلسطینی ریاست تسلیم 3 ممالک کا جرات مندانہ فیصلہ

فلسطینی ریاست تسلیم 0

فلسطینی ریاست تسلیم برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا تاریخی فیصلہ

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست تسلیم کر کے عالمی سیاست میں نیا باب کھول دیا۔اس فیصلے کے اثرات، عالمی ردعمل اور مستقبل کے امکانات کا تفصیلی کالم ۔

فلسطین کی پہچان تاریخ کا نیا موڑ، عالمی سیاست کی نئی بساط

فلسطینی عوام نے دہائیوں سے ناقابلِ بیان ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کیا ہے۔ ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا، معصوم بچوں کو بے گھر کیا گیا، اور ان کی سرزمین پر بارہا زخم لگائے گئے۔ مگر اس سب کے باوجود، ان کے حوصلے ٹوٹے نہیں۔ وہ آج بھی اپنی آزادی، شناخت اور حقِ خودارادیت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے انصاف پسند دل آج بھی ان کے ساتھ دھڑک رہے ہیں، کیونکہ فلسطین صرف ایک سرزمین نہیں ، یہ ظلم کے خلاف مزاحمت اور امید کی علامت بن چکا ہے۔

دنیا بدل رہی ہے اور سیاست کی بساط پر نئے مہروں کی چالیں کھیلی جا رہی ہیں۔ چند دہائیاں قبل تک فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنا ایک خواب معلوم ہوتا تھا، لیکن اب یہ خواب حقیقت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے بڑے ممالک نے حالیہ دنوں میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر کے نہ صرف عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ اسرائیل کو بھی دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا فیصلہ

سب سے پہلے کینیڈا نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم مارک کارنی کے مطابق، اسرائیلی حکومت کی پالیسی اب کھل کر یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں فلسطینی ریاست کا قیام نہیں چاہتی۔ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں، غزہ پر حملے اور ہزاروں شہریوں کی شہادت اس رویے کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

اس کے بعد آسٹریلیا نے بھی اعلان کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کی جانب ایک عملی قدم ہے۔ برطانیہ نے بھی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی قیادت میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان تینوں فیصلوں نے عالمی سیاست میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کا ردعمل

اس فیصلے پر سب سے زیادہ ناراضی امریکہ اور اسرائیل نے ظاہر کی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک کو سزائی اقدامات کی دھمکیاں دیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس اقدام کو ہٹلر کے دور سے تشبیہ دیتے ہوئے شدید مخالفت کی اور برطانیہ کے وزیر اعظم کو ’’کمزور‘‘ قرار دیا۔

یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلاف بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف دنیا کے 144 ممالک فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں، دوسری طرف امریکہ اب بھی اپنی روایتی اسرائیل نواز پالیسی پر قائم ہے۔

فلسطین کی عالمی حمایت

آج فلسطین کو اقوام متحدہ کے 193 میں سے 144 ممالک بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔ ان میں چین، روس، بھارت اور بیشتر ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ یورپی یونین کے کئی ممالک ابھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، لیکن اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ملک پہلے ہی اپنا مؤقف بدل چکے ہیں۔ حال ہی میں فرانس نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد فلسطین کو تسلیم کرے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اسرائیل پہلے کی طرح تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیشن نے حال ہی میں غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا اور اس کے ذمہ دار نیتن یاہو سمیت دیگر رہنماؤں کو ٹھہرایا۔

خطے پر ممکنہ اثرات

یہ سوال اب سب کے ذہن میں ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے اس عالمی رجحان کے کیا اثرات ہوں گے؟

ان فیصلوں نے فلسطین کے عوام میں امید جگا دی ہے کہ ایک دن وہ آزاد ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمایاں ہوں گے۔  جوں جوں مزید ممالک فلسطین کو تسلیم کرتے جائیں گے، اسرائیل پر سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھے گا۔  اگر یورپ کے بڑے ممالک بھی فلسطین کو تسلیم کر لیں تو امریکہ اپنی اسرائیل نواز پالیسی کی وجہ سے مزید تنہا ہو سکتا ہے۔  اگرچہ فوری طور پر امن قائم ہونا مشکل لگتا ہے، مگر یہ اقدامات مستقبل کی سفارت کاری کے لیے ایک بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

خلاصہِ کلام

یہ فیصلے صرف سیاست نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ فلسطین کی پہچان کو تسلیم کرنا دراصل اُن لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی آواز کو سننا ہے جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ یہ ایک علامتی کامیابی بھی ہے جو دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ ظلم اور جبر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

البتہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت کے باعث فلسطین کی آزادی کا خواب فوری طور پر حقیقت نہیں بن سکتا۔ لیکن یہ طے ہے کہ دنیا کی رائے بدل رہی ہے، اور جب رائے بدلتی ہے تو تاریخ بھی بدلنے لگتی ہے۔

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے فیصلے نے فلسطین کی جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ عمل نہ صرف عالمی سیاست کا نیا موڑ ہے بلکہ ایک ایسا لمحہ بھی ہے جو آنے والی نسلوں کو یاد رہے گا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ انصاف کتنا بھی دیر سے کیوں نہ آئے، آخرکار اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں