عالمی معیشت 2025 میں کون آگے اور کون پیچھے

عالمی معیشت 0

عالمی معیشت کہاں جا رہی ہے پاکستان کے کیا امکانات ہیں دنیا کی معیشت 2025 میں نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکا، چین، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔

عالمی معیشت اور دنیا کا رخ

دنیا کی معیشت اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے توازن، ترقی کے انداز، اور معاشی اثرات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ پچھلی دہائی میں عالمی معیشت نے کئی نشیب و فراز دیکھے  کہیں ترقی کی نئی کہانیاں رقم ہوئیں تو کہیں بحرانوں نے معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکا، چین، بھارت اور یورپ کی بڑی طاقتوں نے اپنی پالیسیاں ازسرِنو ترتیب دیں، جبکہ پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے ممالک اصلاحات اور پالیسی کے تسلسل کے چیلنج سے دوچار رہے۔

امریکا بدستور دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ 2015 میں اس کا جی ڈی پی تقریباً 23.7 ٹریلین ڈالر تھا، جو 2025 تک بڑھ کر 30.3 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ ترقی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل اختراعات (Innovation)، مضبوط مالیاتی نظام، اور جدید کاروباری پالیسیوں کی مرہونِ منت ہے۔

ایپل، مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمیزون جیسی ٹیک کمپنیوں نے نہ صرف امریکی معیشت کو مستحکم رکھا بلکہ عالمی سطح پر نئی صنعتوں کے دروازے کھولے۔ ڈالر کی بین الاقوامی حیثیت، بینکنگ کے جدید ڈھانچے، اور سرمایہ کاروں کا اعتماد امریکا کو طویل عرصے تک مستحکم رکھے ہوئے ہے۔

تاہم، ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ امریکہ فرسٹ پالیسی نے ایک نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹیرف، تجارتی جنگوں اور بین الاقوامی تعاون میں کمی کے امکانات نے عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکا نے اپنے تجارتی تعلقات میں سخت رویہ اپنایا تو اس کا اثر پوری دنیا کی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے۔

چین نے گزشتہ دہائی میں غیر معمولی معاشی ترقی کی۔ اس کا جی ڈی پی 11.2 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 19.5 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا، یعنی تقریباً 74 فیصد ترقی۔ چین کی کامیابی کی بنیاد برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اور انفراسٹرکچر کی توسیع ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) نے چین کو عالمی تجارت کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

 مصنوعی ذہانت یعنی  AI،  بائیو ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ میں پیش رفت نے چین کو عالمی معیشت کی دوسری بڑی طاقت بنا دیا ہے۔ تاہم، عالمی ماہرین کے مطابق چین کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور مغربی ممالک کے ساتھ سیاسی کشیدگی بھی ایک بڑا خطرہ ہے، جو مستقبل میں چینی معیشت کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری طرف بھارت نے بھی پچھلے دس سالوں میں 77 فیصد ترقی کی، اور 2015 کے 2.4 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 4.3 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی تک پہنچ گیا۔ بھارت کی معاشی کامیابی کا راز اس کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور “میک ان انڈیا” پروگرام ہے۔ انفوسس، ٹی سی ایس اور وپرو جیسی کمپنیوں نے بھارت کو عالمی آؤٹ سورسنگ کا مرکز بنا دیا ہے۔

بھارت نے غیرملکی سرمایہ کاری کے قوانین میں نرمی کی، جس کے نتیجے میں بڑی بین الاقوامی کمپنیاں وہاں سرمایہ لگا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 تک بھارت جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کی راہ پر ہے۔

یورپی ممالک، خصوصاً جرمنی، برطانیہ اور فرانس، صنعتی قوت کے باوجود گزشتہ دہائی میں سست روی کا شکار رہے۔ جرمنی کی ترقی صرف 10 فیصد، برطانیہ کی 14 فیصد اور فرانس کی 12 فیصد رہی۔ بریگزٹ، توانائی بحران، اور سیاسی عدمِ استحکام نے یورپ کی ترقی کو محدود کیا۔ البتہ سعودی عرب، ترکی اور انڈونیشیا جیسی ابھرتی معیشتوں نے خطے میں ایک نیا توازن پیدا کیا ہے۔

سعودی عرب کا ویژن 2030 تیل پر انحصار ختم کرنے کی سمت میں ایک انقلابی قدم ہے، جس کے ذریعے سیاحت، تفریحی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود اب تک اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکی۔ 2015 میں پاکستان کی معیشت 270 ارب ڈالر کے قریب تھی، جو 2025 تک 400 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ لیکن یہ ترقی بھارت یا ترکی جیسے ممالک کے مقابلے میں محدود ہے۔

سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کے باوجود بیوروکریسی، کرپشن، پالیسیوں میں عدمِ تسلسل اور کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے نے ترقی کی رفتار کو روکا۔ تاہم، ایک خوش آئند پہلو یہ ہے کہ بلومبرگ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دوسرا سب سے زیادہ بہتر ہونے والا ملک بن چکا ہے۔

کریڈٹ ڈیفالٹ رسک میں غیر معمولی کمی، آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد، اور روپے کے استحکام نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان خطے میں معاشی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عالمی معیشت کہاں جا رہی ہے؟

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق 2025 میں عالمی جی ڈی پی 115.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ آئندہ سالوں میں معیشت کا مرکز ثقل ایشیا کی طرف منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک سست روی کا شکار رہیں گے، جب کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں  جیسے کہ چین، بھارت، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان  نئی ترقی کا انجن بنیں گی۔

تاہم، توانائی بحران، موسمیاتی تبدیلی، قرضوں کا دباؤ، اور عالمی تجارتی رکاوٹیں مستقبل میں ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ دنیا کے رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اجتماعی فیصلے کریں تاکہ عالمی نظام کو مستحکم رکھا جا سکے۔

پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے اب وقت ہے کہ وہ تعلیم، ٹیکنالوجی، اور شفاف حکمرانی پر توجہ دیں۔ پالیسیوں میں تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات، اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندانہ تربیت ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر ڈال سکتی ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے  جو ملک وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال لے گا، وہی آنے والے کل کا رہنما ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں