سفر کے دوران الٹی اور متلی ایک عام مگر پریشان کن مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجہ جسم کے توازن کے نظام میں وقتی خلل ہے۔
سفر کے دوران الٹی، متلی اور چکر کیوں آتے ہیں؟ اور موشن سکنس کیا ہے؟ اس آرٹیکل میں موشن سکنس کی وجوہات، علامات، علاج اور مؤثر گھریلو و طبی تدابیر تفصیل سے جانیں۔
سفر انسان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کبھی یہ سفر روزگار کے لیے ہوتا ہے، کبھی تفریح کے لیے، اور کبھی مجبوری کے تحت۔ مگر بہت سے افراد کے لیے سفر ایک خوشگوار تجربہ بننے کے بجائے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ انہیں دورانِ سفر متلی، چکر، بے چینی اور بعض اوقات الٹی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کیفیت بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ جسم کے ایک پیچیدہ توازناتی نظام میں خلل کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اکثر لوگ اسے محض کمزوری، بدہضمی یا اتفاق سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ طبّی لحاظ سے یہ ایک باقاعدہ کیفیت ہے جسے موشن سکنس یا حرکت کی بیماری کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ دنیا بھر میں بے شمار افراد کو متاثر کرتا ہے اور ہر عمر کے لوگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
موشن سکنس کیا ہے اور یہ کیوں ہوتی ہے؟
موشن سکنس دراصل جسم کے توازن سے متعلق ایک ردِعمل ہے۔ انسانی جسم میں توازن قائم رکھنے کے لیے ایک مربوط نظام موجود ہوتا ہے جس میں آنکھیں، اندرونی کان (جہاں توازن کا نظام ہوتا ہے)، اعصاب، اور دماغ باہم مل کر کام کرتے ہیں۔ عام حالات میں یہ تمام حصے دماغ کو ایک جیسی معلومات فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انسان خود کو متوازن محسوس کرتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سفر کے دوران یہ نظام ہم آہنگی برقرار نہیں رکھ پاتا۔ مثال کے طور پر، جب کوئی شخص گاڑی میں بیٹھا ہوتا ہے اور کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے، تو اس کی آنکھیں دماغ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ جسم ساکن ہے۔ دوسری طرف، اندرونی کان حرکت کو محسوس کر رہا ہوتا ہے اور دماغ کو بتاتا ہے کہ جسم حرکت میں ہے۔ یہی تضاد دماغ کو الجھن میں ڈال دیتا ہے۔
دماغ اس الجھن کو بعض اوقات ایسے سمجھتا ہے جیسے جسم میں کوئی نقصان دہ یا زہریلی چیز داخل ہو گئی ہو، اور اس کے ردِعمل میں وہ معدے کو سکڑنے اور الٹی کے سگنلز بھیج دیتا ہے۔ یوں متلی، چکر اور قے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
سفر کے دوران الٹی آنے کی بنیادی وجوہات
سفر کے دوران الٹی یا متلی کی ایک ہی وجہ نہیں ہوتی بلکہ مختلف جسمانی، ذہنی اور ماحولیاتی عوامل اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ سب سے اہم وجہ آنکھوں اور کانوں کے درمیان معلومات کا تضاد ہے۔ اس کے علاوہ ناہموار سڑکیں، پہاڑی راستے، مسلسل جھٹکے، تیز رفتاری، یا گاڑی کے اندر بند فضا بھی اس کیفیت کو بڑھا دیتی ہے۔
کچھ افراد میں خالی پیٹ سفر کرنے سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ایسے میں معدے کے اعصاب زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف، بہت زیادہ یا بھاری کھانا کھا کر سفر کرنے سے بھی الٹی کا امکان بڑھ جاتا ہے، کیونکہ معدہ پہلے ہی بوجھ تلے ہوتا ہے۔
ذہنی دباؤ، گھبراہٹ اور سفر سے پہلے منفی سوچ بھی اس کیفیت کو شدت دے سکتی ہے۔ بعض افراد کو صرف یہ سوچ کر ہی متلی ہونے لگتی ہے کہ انہیں سفر کرنا ہے، جو دراصل ذہن اور جسم کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
انسانی دماغ کے پچھلے حصے کا ایک اہم کام سمت، حرکت اور توازن کی معلومات کو سمجھنا ہے۔ جب سر حرکت کرتا ہے تو دماغ آنکھوں سے تصدیق چاہتا ہے کہ واقعی حرکت ہو رہی ہے یا نہیں۔ عام حالات میں آنکھیں اور کان ایک ہی بات کی تصدیق کرتے ہیں، اس لیے توازن برقرار رہتا ہے۔
لیکن بس، کار یا کشتی کے سفر کے دوران یہ نظام گڑبڑا جاتا ہے۔ آنکھیں اندر کا ساکن منظر دیکھتی ہیں، جبکہ کان حرکت کو محسوس کرتے ہیں۔ دماغ اس تضاد کو ایک خطرے کے طور پر لیتا ہے اور دفاعی ردِعمل کے طور پر معدے کو سکڑنے کا پیغام دیتا ہے، جس کا نتیجہ الٹی کی صورت میں نکلتا ہے۔
موشن سکنس کی عام علامات
سفر کے دوران ہونے والی یہ کیفیت صرف الٹی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کی کئی اور علامات بھی ہو سکتی ہیں، جو مختلف افراد میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔
عام علامات میں متلی، قے، سر چکرانا، پسینہ آنا، چہرے پر پیلاہٹ، رال کا زیادہ بہنا، اور شدید تھکن شامل ہیں۔ بعض افراد کو سانس لینے میں دقت، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے، یا شدید غنودگی بھی محسوس ہوتی ہے۔
کچھ صورتوں میں سر درد، آنکھوں پر بوجھ، جماہیاں، اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری بھی اس کا حصہ بن سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ علامات عموماً سفر ختم ہونے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہیں، لیکن دورانِ سفر یہ خاصی اذیت کا باعث بن سکتی ہیں۔
خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ کیوں پایا جاتا ہے؟
تحقیقی مشاہدات کے مطابق موشن سکنس مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ عام ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ جسمانی اور ہارمونل فرق ہے۔
خواتین میں عمومی طور پر بلڈ پریشر نسبتاً کم ہوتا ہے، اور کم بلڈ پریشر کی صورت میں چکر اور متلی جلد محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں ہارمونز میں باقاعدہ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، خاص طور پر ماہواری کے دوران، جس سے نمک، پانی اور الیکٹرولائٹس کا توازن متاثر ہوتا ہے۔
ماہواری کے دوران زیادہ خون بہنے کی صورت میں کمزوری اور بلڈ پریشر میں کمی بھی موشن سکنس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ طویل وقت تک کھڑے رہنے یا اچانک بیٹھنے اور کھڑے ہونے سے ہونے والی کیفیت (پوسٹچرل ہائپوٹینشن) بھی خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے، جو سفر کے دوران مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔
سفر کے دوران الٹی سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
اگرچہ موشن سکنس ایک عام مسئلہ ہے، مگر چند سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔سفر سے پہلے نہ زیادہ بھاری کھانا کھائیں اور نہ ہی بالکل خالی پیٹ رہیں۔ ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا بہترین انتخاب ہوتی ہے۔ مصالحے دار، چکنائی والی اور تیز خوشبو والی چیزوں سے پرہیز کریں۔
سفر کے دوران کوشش کریں کہ کھڑکی سے باہر سامنے کی سمت دیکھتے رہیں، تاکہ آنکھیں بھی وہی حرکت محسوس کریں جو جسم اور کان محسوس کر رہے ہیں۔ چلتی گاڑی میں کتاب پڑھنے یا موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کریں۔
جسم کی پوزیشن کو مستحکم رکھیں۔ سر، گردن اور کمر کو زیادہ حرکت نہ دیں۔ اگر ممکن ہو تو گاڑی کی اگلی نشست یا ایسی نشست کا انتخاب کریں جہاں جھٹکے کم محسوس ہوں۔ خود گاڑی چلانا بھی بعض افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
گھریلو اور قدرتی طریقے : قدرتی طور پر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو متلی اور الٹی میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ ادرک ان میں سب سے نمایاں ہے۔ ادرک کا چھوٹا ٹکڑا چبانا یا اس کی چائے پینا معدے کو سکون دیتا ہے۔ سونف، الائچی اور لونگ بھی نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں اور متلی کی شدت کم کرتے ہیں۔ پودینے کی خوشبو یا پودینے والی چائے بھی ذہن اور معدے دونوں کو پرسکون کرتی ہے۔
پانی یا ہلکے کاربونیٹیڈ مشروبات تھوڑی تھوڑی مقدار میں پینا جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے، جو الٹی کی کیفیت میں مفید ثابت ہوتا ہے۔
ادویات اور طبّی مدد: اگر یہ مسئلہ بار بار یا شدید نوعیت کا ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے موشن سکنس کی مخصوص ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یہ ادویات دماغ میں متلی کے سگنلز کو کمزور کر دیتی ہیں، مگر ان کا استعمال صرف ضرورت کے وقت اور طبی مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔
اگر سفر کے علاوہ بھی چکر، قے، شدید سر درد، سننے میں کمی، یا نظر دھندلانے جیسی علامات رہیں تو یہ کسی اور بیماری کی علامت ہو سکتی ہیں، ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
عام طور پر موشن سکنس کوئی خطرناک بیماری نہیں اور سفر ختم ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر قے مسلسل ہو، پانی پینے میں دشواری ہو، شدید کمزوری محسوس ہو، یا علامات سفر کے بعد بھی برقرار رہیں تو یہ تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔
بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے کسی اعصابی یا دماغی بیماری میں مبتلا افراد کو اس معاملے میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔
انتباہ : یہ تحریر عام معلومات کے لیے ہے، مزید معلومات کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔