ریاست اور حکومت میں فرق کیا ہے؟

ریاستی پالیسیاں 0

ریاست اور حکومت میں اصل فرق کیا ہے؟ عوامی شعور، قومی اتحاد اور انتشار کی وجوہات  کیا ہیں؟

کیا ریاست واقعی غلط ہو سکتی ہے؟ یا ہم وہ دیکھ ہی نہیں رہے جو حقیقت ہے؟

یہ سوال آج ہر باشعور شہری کے ذہن میں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی فیصلے کو دیکھ کر فوراً ردعمل دیتے ہیں بغیر یہ سمجھے کہ اس کے پیچھے مکمل تصویر کیا ہے۔ یہیں سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور یہی غلط فہمیاں قوموں کو کمزور کر دیتی ہیں۔

بعض اوقات ریاستی پالیسیاں عام عوام کی سمجھ میں نہیں آتیں، جس کی وجہ سے لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید ریاست غلط فیصلہ کر رہی ہے۔

ریاست اور حکومت میں فرق کیا ہے؟

ریاست (State) کیا ہے؟

ایک مستقل نظام۔ قومی مفادات کی محافظ۔ طویل المدتی پالیسیز بنانے والی

حکومت (Government) کیا ہے؟

وقتی انتظامیہ۔ منتخب نمائندے۔ محدود مدت کے لیے اقتدار

اہم بات: حکومت بدلتی رہتی ہے، لیکن ریاست قائم رہتی ہے۔

تو پھر عوام کنفیوژن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی فیصلہ ہمارے مزاج کے خلاف جاتا ہے تو ہم فوراً کہتے ہیں ریاست غلط جا رہی ہے۔یہ پالیسی ناکام ہے!لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر حکومت کی کارکردگی کو ریاست سے جوڑ دیتے ہیں اور یہی سب سے بڑی غلطی ہے۔

ریاست کے فیصلے پیچیدہ ہوتے ہیں۔ طویل المدتی ہوتے ہیں۔ قومی مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔

جبکہ عوام فوری نتائج چاہتے ہیں۔ جذباتی ردعمل دیتے ہیں۔ ادھوری معلومات پر رائے بناتے ہیں۔نتیجتاً فہم کی دھند پیدا ہو جاتی ہے۔

جب شعور کمزور ہو جائے تو اختلاف → لڑائی میں بدل جاتا ہے۔ تنقید → نفرت بن جاتی ہے۔ سوال → سازش بن جاتے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم متحد رہیں اور اس بات کو سمجھیں۔

ہمارے معاشرے کا ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی حکومت منتخب ہوتی ہے تو کچھ ہی عرصے بعد لوگ اس کے خلاف باتیں شروع کر دیتے ہیں، خصوصاً سیاست دانوں کے بیانات سے متاثر ہو کر۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام نے ووٹ دے کر کسی حکومت کو منتخب کیا ہے تو کیا اسے اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے؟ نہیں ! ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک حکومت منتخب ہو جائے تو اسے اپنی مدت (چار یا پانچ سال) پوری کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ عوام حکومت کو وقت دیں، اس کی کارکردگی دیکھیں، فیصلوں کا جائزہ لیں، پالیسیوں کا جائزہ لیں۔ اگر ہمیں وہ پسند نہ آئیں تو اگلے انتخابات میں اسے ووٹ نہ دیں۔ لیکن منتخب ہونے کے بعد اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا یا اسے کمزور کرنا دراصل ریاست کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہمیں سمجھداری سے فیصلہ کرنا چاہیے اور آئندہ اسی حکومت کو منتخب کرنا چاہیے جو بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ یہی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے۔

ریاستی پالیسیاں اور عوام

جس طرح آپ اپنے دوست اور دشمن کو پہچانتے اور سمجھتے  ہیں اسی طرح ریاست ، دشمن اور دوست کو ہم سے بہتر پہچانتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ خارجی محاذ پر کون سا قدم کب اٹھانا ہے، اور اندرونی استحکام کے لیے کون سی حکمت عملی ضروری ہے۔ مگر عوام اکثر ان پیچیدہ حقیقتوں کو سادہ جذبات کی عینک سے دیکھتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں فہم کی دھند چھا جاتی ہے اور جب فہم دھندلا جائے تو اختلاف، انتشار میں بدل جاتا ہے۔

یہی وہ دراڑ ہے جہاں دشمن داخل ہوتا ہے۔ یاد رکھیں ،دشمن کبھی سویا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور ہمارا انتشار اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ آج پاکستان کو نعروں سے زیادہ استحکام، اتحاد، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔  اختلاف ضرور کریں، سوال ضرور اٹھائیں، احتساب ضرور مانگیں، مگر ایسا ہرگز نہ ہو کہ دشمن ہماری کمزوریوں پر جشن منانے لگے۔

اس حقیقت کو ہم ایک سادہ مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ ایک پتھر اٹھا کر کسی اکیلے کتے پر پھینکیں، تو وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ جائے گا۔ لیکن اگر وہی پتھر آپ شہد کی مکھیوں کے چھتے پر مار دیں… تو نتیجہ کیا ہوگا؟ وہی پتھر، وہی آپ، مگر ردِعمل مختلف۔ ایسا کیوں ہے؟

کیونکہ وہاں اتحاد ہے۔

مکھیاں بظاہر کمزور ہوتی ہیں، مگر ان کا اتحاد انہیں ناقابلِ شکست بنا دیتا ہے۔

اور یہی سبق ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک قوم ہیں لیکن کیا ہم واقعی ایک ہیں؟

اگر ہم نے ریاست اور حکومت کے فرق کو نہ سمجھا، اگر ہم نے ہر فیصلے کو جذباتی ردعمل سے تولنا جاری رکھا، تو ہم خود اپنے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔ گروہ بندی بڑھے گی، دراڑیں گہری ہوں گی، اور دشمن کے لیے راستے کھل جائیں گے۔

یہ وقت شور کا نہیں۔ شعور کا ہے۔ یہ وقت تقسیم کا نہیں۔ اتحاد کا ہے۔ کیونکہ حقیقت سادہ ہے، اگر ہم متحد رہے تو کمزور ہو کر بھی طاقتور ہیں۔ اگر ہم بکھر گئے تو طاقتور ہو کر بھی کمزور۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے

ہم پتھر بننا چاہتے ہیں  یا چھتہ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں