رات کو پیشاب روکے رکھنے کے خطرناک نقصانات اور گہرے اثرات

پیشاب روکے 0

رات کے وقت پیشاب روکے رکھنا اور پیشاب کرنے میں غیر ضروری تاخیر کرنا ایک ایسی عادت ہے جس کے نقصانات سے اکثر لوگ لاعلم ہوتے ہیں۔

حالانکہ اس کے مثانے، گردوں اور پیشاب کی نالی پر نہایت خطرناک اور دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انسانی جسم ایک منظم اور نہایت حکمت پر مبنی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ اس نظام میں ہر عضو اور ہر عمل کا ایک مقررہ وقت اور طریقہ ہوتا ہے۔ اگر ان قدرتی اشاروں کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو جسم آہستہ آہستہ ردِعمل دینا شروع کر دیتا ہے، جو بظاہر معمولی مگر درحقیقت سنگین بیماریوں کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پیشاب کا عمل بھی انہی فطری اعمال میں شامل ہے جسے وقت پر انجام دینا نہایت ضروری ہے، خصوصاً رات کے وقت جب جسم خود کو آرام اور مرمت کے مرحلے میں ہوتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ»(صحیح مسلم)

کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں (یعنی جب کھانا سامنے ہو اور دل اس کی طرف مائل ہو)، اور نہ اس حالت میں نماز ہے جب آدمی پیشاب یا پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔

یہ حدیث نہایت جامع اور گہری حکمت پر مبنی ہے۔ نبی کریم ﷺ اس فرمان کے ذریعے ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ نماز محض ظاہری حرکات کا نام نہیں، بلکہ یہ توجہ، سکون اور قلبی یکسوئی کے ساتھ ادا کی جانے والی عبادت ہے۔ اگر انسان کا دل کھانے کی طرف لگا ہو یا جسمانی دباؤ (پیشاب یا پاخانہ روکنے) میں مبتلا ہو تو نہ اس کی توجہ قائم رہتی ہے اور نہ ہی نماز کا اصل مقصد حاصل ہو پاتا ہے۔

افسوس کہ آج خاص طور پر سردیوں کے موسم میں ایک غلط رویہ عام ہو چکا ہے۔ لوگ یہ سوچ کر پیشاب روک لیتے ہیں کہ صبح اٹھ  کر، کر لیں گے یا پانی ٹھنڈا ہے، ابھی اسی وضو سے نماز پڑھ لیتے ہیں اور نماز کے بعد پیشاب کر لیں گے۔ حالانکہ شریعتِ اسلام اس طرزِ عمل کی صریح طور پر حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ دین ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ نماز سے پہلے جسمانی ضروریات سے فارغ ہو کر، ہلکا اور مطمئن ہو کر اللہ کے حضور کھڑا ہوا جائے۔

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر اسلام چند منٹ کے لیے بھی پیشاب روکنے کو ناپسند کرتا ہے، تو پھر کوئی شخص اگر پوری رات پیشاب روکے  رکھے، تو اس کے نقصانات کتنے سنگین ہو سکتے ہیں؟ شریعت کی یہ ہدایت محض روحانی نہیں، بلکہ انسانی صحت کے بھی عین مطابق ہے۔

اب ذرا سائنس کی روشنی میں دیکھیں تو جدید طبی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ پیشاب کو بار بار یا طویل وقت تک روکنا مثانے پر دباؤ، پیشاب کی نالی کے انفیکشن، گردوں کے مسائل اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ یعنی جہاں دین ہمیں روحانی نقصان سے بچا رہا ہے، وہیں سائنس جسمانی نقصانات کی تصدیق بھی کر رہی ہے۔

یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ انسان کی زندگی کے ہر پہلو عبادت، صحت اور روزمرہ معمولات سب میں توازن اور آسانی سکھاتا ہے۔

رات کو پیشاب روکے رکھنے اور پیشاب میں تاخیر کے نقصانات

پیشاب روکے

مثانہ انسانی جسم کا ایک عضلاتی عضو ہے جو گردوں کی جانب سے تیار کردہ پیشاب کو عارضی طور پر ذخیرہ کرتا ہے۔ گردے خون کو فلٹر کر کے فاضل مادے، اضافی پانی اور نمکیات کو پیشاب کی صورت میں مثانے تک پہنچاتے ہیں۔ جب مثانہ ایک خاص حد تک بھر جاتا ہے تو اعصابی نظام دماغ کو اشارہ دیتا ہے کہ اب پیشاب خارج کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ ایک نہایت حساس نظام ہے جس میں مثانے کے پٹھے، اعصاب اور پیشاب کی نالی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اگر انسان بار بار دماغ کے اس فطری اشارے کو نظر انداز کرے تو یہ ہم آہنگی متاثر ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں پیشاب کی برقراری (Urinary Retention) یا دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

پیشاب کو روکے رکھنے کے فوری اثرات

جب پیشاب کو روکا جاتا ہے تو سب سے پہلے مثانے پر دباؤ بڑھتا ہے۔ مثانہ ضرورت سے زیادہ پھیلنے لگتا ہے، جس سے اس کے عضلات کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیٹ کے نچلے حصے میں درد، بے چینی، اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔

کئی افراد کو پیشاب روکنے کے دوران یا بعد میں جلن، کھچاؤ یا درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض صورتوں میں پیشاب کے بعد بھی مکمل سکون محسوس نہیں ہوتا کیونکہ مثانہ پوری طرح خالی نہیں ہو پاتا۔ اگر مثانے کو بار بار ضرورت سے زیادہ بھرنے دیا جائے تو اس کے پٹھے آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیشاب کا کنٹرول کمزور ہو جاتا ہے، پیشاب ٹپکنے لگتا ہے، یا پیشاب شروع کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

کچھ افراد کو پیشاب کے لیے زور لگانا پڑتا ہے، جبکہ بعض کو بار بار پیشاب آنے کے باوجود مکمل اخراج نہیں ہو پاتا۔ یہ تمام علامات مثانے کی کمزوری اور پیشاب کی برقراری کی واضح نشانیاں ہیں۔

پیشاب کی نالی کا انفیکشن

پیشاب کو زیادہ دیر تک روکے رکھنے سے مثانے میں موجود پیشاب، جراثیم کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی کی سوزش (UTI) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خواتین میں یہ مسئلہ نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے، مگر مرد بھی اس سے محفوظ نہیں۔

پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی علامات میں جلن، درد، بدبو دار پیشاب، بخار اور بعض اوقات پیشاب میں خون شامل ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو انفیکشن گردوں تک پھیل سکتا ہے، جو ایک نہایت خطرناک صورتحال ہے۔

پیشاب روکنے کےگردوں پر اثرات

گردے پیشاب کے نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ جب پیشاب کو بار بار روکا جاتا ہے تو مثانے میں دباؤ بڑھنے سے پیشاب واپس گردوں کی جانب جانے لگتا ہے، جسے طبی زبان میں بیک فلو کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ پیشاب کی دیر سے اخراج کی عادت گردوں میں نمکیات جمع ہونے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے گردوں کی پتھری بننے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جن کی خاندانی تاریخ میں یہ مسئلہ موجود ہو۔

اعصابی نظام اور پیشاب کا تعلق

پیشاب کا عمل اعصابی نظام کے تحت کنٹرول ہوتا ہے۔ جب انسان بار بار پیشاب کو روکتا ہے تو دماغ اور مثانے کے درمیان سگنلز متاثر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مثانہ درست وقت پر سکڑنے یا ڈھیلنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔ یہ کیفیت مستقبل میں پیشاب پر کنٹرول کھو دینے، اچانک پیشاب آ جانے، یا پیشاب شروع نہ ہونے جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جو نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی دباؤ کا بھی سبب بنتی ہے۔

رات کے وقت جسم پہلے ہی آرام اور بحالی کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ اگر اس دوران مثانہ ضرورت سے زیادہ بھرا رہے تو نیند کا معیار متاثر ہوتا ہے، چاہے انسان بیدار نہ بھی ہو۔ اس کا اثر اگلے دن کی تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ رات کو پیشاب روکنے سے صبح کے وقت پیشاب میں جلن، دباؤ یا درد کا احساس بڑھ سکتا ہے، جو دن بھر کی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

پیشاب

کن افراد کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے؟ بزرگ افراد، ذیابیطس کے مریض، اعصابی بیماریوں میں مبتلا افراد، حاملہ خواتین، زچگی کے بعد کی خواتین، اور پروسٹیٹ کے مسائل رکھنے والے مردوں کو پیشاب روکنے کی عادت سے خاص طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔ ان افراد میں پیشاب کی برقراری، انفیکشن اور گردوں کے مسائل نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، اس لیے معمولی علامات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

پیشاب کے فطری اشارے کو سنجیدگی سے لینا سب سے مؤثر احتیاطی تدبیر ہے۔ جیسے ہی پیشاب کی حاجت محسوس ہو، مناسب اور محفوظ جگہ پر فوراً پیشاب کر لینا چاہیے۔ پانی کا مناسب استعمال، رات کے وقت بہت زیادہ کیفین یا مشروبات سے پرہیز، سونے سے پہلے ٹوائلٹ جانا، اور پیشاب کو عادتاً روکنے سے اجتناب صحت مند پیشاب کے نظام کے لیے نہایت اہم ہے۔

انتباہ : یہ تحریر عام معلومات کے لیے ہے، مزید معلومات کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں