ذہنی تناؤ سے نجات کے لیے 10 بہترین غذائیں

ذہنی تناؤ اور10 بہترین غذائیں 0

اگر آپ ذہنی تناؤ سے نجات چاہتے ہیں تو وہ 10 قدرتی غذائیں جو سائنسی تحقیق کے مطابق دماغ کو سکون، جذبات کو توازن اور زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں استعمال کریں۔

جدید دور کی زندگی بظاہر سہولتوں سے بھرپور دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کو ایک ایسے دباؤ میں مبتلا کر رہی ہے جس کا اثر صرف جسم تک محدود نہیں رہتا بلکہ براہِ راست ذہن، سوچ اور جذبات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ وقت کی کمی، کام کا بوجھ، مالی فکرمندیاں، تعلیمی دباؤ، خاندانی مسائل اور سوشل میڈیا کی مسلسل یلغار یہ سب عوامل ذہنی تناؤ کو معمول بنا چکے ہیں۔

 افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بچے اور نوجوان بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ ذہنی تناؤ اگر وقتی ہو تو انسانی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے، مگر جب یہ مسلسل شکل اختیار کر لے تو بے چینی، چڑچڑاپن، نیند کی کمی، یادداشت کی کمزوری، ڈپریشن، دل کے امراض اور ہاضمے کے مسائل جیسے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔

 زیادہ تر لوگ اس کیفیت سے نجات کے لیے ادویات یا وقتی تفریح کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ ایک نہایت اہم اور قدرتی ذریعہ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے، وہی اس کے جسم اور دماغ کی تعمیر کرتا ہے۔ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ دماغی کیمیائی توازن کو بہتر بنا کر ذہنی سکون، جذباتی استحکام اور مثبت سوچ میں بھی مدد دیتی ہیں۔

ذہنی تناؤ اور غذا کا تعلق

یہ بات اب سائنسی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ دماغ اور نظامِ ہاضمہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ دماغ میں پیدا ہونے والے کیمیائی مادے جیسے سیروٹونین، ڈوپامائن اور کورٹیسول ہمارے مزاج، خوف، خوشی اور دباؤ کی سطح کو کنٹرول کرتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے کئی کیمیکلز کی تیاری کا انحصار براہِ راست اس خوراک پر ہوتا ہے جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

جب انسان ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے تو وہ عموماً فاسٹ فوڈ، میٹھی اشیاء یا چکنائی سے بھرپور غذاؤں کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جو وقتی تسکین تو دیتی ہیں مگر طویل مدت میں تناؤ کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ اس کے برعکس، متوازن اور قدرتی غذائیں دماغ کو وہ اجزاء فراہم کرتی ہیں جو اعصابی نظام کو مضبوط اور پرسکون بناتے ہیں۔

وہ غذائیں جو ذہنی سکون کی بنیاد بنتی ہیں

اب ہم ان دس غذاؤں پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں جو ذہنی تناؤ کے خلاف قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتی ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

پالک، ساگ اور دیگر سبز پتوں والی سبزیاں غذائی اعتبار سے کسی خزانے سے کم نہیں۔ یہ غذائیں فولک ایسڈ، میگنیشیم اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں، جو دماغ میں خوشی پیدا کرنے والے کیمیائی مادوں کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔ ان سبزیوں کا باقاعدہ استعمال نہ صرف بلڈ شوگر کو متوازن رکھتا ہے بلکہ منفی جذبات اور بے چینی کو بھی کم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبز سبزیوں کو ذہنی صحت کا خاموش محافظ کہا جاتا ہے۔

ذہنی تناؤ
ذہنی سکون

دہی

اکثر لوگ ذہنی صحت کو صرف دماغ سے جوڑتے ہیں، مگر حقیقت میں معدہ بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دہی میں موجود مفید بیکٹیریا آنتوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر دماغی سکون پر پڑتا ہے۔ دہی کا استعمال اعصابی تناؤ کو کم کرتا ہے اور جذباتی بے ترتیبی میں نمایاں کمی لاتا ہے۔

دلیہ (اوٹس)

دلیہ ایک سادہ مگر نہایت مؤثر غذا ہے۔ اس میں شامل پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتے ہیں، جس سے خون میں شوگر کی سطح مستحکم رہتی ہے۔ یہی استحکام دماغ میں سیروٹونین کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے، جو سکون اور اطمینان کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ دلیہ نہ صرف ناشتے کے لیے بہترین انتخاب ہے بلکہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے کا ایک قدرتی طریقہ بھی ہے۔

ذہنی دباؤ
ذہنی سکون

مچھلی

مچھلی بالخصوص چکنی مچھلیاں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ اجزاء دماغی خلیات کی ساخت کو مضبوط بناتے ہیں اور تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔ باقاعدگی سے مچھلی کھانے والے افراد میں بے چینی اور ڈپریشن کی شرح کم دیکھی گئی ہے۔

بیریز (خاص طور پر بلیوبیری)

بلیوبیری اور دیگر بیریز اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو جسم کو اندرونی تناؤ سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہیں۔ یہ غذائیں مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ کے خلاف جسمانی ردعمل کو بہتر بناتی ہیں۔

ذہنی دباؤ
ذہنی دباؤ

پستہ اور مونگ پھلی

خشک میوہ جات نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی انسان کو مصروف اور پرسکون رکھتے ہیں۔ پستہ اور مونگ پھلی میں موجود صحت مند چکنائیاں، فائبر اور معدنیات دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھتی ہیں، جس سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے۔

ذہنی سکون

کاجو

کاجو میں موجود زنک اعصابی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور فکرمندی کی سطح کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پروٹین اور صحت مند چکنائیاں بھی شامل ہوتی ہیں جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

ڈارک چاکلیٹ

اعتدال کے ساتھ استعمال کی جانے والی ڈارک چاکلیٹ ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس میں شامل اینٹی آکسیڈنٹس تناؤ سے وابستہ ہارمونز کو کم کرتے ہیں اور دورانِ خون کو بہتر بناتے ہیں، جس کا اثر براہِ راست دماغ پر پڑتا ہے۔

ذہنی تناؤ

ایووکیڈو

ایووکیڈو صحت مند چکنائیوں اور فائبر سے بھرپور پھل ہے جو طویل عرصے تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتا ہے۔ یہ خصوصیت ذہنی دباؤ کے دوران غیر صحت مند کھانے کی خواہش کو کم کرتی ہے اور دماغ کو متوازن توانائی فراہم کرتی ہے۔

ذہنی تناؤ
ذہنی تناؤ

دودھ اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں

وٹامن ڈی کو خوشی کا وٹامن بھی کہا جاتا ہے۔ دودھ، انڈے کی زردی اور مچھلی اس کا اچھا ذریعہ ہیں۔ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار ذہنی خوف، بے چینی اور ڈپریشن کے امکانات کو کم کرتی ہے۔

ذہنی تناؤ جدید زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے، مگر یہ ناقابلِ علاج نہیں۔ قدرت نے ہمارے اردگرد ایسی بے شمار غذائیں مہیا کر رکھی ہیں جو نہ صرف جسم کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ دماغ کو سکون اور دل کو اطمینان بھی عطا کرتی ہیں۔ اگر ہم شعوری طور پر اپنی روزمرہ خوراک میں ان غذاؤں کو شامل کریں تو نہ صرف ذہنی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں بلکہ ایک متوازن، صحت مند اور خوشگوار زندگی کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ صرف ایک یا دو غذاؤں کو خوراک میں شامل کر لینا کافی نہیں۔ اصل فائدہ تب حاصل ہوتا ہے جب مجموعی غذائی عادات متوازن ہوں۔ مناسب نیند، پانی کا وافر استعمال، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالنا یہ سب عوامل غذا کے اثر کو دوچند کر دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں