خدا نظر کیوں نہیں آتا؟ سائنس کا سوال، قرآن کا فیصلہ کن جواب

خدا نظر کیوں نہیں آتا 0

انسان ازل سے ایک بنیادی سوال پوچھتا آ رہا ہے، اگر خدا موجود ہے تو وہ خدا نظر کیوں نہیں آتا؟

یہ سوال صرف عام انسان ہی نہیں بلکہ بڑے سائنسدانوں، فلسفیوں اور مفکرین کے ذہن میں بھی رہا ہے۔ 

جدید سائنس نے کائنات کے بے شمار راز کھول دیے، مگر خدا کو آنکھوں سے دکھانے میں ناکام رہی۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا موجود نہیں؟ یا پھر مسئلہ ہماری سمجھ اور دیکھنے کی صلاحیت کا ہے؟

آج خدا کے انکار کی وجہ زیادہ تر مذہب نہیں بلکہ سائنس کے نام پر دیے گئے دلائل بن چکے ہیں۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ خود سائنس خدا کے نہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی، بلکہ یہ سوال اس کے دائرے سے باہر ہے۔ پہلے ہم چند سائنسدانوں کے نظریات بیان کریں گے، اس کے بعد اس معاملے پر سائنس کا نقطۂ نظر پیش کریں گے تاکہ بات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

Richard Dawkins کا مؤقف

رچرڈ ڈاکنز جدید الحاد کی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ وہ اپنی کتاب The God Delusion میں کہتے ہیں کہ خدا کی ضرورت نہیں، کیونکہ ارتقاء (Evolution) اور قدرتی انتخاب (Natural Selection) زندگی کی وضاحت کر دیتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم فرق ہے:

ارتقاء یہ بتاتا ہے کہ زندگی بدلتی کیسے ہے،ارتقاء یہ نہیں بتاتا کہ زندگی شروع کیسے ہوئی

اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کہیں کہ ایک موبائل فون وقت کے ساتھ اپڈیٹ ہوتا ہے، تو یہ بات درست ہے۔ لیکن سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔ یہ پہلا موبائل کس نے بنایا؟

قدرتی انتخاب اسی وقت کام کرتا ہے جب پہلے سے کوئی زندہ نظام موجود ہو۔ خود ڈاکنز یہ مانتے ہیں کہ زندگی کے آغاز کی مکمل وضاحت ابھی ہمارے پاس نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کا انکار سائنسی نتیجہ نہیں بلکہ ذاتی فلسفیانہ انتخاب ہے۔

ڈاکنز یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا کو وہاں مان لیا جاتا ہے جہاں سائنس جواب نہ دے سکے، یعنی “God of the gaps”۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

یہاں خدا کو لاعلمی کی بنیاد پر نہیں بلکہ موجود علم کی بنیاد پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے، جیسے کائنات کا آغاز، قدرتی قوانین، معلومات اور ترتیب۔ یہ سوال اس لیے نہیں اٹھایا جاتا کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں بہت کچھ معلوم ہے۔

Stephen Hawking کا دعویٰ

اسٹیفن ہاکنگ نے کہا کہ چونکہ کششِ ثقل موجود ہے، اس لیے کائنات خود کو وجود میں لا سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک منطقی مسئلہ ہے۔کششِ ثقل خود ایک قانون ہے، قانون خود کچھ پیدا نہیں کرتا۔ ٹریفک کا قانون یہ بتاتا ہے کہ گاڑیاں کیسے چلیں گی،لیکن یہ قانون خود گاڑی نہیں بناتا۔ اسی طرح، کششِ ثقل یہ بتاتی ہے کہ مادہ کیسے برتاؤ کرے گا، یہ نہیں بتاتی کہ مادہ آیا کہاں سے۔ اسی لیے کئی فلسفیوں نے کہا کہ ہاکنگ نے فلسفیانہ سوال کو طبیعی زبان میں حل کرنے کی کوشش کی، جو ناکام رہی۔

Albert Einstein کا نقطۂ نظر

آئن اسٹائن کو اکثر خدا کے انکار کے حق میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس معاملے میں بہت محتاط تھے۔ وہ ذاتی خدا کے تصور سے متفق نہ تھے، مگر وہ کائنات کی حیران کن ترتیب اور قابلِ فہم ہونے کو کسی اعلیٰ عقل کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا مشہور جملہ: کائنات کے بارے میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ وہ سمجھ میں آتی ہے۔ یہ بات خود اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانی عقل اور کائنات کے قوانین کے درمیان گہرا تعلق ہے۔

Paul Davies کی بات

ماہرِ طبیعیات Paul Davies کہتے ہیں: اصل سوال یہ نہیں کہ قوانینِ فطرت کیسے کام کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ قوانین موجود کیوں ہیں؟ سائنس قوانین کا استعمال تو کرتی ہے، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ وہ وجود میں آئے کہاں سے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فلسفہ اور الٰہیات داخل ہوتے ہیں۔

Sam Harris اور اخلاقیات

Sam Harris اخلاقیات کو ارتقائی فائدے سے جوڑتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح اخلاقیات کی کوئی پکی بنیاد نہیں بنتی۔اگر اخلاق صرف فائدے کا نام ہو، تو، طاقتور کا کمزور پر ظلم اصولی طور پر غلط نہیں رہتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان فطری طور پر جانتا ہے۔ کچھ کام ہر حال میں غلط ہیں۔ یہ فطری اخلاقی احساس اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اخلاقیات کسی اعلیٰ اخلاقی منبع سے آئی ہیں، نہ کہ اندھے قدرتی عمل سے۔

یہ تھے چند سائنس دانوں کے نظریات۔ آپ نے دیکھ لیا کہ وہ خود ایک دوسرے کے موقف سے متفق نہیں ہیں؛ ایک کا موقف کچھ اور ہے تو دوسرے کا کچھ اور۔ لہٰذا خدا کا انکار سائنسی دعویٰ نہیں بلکہ فلسفیانہ مؤقف ہے۔ 

اب ذرا قران کا نظریہ بھی تو دیکھیں قرآن کا اسلوب یہاں ایک بار پھر منفرد نظر آتا ہے۔ وہ نہ تو خدا کو سائنسی خلا میں رکھتا ہے اور نہ ہی انسان کو اندھی تقلید کی دعوت دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر یہ کائنات بے مقصد ہوتی تو اس میں یہ ترتیب، یہ قانون اور یہ توازن نہ ہوتا۔ وہ انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دلیل مانگے، غور کرے، سوال کرے، مگر ضد نہ کرے۔ قران انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اس کائنات پر غور کرو اور دیکھو اس میں کیا کوئی نقص ہے

آج جدید سائنس اس بات پر تقریباً متفق ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی بلکہ اس کا ایک آغاز ہوا۔ پہلے یہ خیال عام تھا کہ کائنات ازل سے ہے، مگر بعد میں سائنسی مشاہدات نے یہ تصور بدل دیا۔

سائنس دانوں نے دیکھا کہکہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ ہر طرف ایک خاص قسم کی روشنی موجود ہے (Cosmic Microwave Background) یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماضی میں ایک ایسا لمحہ تھا جب کائنات کا آغاز ہوا۔

اب ایک سادہ سوال پیدا ہوتا ہے جو چیز شروع ہوتی ہے، وہ خود بخود کیسے شروع ہو سکتی ہے؟ مثال کے طور پر اگر آپ کہیں کہ یہ عمارت کل بنی ہے، تو فوراً سوال آئے گا کس نے بنائی؟ اسی طرح، جب کائنات کا آغاز مان لیا جائے، تو عقل خود بخود پوچھتی ہے۔ اس آغاز کی وجہ کیا تھی؟ سائنس یہاں تک تو بتا دیتی ہے کہ آغاز ہوا، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ کیوں ہوا۔

انسانی عقل فطری طور پر یہ مانتی ہے کہ ہر اثر کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ یہی اصول روزمرہ زندگی اور سائنس دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بیماری کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ حادثے کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ تجربات میں نتیجہ ہمیشہ کسی عمل سے نکلتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ کائنات بغیر کسی سبب کے بن گئی، تو وہ دراصل اسی اصول کو رد کر رہا ہوتا ہے جس پر سائنس خود کھڑی ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ  کائنات کو کس نے شروع کیا؟ اگر کائنات کا آغاز ہوا، ہر آغاز کا کوئی سبب ہوتا ہے تو پھر اس سبب کی کچھ خصوصیات لازماً ہوں گی:

غیر مادی : کیونکہ مادہ خود کائنات کے ساتھ پیدا ہوا

وقت سے آزاد :  کیونکہ وقت بھی کائنات کے ساتھ شروع ہوا

طاقتور :  کیونکہ پوری کائنات کو وجود میں لانا معمولی بات نہیں

صاحبِ ارادہ : کیونکہ قوانین خود سے آغاز نہیں کرتے

یہ باتیں کسی مذہبی کتاب سے نہیں، بلکہ سیدھی عقل سے نکلتی ہیں۔

 

ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کائنات قوانین کے مطابق چلتی ہے۔ ریاضی اس پر لاگو ہوتی ہے۔ انسان اسے سمجھ سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تالا اور چابی ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں ۔ اگر کائنات محض اندھی طاقتوں کا نتیجہ ہوتی تو بے ترتیب ہوتی، قابلِ فہم نہ ہوتی، پیش گوئیاں ممکن نہ ہوتیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جدید سائنس کے مطابق وقت کوئی الگ چیز نہیں، وقت بھی کائنات کے ساتھ شروع ہوا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات سے پہلے کوئی ایسا وجود ہونا چاہیے جو وقت کا محتاج نہ ہو

یہ تصور خدا کے اس وصف سے میل کھاتا ہے جسے ازلی، ابدی کہا جاتا ہے۔ قرآن کا انداز دیکھیں قرآن کوئی سائنسی کتاب نہیں، مگر وہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔وہ کہتا ہے۔آسمان و زمین کو دیکھو،نظم پر غور کرو، اپنے وجود پر سوچو وہ اندھا یقین نہیں مانگتا، بلکہ عقل کو جگاتا ہے۔

خدا کا تصور نہ سائنس کے خلاف ہے نہ عقل کے خلاف بلکہ کائنات کے آغاز، اس کے نظم اور اس کے قابلِ فہم ہونے کی سب سے معقول وضاحت ہے۔انکار اصل میں جواب سے بچنا ہے،، جبکہ ایمان ایک عقلی نتیجہ بن جاتا ہے۔

سائنس یہ بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں۔ سائنس یہ نہیں بتا سکتی کہ چیزیں کیوں موجود ہیں۔ مقصد، معنی اور اخلاقیات سائنس سے باہر کے سوال ہیں۔ جب کوئی شخص سائنس کے نام پر خدا کا انکار کرتا ہے، تو وہ دراصل سائنس نہیں بلکہ فلسفہ بول رہا ہوتا ہے۔

خدا نظر کیوں نہیں آتا

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ Quantum Physics میں سبب ختم ہو جاتا ہے، اس لیے کائنات بھی بے سبب ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں۔ کوانٹم دنیا میں کچھ چیزیں ہمیں غیر یقینی لگتی ہیں، مگر یہ ہماری پیمائش کی حد ہے، حقیقت میں قوانین کا خاتمہ نہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو اندھیرے میں چیز صاف نظر نہ آئے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ چیز موجود ہی نہیں۔ خود کوانٹم فزکس بہت سخت ریاضیاتی قوانین پر قائم ہے۔ اگر وہاں واقعی کوئی قانون نہ ہوتا، تو پورا نظریہ ہی نہ بن پاتا۔

انسانی آنکھ اور دیکھنے کی حدیں (سائنسی حقیقت)

سائنس کے مطابق انسان کی آنکھ صرف ایک مخصوص حد تک ہی چیزوں کو دیکھ سکتی ہے۔ ہم ہوا کو نہیں دیکھتے مگر اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ ہم کششِ ثقل (Gravity) کو نہیں دیکھتے مگر اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ہم ریڈیو ویوز، ایکس ریز، مقناطیسی لہریں نہیں دیکھ سکتے۔

اب سوال یہ ہے جو چیز نظر نہ آئے، کیا وہ لازماً موجود نہیں ہوتی؟ سائنس خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کائنات کا 95 فیصد حصہ (Dark Matter & Dark Energy) آج بھی انسان کی نظروں سے اوجھل ہے۔تو پھر خدا کو صرف اس بنیاد پر جھٹلانا کہ وہ نظر نہیں آتا کیا یہ سائنسی رویہ ہے؟

 قرآن مجید اس سوال کو بالکل مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:  نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ (سورۃ الانعام: 103)

قرآن کے مطابق خدا مادی (Physical) نہیں، وہ زمان و مکان کا محتاج نہیں، اس لیے اسے مادی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں، یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے روح جسم میں ہے مگر نظر نہیں آتی، عقل موجود ہے مگر دکھائی نہیں دیتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں