خانہ کعبہ کی روشنی خلا سے کیسے نظر آتی ہے ناسا

کعبہ 0

صدیوں سے مسلمانوں کا ایک عقیدہ رہا ہے کہ خانہ کعبہ زمین کا سب سے اولین تعمیر شدہ مقامِ عبادت ہے۔ ہر مسلمان روزانہ اپنی نماز میں اس عظیم عمارت کی سمت رخ کرتا ہے۔

دنیا میں وہ لمحات بہت کم ہوتے ہیں جب سائنس اور روحانیت کی راہیں کسی ایک مقام پر اکٹھی ہوتی نظر آئیں۔ عموماً یہ دونوں دنیائیں اپنے اپنے زاویوں میں کام کرتی ہیں۔ ایک تجربہ اور تحقیق کے راستے پر، دوسری ایمان، فہم اور باطنی احساس کے سفر پر۔ لیکن جب زمین کے مدار میں موجود ایک خلا نورد اپنی کیمرے کی آنکھ سے مکہ مکرمہ کا منظر قید کرتا ہے اور روشنیوں کے اس مرکز میں خانۂ کعبہ ایک چمکتے ہوئے ہیرے کی طرح نمایاں نظر آتا ہے، تو یہ صرف ایک تصویر نہیں رہتی بلکہ یہ ایک ایسا لمحہ بن جاتا ہے جو پوری دنیا کے دل کو چھو لیتا ہے۔

خانہ کعبہ کی تصاویر

حالیہ برسوں میں خلا سے لی جانے والی لاتعداد تصاویر منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ زمین کے پہاڑ، دریا، ساحل، جنگلات، صحرا، شہر، سب کچھ خلا سے ایک نقش و نگار کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب بات مسجد الحرام کے دل میں موجود خانۂ کعبہ کی ہو، تو تجربہ مختلف ہو جاتا ہے۔ اس درخشاں تصویر نے نہ صرف مسلم دنیا کو، بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت اور تجسس میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسی تناظر میں ناسا کے مشہور سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ (Donald Pettit) کی جانب سے شیئر کی گئی وہ تصویر جس میں مکہ مکرمہ کا منظر خلا سے دکھایا گیا ہے، سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ اس دلکش تصویر میں خانۂ کعبہ ایک روشن نقطے کی طرح پوری وادی کے اندھیرے میں چمک رہا ہے۔ یہ صرف ایک منظر نہیں، بلکہ ایک احساس ہے ایک ایسی جھلک جو ظاہر کرتی ہے کہ مقدس مقامات کی روحانی قدر کبھی بھی زمین تک محدود نہیں رہتی۔

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد مسلمان اس ایک مقام سے جڑتے ہیں۔ مگر یہ تصور کہ کعبہ خلا سے بھی نظر آ سکتا ہے کچھ عرصے پہلے تک صرف ایک دعویٰ یا مبالغہ سمجھا جاتا رہا۔

کئی ممالک کے جغرافیائی نشانات خلا سے نظر آتے ہیں، جیسے اہرامِ مصر،چین کی عظیم دیوار،وادیوں کے قدرتی فارمیشن، مگر کعبہ کے معاملے میں لوگ حیران تھے یہ کوئی بہت اونچی یا غیر معمولی بلندی کے ساتھ تعمیر کردہ عمارت نہیں۔ پھر آخر یہ خلا سے کیسے نظر آتا ہے؟

یہ سوال تب مزید اہم ہو گیا جب ڈونلڈ پیٹٹ نے خلا سے کھینچی گئی ایک تصویر اپنے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ پر شیئر کی جس میں مکہ مکرمہ کے اندھیرے میں اُبھرتی روشنی سب کو حیران کر رہی تھی، اور اس روشنی کے مرکز میں موجود تھاکعبہ۔ یہ تصویر صرف ایک فوٹوگرافی کا نمونہ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی کہ آخر یہ چمک کیوں اور کیسے پیدا ہو رہی ہے؟

ڈونلڈ پیٹٹ تقریباً 220 دن کے مشن پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) میں موجود رہے، جہاں سے وہ روزانہ زمین کے مختلف مناظر کی تصاویر بناتے تھے۔ خلا نوردوں کے لیے زمین کا ہر شہر کسی نہ کسی نوعیت کی روشنی ظاہر کرتا ہے، مگر جب پیٹٹ نے مکہ مکرمہ کو دیکھا، تو منظر بالکل جدا تھا۔ انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا مرکز میں دکھائی دینے والی روشن جگہ اسلام کا مقدس ترین مقام، خانۂ کعبہ ہے۔ یہ خلا سے بھی نظر آتا ہے۔

یہ جملہ لوگوں کے دل میں جذب کی طرح اترا۔ کئی افراد نے اسے صرف مذہبی عقیدت کی نشانی سمجھا، کئی نے سائنسی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیا، جبکہ بعض غیر مسلم صارفین بھی اس منظر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ تصویر میں مسجد الحرام کے وسیع صحن کے درمیان ایک روشنی پھیلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اردگرد کی وادیاں اور پہاڑ سیاہ دھبوں کی طرح نظر آ رہے ہیں، مگر مسجد الحرام کا علاقہ چمکتا ہوا نمایاں ہے، گویا اندھیری زمین پر روشن ستارے کا ٹکڑا رکھ دیا گیا ہو۔

یہ منظر اتنا دلکش تھا کہ تصویر وائرل ہوگئی اور دنیا بھر کے میڈیا، بلاگز، سوشل پلیٹ فارمز اور مذہبی مباحث میں موضوعِ گفتگو بن گئی۔

تصویر پر دنیا بھر کے لوگوں کے ردِ عمل

جب یہ تصویر انٹرنیٹ پر شیئر ہوئی تو لوگوں کے ردِ عمل نے اس موضوع کو مزید عروج پر پہنچا دیا۔

ایوان کیورگا نے لکھا یہ منظر ایسا ہے جیسے کائنات خود اس مقام کی روشنی سے منور ہو رہی ہو۔
ادیب کامل نے بیان کیا مدار سے کعبہ کی چمک ایک روحانی روشنی کی طرح محسوس ہوتی ہے، گویا زمین آسمان سے گفتگو کر رہی ہو۔
سائنسی دلچسپی کئی صارفین بڑھی ہوئی چمک کے بارے میں AI سے سوال کر رہے تھے، جس کا جواب تھا کہ یہ مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے ہے۔

ایک صارف نے لکھا تمام مذاہب اور مقدس مقامات قابلِ احترام ہیں۔ یہ منظر انسانیت کو متحد کرتا ہے۔
بعض صارفین نے کہا جب ہماری نظر کمزور پڑ جائے تو ہمیں خلا سے دیکھنا چاہیے
یہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں کہ تصویر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی یہ ایک عالمی تاثر بن گئی۔

اگرچہ سائنس روشنیوں کی وضاحت کرتی ہے، مگر دل کا معاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔ مسلمان یہ تصویر دیکھ کر فخر اور عقیدت سے بھر جاتے ہیں، کیونکہ روزانہ کروڑوں دعائیں اسی جگہ سے جڑتی ہیں۔ مسلمانوں کے دل اسی سمت مائل ہوتے ہیں۔ حج و عمرہ کے لیے لاکھوں انسان مسلسل وہاں موجود رہتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خلا سے نظر آنے والا یہ نور انسانوں کے روحانی تعلق کی علامت ہو۔

یہ تصویر اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کیا مقدس مقامات کی اہمیت صرف زمین تک محدود رہتی ہے؟ یا کیا یہ مقام آسمانوں تک روشنی بکھیرتا ہے؟ یہ سوالات عقیدت کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں، مگر تصویر کا اثر سب کے دلوں پر یکساں پڑا ہے۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر چکر لگاتا ہے۔ وہاں سے شہر روشنی کے دھبوں کی طرح، سمندر گہرے نیلے پردے کی طرح، پہاڑ سیاہ ابھار کی شکل میں
اورصحرا سنہری تہوں کی مانند نظر آتے ہیں۔ مگر مذہبی مقامات اپنی روحانی اہمیت کے باعث مختلف احساس پیدا کرتے ہیں۔ کئی خلا نوردوں نے یہ بات بیان کی کہ جب ہم زمین کو خلا سے دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت ایک ہی گھر میں رہتی ہے۔ مکہ کی یہ تصویر اسی احساس کو مزید گہرا کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں