جڑواں بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

جڑواں بچے 0

جڑواں بچوں کے حوالے سے کئی طرح کی باتیں مشہور ہیں کیا وہ ایک دوسرے کا درد محسوس کرتے ہیں؟ کیا ان کے ذہن جُڑے ہوتے ہیں؟ کیا وہ ایک جیسے فیصلے کرتے ہیں؟ اور جڑواں بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

یہ سب سوالات لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ کچھ باتیں افسانوں اور کہانیوں کا حصہ ہیں، کچھ تحقیق سے درست ثابت ہو رہی ہیں، اور کچھ اب بھی راز کی طرح الجھی ہوئی ہیں۔

اولاد خدا کی سب سے خوبصورت نعمتوں میں سے ایک ہے، اور جب یہ نعمت ایک ساتھ دو یا زیادہ بچوں کی صورت میں ملے تو خوشی، حیرت اور تجسس کی کیفیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ جڑواں بچوں کے بارے میں دنیا بھر کے لوگوں میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔ کبھی ان کے ایک جیسے چہروں پر حیرت ہوتی ہے، کبھی ان کی باہمی ہم آہنگی پر، اور کبھی ان غیر معمولی واقعات پر جو محققین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

جڑواں بچے کون ہوتے ہیں؟ سائنس کیا کہتی ہے؟

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ جڑواں بچوں کا مطلب ہے دو بچے جو اکٹھے پیدا ہوئے ہوں یا ایک جیسے لگتے ہوں، لیکن یہ پوری حقیقت نہیں ہے۔ جڑواں بچوں کی دو بنیادی اقسام ہیں، اور دونوں میں فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

1۔ ہم شکل (Identical Twins) یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو ایک ہی بیضے اور ایک ہی سپرم کے ملنے سے وجود میں آتے ہیں۔ حمل ٹھہرنے کے فوراً بعد بیضہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں دو ایمبریو بنتے ہیں۔  یہ دونوں بچے تقریباً 100% جینیاتی طور پر ایک جیسے ہوتے ہیں، ان کی شکل و صورت حیرت انگیز حد تک ملتی جلتی ہوتی ہے، عموماً دونوں کی جنس بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔ دنیا میں ہر ایک ہزار پیدائش میں سے تقریباً تین پیدائشیں ہم شکل جڑواں بچوں کی ہوتی ہیں، اس لیے یہ نسبتاً نایاب اور بہت خاص سمجھے جاتے ہیں۔

2۔ غیر ہم شکل (Fraternal / Non-identical Twins) یہ جڑواں بچے دو الگ الگ انڈوں سے بنتے ہیں، جو مختلف سپرمز سے بار آور ہوتے ہیں۔ یہ عام بہن بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، مگر پیدائش ایک ہی وقت میں ہوتی ہے۔ ایسے جڑواں جسمانی طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے، جنس ایک جیسی بھی ہو سکتی ہے اور مختلف بھی، ان میں جینیاتی مماثلت تقریباً 50% تک ہوتی ہے (بالکل عام بہن بھائیوں کی طرح)۔ دنیا میں زیادہ تر جڑواں بچے اسی قسم کے ہوتے ہیں۔

جڑواں بچوں کی ذہنی ہم آہنگی

یہ وہ پہلو ہے جس نے سائنسدانوں کو دہائیوں سے حیران کر رکھا ہے۔ امریکہ کی مشہور ماہر نفسیات اور جینیاتی محقق پروفیسر نینسی سیگل نے اپنی پوری زندگی جڑواں بچوں کی تحقیق پر لگائی۔ ان کا کہنا ہے کہ جڑواں بچے ہمیں قدرت کی طرف سے ایک نایاب قدرتی تجربہ فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہماری شخصیت کہاں تک وراثت (Nature) سے بنتی ہے؟ اور کہاں تک پرورش (Nurture) کا اثر ہوتا ہے؟

سب سے حیران کن نتائج ان جڑواں بچوں پر تحقیق سے سامنے آئے جو پیدائش کے فوراً بعد جدا ہو گئے اور مختلف خاندانوں میں پلے بڑھے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے طرزِ فکر ملتے جلتے نکلے، پسند ناپسند ایک جیسی تھیں، کچھ کے کھانے پینے کے طریقے تک ایک جیسے تھے، کچھ ایک جیسے لباس، زیورات یا روزمرہ کی معمولات رکھتے تھے۔

یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ شخصیت کے کئی پہلو جینیاتی طور پر طے ہوتے ہیں۔

سائنسی تاریخ کا سب سے حیران کن کیس امریکہ میں پیدا ہونے والے دو جڑواں بھائی جن کا نام دونوں کا جم تھا، پیدائش کے بعد الگ ہو گئے۔ جب وہ 39 سال بعد ملے تو ان کی زندگیاں ایک دوسرے کا عکس لگیں۔

دونوں نے پہلی شادی لنڈا نامی لڑکی سے اور دوسری بیٹی سے کی، دونوں کے بیٹے کا نام جیمز ایلن تھا، دونوں ناخن چباتے تھے، دونوں کا پالتو کتا ٹوائے نام کا تھا۔

 

یہ مماثلتیں سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال گئیں کہ آخر انسانی رویوں پر جینز کا اثر کس حد تک ہے؟ایک جیسے نام والی خواتین سے شادی،ایک ہی برانڈ کا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا،ایک ہی دن، ایک جیسی چیزیں پہن کر ملنا،حتیٰ کہ دونوں کے پالتو کتے کا نام بھی ایک جیسا رکھنا،  یہ سب اتفاق نہیں بلکہ جینیاتی قوتوں کی طاقت ہے جو انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

مشہور فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے کہ اگر ایک جڑواں کو چوٹ لگے تو دوسرا بھی درد محسوس کرتا ہے۔ ایک زمانے تک اسے محض افسانہ سمجھا جاتا رہا، مگر حالیہ تحقیق نے اسے جزوی طور پر درست ثابت کیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ، ایڈن برگ اور کمبرج یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جڑواں بچوں کے دماغ میں نیورل ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی تکلیف یا جذبات کو عام بہن بھائیوں کی نسبت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

کچھ کیسز میں واقعی ایسا ہوا کہ ایک جڑواں کو چوٹ لگی اور دوسرے نے بغیر کسی جسمانی وجہ کے اسی جگہ درد محسوس کیا۔ یہ سچ ہے کہ وہ جادوئی ٹیلی پیتھی نہیں رکھتے، مگر ان کے دماغوں میں جذباتی ہم آہنگی کا نظام بہت مضبوط ہوتا ہے، جس سے یہ احساساتی تکلیف محسوس کر سکتے ہیں۔

جڑواں بچوں کی پیدائش کیوں ہوتی ہے؟

پچھلے چند دہائیوں میں جڑواں بچوں کی پیدائش میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔ ہر سال دنیا میں تقریباً 16 لاکھ جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں یعنی ہر 42 میں سے ایک پیدائش جڑواں ہوتی ہے۔ جڑواں بچے پیدا ہونے کی کئی وجوہات ہیں جیسے دیر سے شادی، دیر سے بچے پیدا کرنا، فرٹیلٹی علاج، حمل روکنے والی ادویات کا استعمال

1۔ موروثی عوامل (Genetics) اگر خاندان میں جڑواں بچوں کی تاریخ ہو، خاص طور پر ماں کے خاندان میں، تو جڑواں بچوں کی پیدائش کے امکانات 60% تک بڑھ جاتے ہیں۔

2۔ ماں کی عمر 30 سال سے زیادہ ہونا 30 سال سے زائد عمر میں خواتین کے جسم میں کبھی کبھار ایک ہی وقت میں دو انڈے خارج ہوتے ہیں، جس سے غیر ہم شکل جڑواں بچے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

3۔ وزن اور قد تحقیق کے مطابق لمبی اور صحت مند جسامت والی خواتین میں جڑواں بچوں کے امکانات زیادہ، مگر ایشیائی خواتین میں یہ شرح نسبتاً کم ہے۔

4۔ باڈی ماس انڈیکس (BMI) جن خواتین کا BMI 30 یا زیادہ ہو، ان میں جڑواں حمل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

5۔ زرخیزی (Fertility Treatments) جدید طبی طریقوں جیسے IVF، ICSI اور فرٹیلٹی دواؤں نے جڑواں بچوں کی شرح میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

جڑواں حمل کی علامات، پیچیدگیاں اور دیکھ بھال

جڑواں حمل عام حمل سے کچھ مختلف ہوتا ہے۔ کچھ نمایاں علامات یہ ہیں

صبح کی شدید متلی، وزن میں تیزی سے اضافہ، پیٹ کا معمول سے بڑا ہونا، ایک سے زیادہ جگہوں پر جنین کی حرکت محسوس ہونا، شدید تھکاوٹ، بھوک میں اضافہ، بار بار پیشاب آنا

ممکنہ پیچیدگیاں

جڑواں حمل کے دوران،حمل ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، قبل از وقت پیدائش، کم وزن والے بچے، جڑواں، جڑواں ٹرانسفیوژن سنڈروم (TTTS)، انیمیا، سیزرین ڈیلیوری کی ضرورت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

دیکھ بھال کے اہم نکات

غذائیت سے بھرپور خوراک، ہر بچے کے لیے روزانہ کم از کم 300 اضافی کیلوریز، بھرپور پانی، ہلکی ورزش، یوگا،مکمل آرام، قبل از پیدائش کے باقاعدہ معائنے، کسی بھی علامت میں تبدیلی پر فوراً ڈاکٹر سے رابطہ۔

جڑواں بچے جہاں سائنسی تحقیق میں دلچسپی کا باعث بنتے ہیں، وہیں معاشرے میں بھی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔

بینن  جڑواں بچوں کی سرزمین افریقی ملک Benin میں دنیا کی سب سے زیادہ جڑواں پیدائش ہوتی ہے۔ وہاں ایک ہزار میں سے 28 بچے جڑواں پیدا ہوتے ہیں۔

NASA کا جڑواں بھائیوں پر تجربہ خلاء میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد خلا باز اسکاٹ کیلی کے ٹیلومیئرز (chromosomes کے محافظ حصے) اپنے جڑواں بھائی کی نسبت لمبے ہو گئے۔

یہ حیرت انگیز دریافت انسانی عمر اور خلائی سفر پر نئی تحقیق کے دروازے کھولتی ہے۔

جڑواں بچوں کی پیدائش ایک خاص نعمت ہے، مگر یہ تجربہ اپنی جگہ ایک چیلنج بھی ہے۔ انہیں ایک ہی وقت میں سنبھالنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، دونوں کی انفرادی شخصیت برقرار رکھنا والدین کے لیے ایک بڑا امتحان ہو سکتا ہے۔ مگر جڑواں بچوں کے درمیان جو محبت، دوستی، اعتماد اور جذباتی رشتہ ہوتا ہے، وہ دنیا کے کسی اور رشتے میں شاید ہی دیکھنے کو ملتا ہو۔ جڑواں بچوں کی تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی شخصیت فطرت اور پرورش کا حسین امتزاج ہے۔ دونوں عوامل مل کر ہمیں وہ بناتے ہیں جو ہم ہیں۔ اور یہی انسانی زندگی کی خوبصورتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں