جوتوں کی دکان سے سبزی منڈی تک، ہماری ترجیحات اور صفائی کا المیہ
ہمارے بازاروں کا المیہ! جوتوں کی دکان سے لے کر کھلونوں کی دکانیں تک صاف ستھری جبکہ سبزی منڈی اور بیکری میں گندگی اور بدبو۔ صفائی کی اصل ذمہ داری کس کی ؟
کبھی کبھی زندگی کے چھوٹے چھوٹے مشاہدے انسان کو بڑی گہری سوچ کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مشاہدہ اس وقت ہوا جب میں جوتا خریدنے بازار گیا۔ سخت گرمی ، سورج سوا نیزے پر اور پسینے کے دریا بہہ رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی میں جوتوں کی دکان میں داخل ہوا تو ماحول یکسر بدل گیا۔ ٹھنڈک کا احساس، اے سی کی خنکی، صاف ستھری ٹائلوں کی چمک اور سلیقے سے سجے ہوئے جوتے۔ ایک سکون سا دل میں اتر آیا۔ آرام سے جوتا خریدا اور یہ سوچ کر باہر نکلا کہ سبزی بھی لیتا چلوں۔
لیکن جیسے ہی سبزی منڈی پہنچا، نقشہ ہی بدل گیا۔ وہاں داخل ہوتے ہی بدبو کا ایک بھبھکا سا ناک میں گھسا، یوں لگا جیسے سانس لینا دشوار ہو گیا ہو۔ زمین پر گندے پانی کے جوہڑ، ہر طرف سڑتی ہوئی سبزیاں، گلے سڑے ٹماٹروں کے ڈھیر اور مکھیاں۔ رکنا مشکل، چلنا دشوار۔ بڑی مشکل سے سبزی خریدی اور جیسے ہی نکلنے لگا تو ایک سبزی فروش نے گلے ہوئے ٹماٹر سڑک کنارے پھینکے جس کے چھینٹے میرے کپڑے بھی خراب کر گۓ۔ لمحہ بھر کے لیے دل میں آیا کہ یہ سب چھوڑ کر بھاگ نکلوں۔ لیکن کیا کرتا، کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔
یہ دونوں تجربات ایک ساتھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جوتوں کی دکان جہاں صرف پہننے کی چیز بکتی ہے، وہاں صاف ستھرا اور پرسکون ماحول۔ دوسری طرف وہ سبزی منڈی جہاں انسان کی بنیادی ضرورت کھانے کی چیزیں ملتی ہیں، وہاں گندگی اور تعفن کی انتہا۔
اسی روز پھرجب میں نے بیکری کا رخ کیا تاکہ مہمانوں کے لیے بھی تو کچھ لیتا چلوں، وہاں پہنچا تو حیرت مزید بڑھ گئی۔ بیکری میں شیلف پر سجی ہوئی مٹھائی کے اوپر مکھیوں کے جُھنڈ ایسے منڈلا رہے تھے جیسے کسی نے وہاں شربت کا چھڑکاؤ کر دیا ہو۔ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ جو چیز براہِ راست ہمارے جسم کا حصہ بنتی ہے، اس پر صفائی کا کوئی خاص اہتمام نہیں۔ لیکن دوسری طرف بچوں کے کھلونے کی دکان پر پہنچا تو پھر صاف ستھرا اور پُرسکون ماحول نظر آیا۔
یہ تضاد بتاتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی ترجیحات میں کس قدر الٹ سوچ رکھتے ہیں۔ جو چیزیں انسان کے جسم کو متاثر نہیں کرتیں، ان کے لیے صفائی اور سجاوٹ کا بھرپور انتظام۔ لیکن جو چیزیں جسم کا ایندھن ہیں، ان کے لیے لاپرواہی اور بدترین غفلت۔
صفائی نصف ایمان کہاں؟
ہمارے دین اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے بازار، منڈیاں اور کھانے پینے کی دکانیں اس تعلیم کے برعکس نظر آتی ہیں۔
سبزی منڈیوں میں گندگی کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔
گوشت فروشوں کی دکانوں پر خون اور چربی سڑک پر بہہ رہی ہوتی ہے۔
مٹھائی اور بیکری میں مکھیاں ایسے رقص کرتی ہیں جیسے وہ بھی گاہک ہوں۔
یہ مناظر نہ صرف شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کی مجموعی تہذیبی تصویر کو بھی داغدار کرتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری
یہ حقیقت ہے کہ صفائی کے انتظامات سب سے پہلے حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
سبزی منڈیوں میں صفائی کے مستقل نظام کے لیے میونسپل اداروں کو متحرک کیا جانا چاہیے۔
بیکری اور کھانے پینے کی دکانوں کی باقاعدہ انسپکشن اور لائسنس کی تجدید صفائی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
ریڑھی بانوں اور دکانداروں کے لیے صفائی کے اصول وضع کیے جائیں اور خلاف ورزی پر جرمانہ کیا جائے۔
اگر حکومت سختی سے قوانین نافذ کرے تو یہ صورتحال بہتر ہوسکتی ہے، لیکن افسوس کہ اکثر جگہوں پر متعلقہ ادارے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
عوام کی ذمہ داری
لیکن صرف حکومت کو الزام دینا کافی نہیں۔ ہم بطور عوام بھی اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ سبزی فروش اگر کچرا باہر پھینکتا ہے تو ہم بھی اکثر خاموشی سے دیکھتے ہیں۔ بیکری پر مکھیاں دیکھ کر بھی مٹھائی خرید لیتے ہیں۔ اگر ہم گاہک کے طور پر صفائی کو ترجیح دیں اور گندی جگہ سے خریداری نہ کریں تو دکاندار خود بخود مجبور ہوگا کہ ماحول کو بہتر بنائے۔
خلاصہِ کلام یہ تضاد ہمارے معاشرے کے دو رویوں کو عیاں کرتا ہے:
دکھاوے کے لیے صفائی اور سجاوٹ۔
مگر اصل ضروریات کے معاملے میں لاپرواہی۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوچ بدلیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیاء کے مراکز پر صفائی کے سخت اصول نافذ کرے، اور عوام کو بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے صفائی کے بغیر کسی چیز کو خریدنے سے انکار کرنا چاہیے۔ تبھی ہم اس معاشرتی تضاد کو ختم کر کے صحت مند اور خوشگوار ماحول پیدا کر سکیں گے۔