تھکن کے باوجود نیند کیوں نہیں آتی
ایک شخص سارا دن دفتر یا اپنی دوکان میں کام کرتا ہے اے سی روم ہے، رات بھی کافی دیر تک جاگتا رہتا ہے لیکن اسے اتنی تھکن کے باوجود نیند کیوں نہیں آتی ؟
دوسری طرف ایک کسان جو دن بھر کھیتوں میں کام کرتا ہے۔ گرمی یا سردی میں شام ڈھلتے ہی وہ تھکاوٹ کے بوجھ سے چور بستر پر لیٹ جاتا ہے۔بستر پر جاتے ہی نیند میں گُم سُم ہو جاتا ہے، اگلی صبح جب وہ جاگتا ہے تو خود کو پھر سے توانائی سے بھرپور پاتا ہے۔
یہ ایک بڑا سوال ہے، یہ “تازگی” دراصل نیند کا سب سے بڑا کمال ہے۔
نیند کیا ہے؟
نیند محض آنکھیں بند کر کے بستر پر لیٹ جانے کا نام نہیں بلکہ ایک فعال حیاتیاتی کیفیت ہے جس میں دماغ مخصوص انداز میں کام کرتا ہے۔ نیند کے دوران خلیے مرمت ہوتے ہیں، دماغ دن بھر کی یادداشت کو ترتیب دیتا ہے اور جسمانی توانائی دوبارہ جمع ہوتی ہے۔
سائنس کے مطابق، نیند ایک قدرتی حیاتیاتی کیفیت ہے جس میں دماغ کے کچھ حصے سرگرم رہتے ہیں جبکہ جسم زیادہ تر غیر فعال ہو جاتا ہے۔ نیند میں ہمارا دماغ معلومات کو محفوظ کرتا ہے، خلیوں کی مرمت ہوتی ہے، اور جسمانی توانائی بحال ہوتی ہے۔
اگر انسان مسلسل نیند نہ کرے تو دماغی صلاحیت تیزی سے متاثر ہوتی ہے۔نیند کے بغیر فیصلہ کرنے کی طاقت، ردِعمل کی رفتار اور یادداشت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔بعض تجربات کے مطابق، 72 گھنٹے بغیر نیند گزارنے والے افراد میں ہذیانات (Hallucinations) پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
مشہور نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع کے مطابق، انسان کی زندگی کا تقریباً ایک تہائی وقت نیند میں گزرتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نیند انسانی زندگی میں بے حد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیند نہ صرف جسم کو آرام فراہم کرتی ہے بلکہ اسے دوبارہ توانائی بخش کر تازہ دم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
انسانی جسم کے اندر ایک حیاتیاتی گھڑی موجود ہے جسے سیرکیڈین ردم کہتے ہیں۔ یہ دن اور رات کے حساب سے ہمارے جاگنے اور سونے کے اوقات کو کنٹرول کرتی ہے۔ دن کے وقت روشنی سے دماغ کو جاگنے کا سگنل دیتی ہے۔رات کو اندھیرا اور ہارمون “میلاٹونن” جسم کو نیند میں جانے کی تیاری کرواتے ہیں۔
مراحلِ نیند (Sleep Stages)
رات کے دوران نیند مختلف مرحلوں سے گزرتی ہے، جنہیں مجموعی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر مرحلہ دماغی لہروں، آنکھوں کی حرکت اور پٹھوں کی سختی یا ڈھیلاپن سے جڑا ہوتا ہے۔ ابتدائی تین مراحل کو نان ریپڈ آئی موومنٹ (NREM) نیند کہا جاتا ہے، جبکہ چوتھا مرحلہ ریپڈ آئی موومنٹ (REM) نیند کہلاتا ہے۔ نیند کے ان مراحل کو سمجھنا ایسے ہے جیسے کسی فلم کے مختلف سین دیکھنا۔ ہر مرحلے کی اپنی اہمیت ہے۔ جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
NREM (Non-Rapid Eye Movement)
REM (Rapid Eye Movement)
NREM نیند
یہ حصہ مزید تین ابتدائی مراحل پر مشتمل ہے:
پہلا مرحلہ (ہلکی نیند): اس مرحلے میں دماغ جاگنے اور سونے کے بیچ میں ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے آپ بیداری اور نیند کے بیچ ایک سرحد پر کھڑے ہیں، ذرا سا شور بھی آپ کو جگا سکتا ہے۔
دوسرا مرحلہ (گہری نیند کا آغاز): اس مرحلے میں جسم کا درجہ حرارت کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ یہ نیند کا سب سے طویل مرحلہ ہے۔
تیسرا مرحلہ (گہری نیند): یہی وہ مرحلہ ہے جو جسم کو اصل معنوں میں توانائی دیتی ہے۔ اس دوران خلیوں کی مرمت اور Growth Hormone کا اخراج ہوتا ہے۔ اس دوران جسم اصل میں ری چارج ہوتا ہے۔ اگر کسی کو اس لمحے جگایا جائے تو وہ شدید غصے اور الجھن کا شکار ہو سکتا ہے۔
REM نیند
یہ مرحلہ سب سے دلچسپ ہے۔ اس مرحلے میں دماغ سب سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔ خواب اسی دوران دیکھے جاتے ہیں۔ جسم حرکت نہیں کر سکتا تاکہ ہم خواب پر عمل نہ کر سکیں۔
جیسے ایک طالب علم نے سائنس کا پرچہ دیا، رات کو خواب میں دیکھا کہ وہ دوبارہ امتحان ہال میں بیٹھا ہے۔ اگلی صبح اسے یاد آیا کہ سوال نمبر تین کا جواب وہ بھول گیا تھا۔ یہی REM نیند کی طاقت ہے کہ دماغ نامکمل معلومات کو خواب کے ذریعے سامنے لاتا ہے۔
معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی کے مطابق، گہری نیند کو این آر ای ایم (NREM) کہا جاتا ہے، جس کا ایک مرحلہ تقریباً 90 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ نیند کے مجموعی دورانیے کا تقریباً 70 سے 80 فیصد حصہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اچانک آر ای ایم (REM) نیند شروع ہو جاتی ہے، جو کل نیند کا 20 سے 25 فیصد بنتی ہے اور اسے پیراڈوکسیئل سلیپ بھی کہا جاتا ہے۔
اس مرحلے میں آنکھوں کے پٹھوں کو چھوڑ کر جسم کے باقی حصے مفلوج ہو جاتے ہیں، جبکہ اسی دوران خواب بھی دیکھے جاتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دماغ تو سو رہا ہوتا ہے لیکن جسم بیدار کیفیت میں ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ جتنا زیادہ وقت ہم سوتے رہیں، آر ای ایم نیند کا دورانیہ بھی بڑھتا جاتا ہے، اسی لیے اکثر جب کسی کو جگایا جائے تو وہ کہتا ہے کہ “میں خواب دیکھ رہا تھا”، کیونکہ خواب دیکھنے کا یہ مرحلہ آر ای ایم کے دوران ہی آتا ہے۔
خواب کیوں آتے ہیں؟
اس بارے ابھی تک کوئی حتمی سائنسی جواب موجود نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق خواب دماغ کی وہ مشق ہیں جن میں، دن بھر کی معلومات کو دماغ ترتیب دیتا ہے۔ یادداشت محفوظ کی جاتی ہے۔ مسائل کے حل تلاش کیے جاتے ہیں۔
خوابوں کے بارے میں نظریات
فروئیڈ کا نظریہ: خواب دبی ہوئی خواہشات کا عکس ہیں۔
جدید سائنس: خواب دماغی سرگرمی اور جذبات کی عکاسی ہیں۔
تاریخ میں کئی عظیم ایجادات خواب کے نتیجے میں ہوئیں۔ مثلاً: آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت (Relativity) کے بنیادی اصول کا خیال خواب میں گھوڑے کی سواری کرتے ہوئے روشنی کی رفتار سوچتے وقت کیا۔ نیلز بوہر نے ایٹم کا ماڈل خواب میں ہی دیکھا۔
خوابوں کو محض فالتو خیالات سمجھنا غلط ہے۔ یہ انسانی دماغ کی پوشیدہ طاقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
نیند کی کمی اور اس کے نقصانات
نیند کی کمی کے نقصانات دو قسمی ہیں ایک جسمانی اور دوسرا دماغی
جسمانی نقصانات میں نیند کی کمی سے مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ دل کی بیماریوں اور بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نیند نہ پوری ہونے سے موٹاپا اور شوگر کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔
دماغی نقصانات میں یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ حادثات اور غلط فیصلوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق، روزانہ 6 گھنٹے سے کم سونے والے ڈرائیوروں کے حادثے کا امکان 30% زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض ممالک میں ٹرک ڈرائیوروں کے لیے نیند کے لازمی اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔
نیند کی بیماریاں
انسومنیا: یہ سب سے عام مسئلہ ہے، کئی لوگ بستر پر لیٹتے ہیں مگر گھنٹوں نیند نہیں آتی۔ اس کے اسباب میں، ذہنی دباؤ زیادہ کیفین موبائل اسکرین کا استعمال بتایا گیا ہے۔
سلیپ اپنیا: نیند کے دوران سانس رک جانا۔ مریض دن میں بار بار غنودگی محسوس کرتا ہے۔
نائٹ ٹیررز: بچے اچانک چیخ کر اٹھ جاتے ہیں مگر انہیں یاد نہیں رہتا۔
سلیپ واکنگ: سوتے میں چلنا۔ بعض اوقات یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت میں ایک شخص سوتے میں چھت پر چلتے چلتے گر گیا لیکن خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ ڈاکٹروں نے بعد میں اس میں سلیپ واکنگ کی تشخیص کی۔
نیند نہ آنے کی عمومی وجوہات
ویسے تو نیند نہ آنے کی بہت ساری وجوہا ت ہیں ان میں سے چند عام وجوہات ہم یہاں بیان کرتے ہیں جو زیادہ تر نیند نہ آنے کا سبب بنتے ہیں
ذہنی دباؤ (stress): ذہنی دباؤ نیند کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ جب انسان کسی فکر یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو دماغ مسلسل active رہتا ہے۔ اس دوران جسم میں کارٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جو جسم کو “alert mode” میں رکھتے ہیں۔ نتیجے میں کروٹیں بدلنا، نیند کا بار بار ٹوٹنا یا سرے سے نیند ہی نہ آنا۔
ایک ملازم جس پر دفتر کے کام کا دباؤ زیادہ ہو، وہ رات کو بھی انہی باتوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور نیند میں کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔
کیفین یا شراب: کیفین یا شراب نوشی نیند کو بری طرح متاثر کرتے ہیں کیفین کو جب استعمال کیا جاۓ تو اس کااثر تقریباً پانچ گھنٹے تک رہتا ہے اور اگر کوئی شخص کافی کا ایک کپ پی لیتا ہے تو ہو سکتا ہے اسے آدھی رات تک نیند نہ آۓ۔
اسی طرح شراب پینے سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے جب سانس ٹھیک طرح سے نہیں آۓ گا تو ظاہری بات ہے اسے بھی جلد نیند نہہیں آۓ گی۔
پانی کی کمی: پانی جسم کے ہر خلیے کے لیے ضروری ہے۔ جب جسم میں پانی کم ہو جاتا ہے تو: خون گاڑھا ہونے لگتا ہے اور دل کو پمپ کرنے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس سے جسم تھکاوٹ اور dehydration headaches کا شکار ہوتا ہے۔ پانی کی کمی نیند کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہے کیونکہ جسم سکون کی حالت میں جانے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ دن بھر میں مناسب پانی نہیں پیتے ان کی نیند کا دورانیہ اوسطاً ایک گھنٹہ کم ہوتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو نیند نہ آنے کی وجوہات کبھی ہماری روزمرہ عادات میں بھی چھپی ہوتی ہیں (چائے، کافی، دباؤ) اور کبھی یہ کسی بیماری کا اشارہ بھی ہو سکتی ہیں۔ نیند نہ آنے کے پیچھے جسمانی بیماریاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
خون کی کمی (Anemia): خون میں سرخ خلیات آکسیجن کو پورے جسم تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی کمی سے دماغ اور پٹھوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے انسان کمزوری اور تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ جب جسم تھکا ہوا ہو لیکن توانائی نہ ہو، تو نیند آنا مشکل ہو جاتا ہے اور نیند کا معیار بھی خراب رہتا ہے۔
تھائیرائیڈ کے مسائل: تھائیرائیڈ گلینڈ ہمارے metabolism کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر یہ زیادہ ہارمونز بنائے (Hyperthyroidism) تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، بے چینی اور پسینہ آتا ہے، اور نیند مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ کم ہارمونز بنائے (Hypothyroidism) تو جسم میں سستی، تھکن اور مسلسل نیند آنے کی کیفیت رہتی ہے۔
ذیابیطس (Diabetes): ذیابیطس میں جسم گلوکوز (شکر) کو صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔ گلوکوز چونکہ توانائی کا اہم ذریعہ ہے، اس کی کمی یا زیادتی دونوں سے جسم تھکن محسوس کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اکثر رات کو زیادہ بار واش روم جانے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے نیند ٹوٹ جاتی ہے۔
ایک شخص جس کا شوگر لیول کنٹرول میں نہ ہو، رات بھر بار بار جاگتا ہے اور صبح تکلیف دہ تھکن محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دماغ میں موجود کیمیکلز ہماری نیند کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیورو ٹرانسمیٹر ایسے کیمیائی مادے ہیں جو اعصابی خلیات کے درمیان پیغام رسانی کو ممکن بناتے ہیں اور دماغ کو متحرک رکھتے ہیں۔ یہ اس بات کو بھی کنٹرول کرتے ہیں کہ ہم جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں، اور ان کا اثر اس نیورون پر منحصر ہوتا ہے جس پر وہ کام کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ “ایڈینوسین” نامی کیمیکل ہمارے جاگنے کے دوران جسم میں بنتا ہے اور یہ ہمیں نیند کی کیفیت کی طرف لے جاتا ہے۔ جبکہ سونے کے دوران یہ مادہ آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
اچھی نیند کے اصول اور عملی تجاویز
سلیپ ہائیجین: ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ کمرے کو پرسکون، ٹھنڈا اور اندھیرا رکھنا۔موبائل اور لیپ ٹاپ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے بند کر دینا۔
غذائی عدات: سونے سے پہلے دودھ یا ہلکی غذا لینا۔ زیادہ چکنائی اور کیفین (چائے/کافی) سے پرہیز۔
جدید تحقیق: روزانہ ہلکی ورزش کرنے والے افراد کی نیند گہری اور بہتر ہوتی ہے۔ مراقبہ اور سانس کی مشقیں نیند کو پرسکون بناتی ہیں۔
ایک آئی ٹی انجینئر دن رات کمپیوٹر پر کام کرتا تھا۔ اسے بے خوابی کی شدید شکایت ہوگئی۔ ڈاکٹر نے اسے موبائل رات کو بند کرنے، ورزش کرنے اور دودھ پینے کا مشورہ دیا۔ صرف تین ہفتوں میں اس کی نیند بہتر ہو گئی اور وہ دوبارہ اپنی جاب میں فعال ہو گیا۔
خلاصہِ کلام یہ ہے کہ نیند انسان کی بنیادی ضرورت ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہوا اور پانی۔ یہ جسم کو توانائی دیتی ہے، دماغ کو تازہ کرتی ہے اور زندگی کو متوازن رکھتی ہے۔ اچھی نیند لینے والا انسان نہ صرف صحت مند رہتا ہے بلکہ زیادہ کامیاب اور خوشحال زندگی بھی گزارتا ہے۔