ترکیہ کی پاکستان سعودی دفاعی شراکت میں شمولیت

دفاعی 0

ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے

جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور اس سے آگے ایک نیا علاقائی سیکیورٹی اتحاد تشکیل پا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر ہونے والے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور فریقین کے درمیان کسی باضابطہ سمجھوتے کے امکانات مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سفارتی اور دفاعی سطح پر روابط میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ریاض میں ایک اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک اس اصول پر متفق ہوئے تھے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

بلومبرگ کے مطابق اس معاہدے میں ترکیہ کی ممکنہ شمولیت کو فطری پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اسٹریٹیجک مفادات اب جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقی خطوں میں ایک دوسرے کے قریب آتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکیہ اس ممکنہ اتحاد کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور علاقائی سلامتی کے کردار کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے، خاص طور پر ایسے عالمی حالات میں جب امریکا کی نیٹو کے ساتھ وابستگی اور خطے میں طویل المدتی اعتماد پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اگرچہ تینوں ممالک کے واشنگٹن کے ساتھ عسکری روابط بدستور موجود ہیں۔

ترکیہ کی پاکستان سعودی دفاعی شراکت میں شمولیت

انقرہ میں قائم معروف تھنک ٹینک ٹیپاو سے وابستہ سیکیورٹی ماہر نہات علی اوزجان کے مطابق، اگر یہ اتحاد قائم ہوتا ہے تو اس میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا وسیع عسکری تجربہ اور جدید دفاعی صنعت ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

اوزجان کا مزید کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات، بالخصوص امریکا کی جانب سے اپنے مفادات اور اسرائیل کو ترجیح دینے کے تناظر میں، علاقائی ریاستیں نئے سیکیورٹی فریم ورک اور دفاعی تعاون کے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

اس پیش رفت پر پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی جانب سے رابطے پر فوری مؤقف دینے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے۔

دفاعی

بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ باضابطہ طور پر اس دفاعی شراکت میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک نئے دور کی علامت ہوگا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اب دفاعی اور اقتصادی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں، جس کی ایک مثال حال ہی میں انقرہ میں منعقد ہونے والا پہلا مشترکہ بحری اجلاس ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران سے متعلق مشترکہ خدشات رکھتے ہیں اور عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کے حامی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ اس وقت پاکستان نیوی کے لیے جدید کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے، جبکہ پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی ترک تعاون شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان ڈرون ٹیکنالوجی کا تبادلہ جاری ہے، اور ترکیہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اس کے پانچویں جنریشن کے جنگی طیارے کے منصوبے میں بھی شریک ہوں۔

بلومبرگ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مشاورت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کے مہینے میں چار روزہ فوجی تصادم کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی اشتراک اور مشترکہ اسلامی اقدار پر استوار رہے ہیں، جن میں مالی امداد اور توانائی کے شعبے میں تعاون نمایاں رہا ہے۔

دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری پاکستان کے لیے تیزی سے ایک اہم ستون بنتی جا رہی ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ، پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی دفاعی درآمدات کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم منصوبے کے تحت جنگی جہاز، فضائی پلیٹ فارمز کی اپ گریڈیشن اور جدید ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو پاک ترک عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں