بچے اسکول میں کیوں ناکام ہوتے ہیں۔ والدین کے پاس شاید اس بات کا جواب نہ ہو۔لیکن ان کے لیے یہ ایک انتہائی پریشان کن بات ہے
جب ایک بچہ اپنی تعلیمی کارکردگی میں پیچھے رہ جاتا ہے تو عموماً اسے “سست”، “غافل” یا “دلچسپی نہ لینے والا” سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات بچوں کی تعلیمی ناکامی کے پیچھے بہت گہری اور چھپی ہوئی وجوہات ہوتی ہیں جنہیں پہچاننا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
بچے اسکول میں کیوں ناکام ہوتے ہیں ؟ اس کی وجوہات
نیند کی کمی اور اس کا نتیجہ
طلباء میں نیند کی کمی ایک عام مگر سنگین مسئلہ ہے جو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نیند کی کمی بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔سمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور ویڈیو گیمز کا رات گئے تک استعمال بچوں کی نیند میں خلل ڈالتا ہے۔جس کی وجہ سے وہ کلاس میں پڑھائی پر صحیح طرح سے دھیان نہیں دے پاتے۔دماغ کو معلومات کو ذخیرہ کرنے اور یاد رکھنے کے لیے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ نیند کی کمی توجہ، یادداشت، سیکھنے اور جذباتی توازن کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ نیند کی کمی بچوں میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دیتی ہے جس سے وہ بار بار بیمار ہوتے ہیں۔ بچوں میں چڑچڑاپن، سستی، اور ذہنی تھکن پیدا کرتا ہے جوبچے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ نیند کی کمی تعلیمی ناکامی کی پوشیدہ وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے۔
ذہنی صحت اور جذباتی مسائل کا حافظہ پر اثرات
بچوں کی ذہنی صحت اور ان کے جذبات ان کے سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جب کوئی بچہ ذہنی دباؤ، پریشانی یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتا ہے تو اس کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے اس کا حافظہ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ جب بچہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، تو اس کے دماغ میں کورٹیسول (cortisol) نامی ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
کورٹیسول کا زیادہ ہونا hippocampus (دماغ کا وہ حصہ جو یادداشت کے لیے اہم ہے) کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بچہ نئی چیزیں سیکھنے اور انہیں اپنے ذہن میں محفوظ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ بچہ ان چیزوں کو بھی بھول سکتا ہے جو اس نے پہلے سیکھی تھیں۔ مثال کے طور پر، امتحان کے وقت بچہ سوال کا جواب جانتے ہوئے بھی اسے یاد نہیں کر پاتا۔ پریشانی کا شکار بچے اکثر ہر وقت کسی نہ کسی خوف یا فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔
اس کی وجہ سے ان کی توجہ تقسیم ہو جاتی ہے۔ جب بچہ ایک ہی وقت میں اپنے ارد گرد کی چیزوں اور اپنی پریشانی پر توجہ دینے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ کسی بھی چیز پر مکمل طور پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ توجہ کی کمی کی وجہ سے بچہ اساتذہ کی باتوں کو پوری طرح سن نہیں پاتا اور کلاس میں دی جانے والی ہدایات کو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ چونکہ اس نے معلومات کو صحیح طریقے سے جذب نہیں کیا، لہذا بعد میں اس کو یاد کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈپریشن کے شکار بچوں میں اکثر اداسی، بے چارگی اور توانائی کی کمی جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔ یہ حالت ان کی سوچنے کی صلاحیت (cognitive function) اور حافظے پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ان مسائل کا سامنا کرنے والے بچوں کی مدد کے لیے یہ ضروری ہے کہ اساتذہ اور والدین ان کے ساتھ صبر اور محبت سے پیش آئیں۔ ان کی باتوں کو سنیں اور ضرورت پڑنے پر کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔
سیکھنے کی مخصوص مشکلات (Learning Disabilities)
بچوں میں سیکھنے کے مسائل (Learning Disorders) ایک عام چیلنج ہیں جن کا سامنا بہت سے خاندانوں اور اساتذہ کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل بچوں کی ذہانت یا صلاحیت کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتے، بلکہ ان کا تعلق دماغ کے کام کرنے کے مخصوص طریقوں سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ان مسائل کو اکثر درست طریقے سے سمجھا نہیں جاتا، جس کی وجہ سے بچے کو لاحق مسائل کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور اسے بلاوجہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈسلیکسیا ایک ایسا سیکھنے کا مسئلہ ہے جو بچے کو پڑھنے، لکھنے اور ہجے کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ مسئلہ اس بچے کی ذہانت سے بالکل بھی جڑا نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے اسے پڑھنے اور سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ اس کی علامات یہ ہیں کہ الفاظ کو الٹا پڑھنا، ہجے کرنے میں غلطیاں کرنا، لکھنے کی خراب عادات اور کسی بھی تحریر کو سمجھنے میں وقت لگانا۔ اگر اس بچے کی شروع میں ہی یہ تشخیص ہو جائے کہ اس کو ڈسلیکسیا ہے تو اساتذہ اور والدین کو خاص تدریسی طریقہ کار اپنانا چاہیے، تاکہ بچہ درست تلفظ اور ہجے سیکھ سکے۔
اسی طرح ADHD بھی ایک دماغی حالت ہے جو بچوں میں توجہ مرکوز کرنے، بے چینی اور بے جا سرگرمیوں کی وجہ بنتی ہے۔ یہ بھی بچے کی ذہانت سے بالکل بھی جڑا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دماغ کی توجہ مرکوز کرنے والے حصے سے ہے۔ اس کی علامات یہ ہیں کہ کسی بھی چیز پر زیادہ دیر تک توجہ نہ دے پانا، بے صبری، حد سے زیادہ بے چینی اور کام کرنے میں لاپرواہی۔
ایک ADHD والے بچے کو اگر مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ بہتر طور پر پڑھائی میں توجہ دے سکتا ہے۔ اساتذہ اور والدین بچے کو مختصر اور دلچسپ کام دے سکتے ہیں، یا کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں تاکہ وہ بہتر طور پر توجہ دے سکے۔ اس کے علاوہ فزیکل سرگرمیوں میں شمولیت بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
بالکل اسی طرح ڈسکلیکولیا بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جس میں بچوں کو ریاضی، گنتی اور حساب کتاب میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ مسئلہ بھی اس بچے کی ذہانت سے بالکل بھی جڑا نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے اسے گنتی سمجھنے اور حساب کتاب کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈسکلیکولیا کے بچے کی مدد کے لیے والدین اور اساتذہ کو اسے روزمرہ کی زندگی میں ریاضی سے منسلک کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر اور کیلکولیٹر کی مدد سے بھی اسے ریاضی کی بنیادی باتیں سکھائی جا سکتی ہیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مشق کر سکے اور ریاضی کے مسائل حل کر سکے۔
استاد اور طالب علم کا تعلق کیسا ہو؟
استاد اور طالب علم کا تعلق ایک مقدس اور مضبوط رشتہ ہے۔ یہ رشتہ صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ طالب علم کو استاد کی عزت کرنی چاہیے استاد کا رویہ، سکھانے کا انداز اور طالب علم کے ساتھ تعلق بچوں کی کامیابی یا ناکامی میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔استاد کا کردار صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ طالب علم کو زندگی کی ہر مشکل میں رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ شاگرد کی صلاحیتوں کو پہچانے اور اسے صحیح سمت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے۔
استاد کو اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک مہربان اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ طالب علم ان سے قریب ہو کر اپنی مشکلات اور پریشانیاں بانٹ سکیں۔ اگر بچہ خود کو کلاس میں نظرانداز یا ڈرا ہوا محسوس کرے تو وہ سیکھنے میں دلچسپی کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک ہمدرد اور سمجھدار استاد بچے کو خود اعتمادی، سوال کرنے کی آزادی، اور مثبت توانائی فراہم کرتا ہے۔
گھریلو مسائل اور والدین کی عدم توجہ کے کیا اثرات نکلتے ہیں
گھر کا ماحول، خاص طور پر والدین کا رویہ، بچے کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب گھر میں جھگڑے، شور، یا تناؤ کا ماحول ہو تو بچے کا دماغ مسلسل دباؤ میں رہتا ہے جس سے اس کے لیے پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مسلسل جھگڑے اور شور بچے میں اضطراب اور خوف پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسا ماحول ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ جب گھر کا ماحول پرسکون اور مثبت ہوتا ہے تو بچہ ذہنی طور پر پرسکون رہتا ہے۔ یہ سکون اسے کلاس میں یا گھر میں پڑھائی پر بہتر توجہ دینے میں مدد کرتا ہے۔ایک اچھا اور مثبت گھریلو ماحول نہ صرف بچے کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ اس کی مجموعی شخصیت کی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مطالعے کی غلط عادات اور وقت کا ضیاع انجام
بچوں کی ناکامی کی وجہ صرف ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی، بلکہ مؤثر تعلیمی مہارتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی ہر جگہ موجود ہے، یہ مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ پڑھائی میں کامیابی صرف ذہانت پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس میں کئی مہارتیں شامل ہوتی ہیں جنہیں سیکھنا ضروری ہے۔ والدین اور اساتذہ کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں کو یہ مہارتیں سکھائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں۔
بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے وقت کو کس طرح سے منظم کریں تاکہ پڑھائی، کھیل اور دیگر سرگرمیوں میں توازن قائم رہے۔ روزانہ کا شیڈول بنانے میں ان کی مدد دکریں جس میں ہوم ورک، تفریح اور آرام کے لیے وقت مخصوص ہو۔ ہوم ورک مکمل کرنے کا مقصد صرف کام ختم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں سیکھے گئے سبق کو دہرانا اور سمجھنا بھی شامل ہوتا ہے۔
اسکول میں سماجی مسائل کا بچوں پر تباہ کن اثرات
اسکول میں بچوں کو جن سماجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، وہ ان کی ذہنی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر براہِ راست اور گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اسکول محض علم حاصل کرنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما کا بھی مرکز ہے۔ جب اس ماحول میں بچے کو مثبت تجربات کی بجائے منفی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے، تو اس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔
بدمعاشی کا شکار ہونے والے بچے مسلسل خوف اور بے بسی کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ پھر سے کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔ یہ خوف ان کے اندر سے اعتماد کو ختم کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کلاس روم میں سوال پوچھنے یا اپنی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے کیونکہ وہ مکمل طور پر پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے۔
پیر پریشر (Peer Pressure): peer pressure کا دباؤ بچوں کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے جو ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر دوستوں کا گروپ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا اور فضول سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے، تو بچہ بھی اسی روش پر چل پڑتا ہے تاکہ اسے گروپ کا حصہ سمجھا جائے۔ اس دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی پڑھائی کو نظرانداز کر دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر اس کے امتحانی نتائج پر ہوتا ہے۔
نتیجہ
بچوں کی تعلیمی ناکامی کے پیچھے جو اصل وجوہات ہیں وہ اکثر ظاہری نہیں ہوتیں۔ ان مسائل کو سمجھنا، وقت پر پہچاننا اور درست اقدامات کرنا نہایت ضروری ہے۔ سستی، لاپروائی یا نالائقی کے لیبل لگانے کے بجائے ہمیں بچوں کے ساتھ ہمدردی، توجہ اور مشاہدہ کرنا ہوگا۔
یہ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں ان مسائل کو پہچانیں اور ان کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ بچوں سے کھلے دل سے بات کرنا، ان کے احساسات کو سمجھنا، اور انہیں یہ یقین دلانا بہت ضروری ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، اسکول میں ایک ایسا محفوظ ماحول بنانا بھی ضروری ہے جہاں بچے ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں
اگر آپ کا بچہ اسکول میں کمزور کارکردگی دکھا رہا ہے تو فوراً نتیجہ اخذ نہ کریں۔ اس کی نیند، جذباتی کیفیت، سماجی تعلقات، اور سیکھنے کے انداز پر غور کریں۔ والدین، اساتذہ، اور ماہرین نفسیات مل کر بچے کو بہتر راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، ہر بچہ کامیاب ہو سکتا ہے — بس اسے سمجھنے اور سہارا دینے کی ضرورت ہے۔
بچوں کی تعلیمی کامیابی کا انحصار ان کی ذہنی اور جذباتی صحت پر ہوتا ہے۔ ایک خوش اور مطمئن بچہ ہی اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔