بچے اسکول سے کیوں بھاگتے ہیں؟ اورامتحان میں ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟
بچے اسکول سے کیوں بھاگتے ہیں؟ اورامتحان میں ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟ بہت سارے والدین کی پریشانی اس معاملے میں بڑھتی جا رہی ہے۔
پہلی بات تو یہ ہےکہ ہر بچہ پڑھنے والا نہیں ہوتا، نہ ہی ہر بچہ پڑھ لکھ جاتا ہے اور نہ ہی ہر بچہ اسکول سے بھاگتا ہے۔ کتنے بچے اسکول جاتے ہیں لیکن ناکام ہو کر چھوڑ جاتے ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ یہ ایک عام سی بات ہے کہ بچے کو اسکول جانا پسند نہیں ہوتا لیکن پھر بھی جاتا ہے۔ یہ اسقدر پریشان کن بات نہیں، پریشانی کی بات یہ ہے کہ وہ گھر سے تو جاۓ لیکن اسکول نہ جاۓ۔
جو بچے اسکول سے بھاگتے ہیں ان میں سے ہر ناکام طالب علم کے پیچھے ایک ایسی داستان چھپی ہوتی ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
علی اور اس کی ناکامی
علی ایک ذہین اور تخلیقی بچہ تھا۔ اسے تصویریں بنانا، نظمیں لکھنا اور کہانیاں پڑھنا بہت پسند تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے خیالات کو رنگوں اور الفاظ میں ڈھالنے کا خواب دیکھتا تھا۔ لیکن اس کے والدین کی خواہش تھی کہ علی بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے۔ انہوں نے اسے سائنس کے مضامین لینے پر مجبور کیا، حالانکہ علی کی ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
اس کی کلاس میں بائیولوجی کا استاد مچھلیوں کے پیچیدہ اعضا کی وضاحت کر رہا تھا، لیکن علی کی نظریں کھڑکی سے باہر آسمان پر تھیں جہاں وہ اپنے خیالی جہازوں کو اڑاتا تھا۔ روزانہ کا سبق اس کے لیے ایک بوجھ بن گیا، جسے وہ بس کسی طرح ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں غائب دماغی کا شکار رہتا اور ہوم ورک کو نظرانداز کرتا۔
جب امتحانات قریب آئے تو وہ ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو گیا۔ اسے کچھ بھی یاد نہیں رہتا تھا، اور جو تھوڑا بہت یاد بھی ہوتا، اسے وہ امتحان کے خوف کی وجہ سے بھول جاتا۔ آخرکار جب نتیجہ آیا تو علی اپنی توقع کے مطابق ناکام ہو گیا، اور اس کے والدین اس کے اس رویے پر ناراض تھے۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ ناکامی علی کی پڑھائی میں عدم دلچسپی کی نہیں، بلکہ اس کی اپنی مرضی کے خلاف لیے گئے فیصلوں کی ناکامی تھی۔
اسکول چھوڑنے والا احمد
احمد ایک بہت شرمیلا اور حساس بچہ تھا۔ اسے پڑھائی سے زیادہ کھیل کود کا شوق تھا۔ اس کے گھر کا ماحول ہمیشہ کشیدہ رہتا تھا۔ اس کے والدین کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے تھے، جس کی وجہ سے احمد گھر میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا تھا۔ وہ سکون کی تلاش میں سکول جاتا، لیکن وہاں بھی اسے سکون نہ ملا۔
اس کی کلاس میں ایک ہٹ دھرم اور غنڈہ صفت بچہ تھا جو ہمیشہ احمد کا مذاق اڑاتا تھا۔ وہ احمد کو تنگ کرتا اور اسے چوٹکیوں کا نشانہ بناتا تھا۔ احمد نے کبھی اس کی شکایت نہیں کی، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کوئی اس کی بات پر یقین نہیں کرے گا۔ دھیرے دھیرے، احمد نے خاموش رہنا شروع کر دیا، کھانا پینا کم کر دیا، اور اکثر اکیلا رہنے لگا۔ اس کی یہ علامات اس کے اندر کے خوف کی عکاسی کرتی تھیں۔ ایک دن، اس کے استاد نے دیکھا کہ وہ ایک ہفتے سے سکول نہیں آیا۔
جب استاد نے اس کے گھر کا دورہ کیا تو احمد کی ماں نے بتایا کہ وہ سکول جانے سے کتراتا ہے۔ استاد نے احمد سے دوستانہ ماحول میں بات کی تو اس نے سارا ماجرا بتا دیا۔ یہ صرف اس کا ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ گھر اور سکول کے مسائل کا مجموعہ تھا۔ احمد کے والدین نے جب یہ سب سنا تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے احمد کا سکول تبدیل کیا اور گھر کا ماحول بہتر کرنے کا عہد کیا۔
یہ کہانیاں محض دو بچوں کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے بہت سے بچوں کی حقیقت ہیں۔ امتحانات میں ناکامی کی وجوہات میں۔
پڑھائی میں عدم دلچسپی کی بنیادی وجہ اکثر اس مضمون کا بچے کی فطری صلاحیتوں اور شوق سے میل نہ کھانا ہوتی ہے۔
والدین کا دباؤ اور دوسرے بچوں سے تقابل بچوں کی خود اعتمادی کو تباہ کر دیتا ہے۔
اساتذہ کی عدم توجہ اور غلط تدریسی طریقے، جیسے صرف رٹا لگانا، بچوں کو حقیقی تعلیم سے دور کر دیتے ہیں۔
امتحان کا خوف، ذہنی تناؤ، اور موبائل فون کا غلط استعمال بھی اس ناکامی میں اضافہ کرتے ہیں۔
اسی طرح، اسکول سے بھاگنے کی وجوہات میں:
ماہرین نے اسکول سے فرار ہونے والے بچوں کی کئی وجوہات بیان کی ہیں۔ اور ان سے نمٹنے کے لیے کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔
گھر کا کشیدہ ماحول بچوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ گھریلو جھگڑے نہ صرف بچے کی تعلیم پر اثرانداز ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات بچے کو ضدی یا خوفزدہ بھی کر دیتے ہیں جس سے وہ اسکول جانے سے کتراتے ہیں۔
اسکول میں غنڈہ گردی اور دوسرے بچوں کی طرف سے مذاق اڑایا جانا ایک بچے کو شدید نفسیاتی کرب میں مبتلا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ بچے بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ جب ان کا مذاق اُڑایا جاتا ہے یا اسے غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا جاۓ تو وہ بجاۓ شکایت کے ،آ سان راستہ اسکول سے بھاگنا ہی سمجھتے ہیں۔
سیکھنے میں مشکلات اور استاد کی عدم توجہ بچے کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔ خاندانی مسائل میں شکار بچے زیادہ تر سیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جب انہیں سیکھنے میں دشواری آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی ان کا دل اسکول جانے سے بھی اٹھنے لگ جاتا ہے۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں
بچوں کی تعلیمی اور ذہنی نشوونما میں والدین اور اساتذہ دونوں کا کردار نہایت اہم ہے۔
برہمی کے بجائے دوستانہ ماحول میں بچے سے بات کریں اور اس کی پریشانی جاننے کی کوشش کریں۔
یہ معلوم کریں کہ کہیں گھر کے اندر کا ماحول ہی تو بچے کی پڑھائی پر اثرانداز نہیں ہو رہا۔
اگر بچہ کسی مضمون میں کمزور ہے تو اسے ٹیوشن یا اضافی مدد فراہم کریں۔
بچے کی دلچسپی کے مطابق مضامین کے انتخاب میں اس کی مدد کریں۔
ہر بچے کی صلاحیت کو سمجھیں اور اسے اس کی استعداد کے مطابق پڑھائیں۔
رٹا لگانے کے بجائے تصورات کو سمجھانے پر زور دیں۔
بچے کی تعلیمی کارکردگی اور مسائل کے بارے میں والدین کو باقاعدگی سے آگاہ کریں۔
بچوں کی کامیابی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جس میں وہ نہ صرف پڑھائی بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ یہ ذمہ داری صرف بچے کی نہیں، بلکہ والدین، اساتذہ اور پورے معاشرے کی ہے۔
ان مسائل کا حل صرف والدین اور اساتذہ کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کی قدرتی صلاحیتوں کو سمجھنا چاہیے، ان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اساتذہ کو ہر طالب علم پر توجہ دینی چاہیے اور کلاس میں ایک ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں ہر بچہ محفوظ اور پر سکون محسوس کرے۔ جب تک ہم ان بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دیں گے، علی جیسے بہت سے ذہین بچے اپنے خوابوں سے دور رہیں گے اور احمد جیسے بہت سے حساس بچے اپنے سکولوں سے دور بھاگتے رہیں گے۔