آپ اپنی یادداشت کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں ؟

یادداشت 0

انسانی یادداشت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نہایت قیمتی نعمت ہے۔ یہی یادداشت ہمیں سیکھنے، تجربات سے فائدہ اٹھانے، تعلقات نبھانے اور اپنی زندگی کو بہتر فیصلوں کے ذریعے آگے بڑھانے کے قابل بناتی ہے۔

مگر آج کے تیز رفتار دور میں ایک عام شکایت یہ بنتی جا رہی ہے کہ باتیں یاد نہیں رہتیں، ذہن بکھرا بکھرا رہتا ہے، یا ہر وقت کچھ نہ کچھ بھول جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر لوگ اس مسئلے کو بڑھتی عمر یا قسمت سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یادداشت کی کمزوری کے پیچھے ہماری اپنی روزمرہ عادتیں اور طرزِ زندگی کا گہرا دخل ہوتا ہے۔

یادداشت کوئی جامد شے نہیں بلکہ ایک متحرک عمل ہے۔ یہ بہتر بھی ہو سکتی ہے اور بدتر بھی، اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے دماغ کے ساتھ سلوک کیسا کرتے ہیں۔ کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی یا بے ضرر لگتی ہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ دماغی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہیں۔

یادداشت کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟

یادداشت دراصل دماغ کا وہ نظام ہے جس کے ذریعے ہم معلومات کو حاصل کرتے ہیں، انہیں محفوظ کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت واپس یاد کرتے ہیں۔ یہ عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے دماغ کسی معلومات کو توجہ کے ذریعے قبول کرتا ہے، پھر اسے سمجھ کر محفوظ کرتا ہے، اور آخر میں اسے یادداشت کے ذخیرے سے واپس لاتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی بھی مرحلے میں خلل پیدا ہو جائے تو یادداشت متاثر ہونے لگتی ہے۔

دماغ کے اندر مخصوص حصے، خصوصاً وہ حصہ جسے یادداشت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، مسلسل غذائیت، آکسیجن، سکون اور متوازن کیمیائی ماحول کا تقاضا کرتے ہیں۔ جب یہ ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو یادداشت کی کارکردگی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔

یادداشت کا خاموش قاتل یعنی بے خوابی

نیند کو کچھ لوگ وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ دماغ کی مرمت اور تنظیم نو کا سب سے اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو دماغ دن بھر حاصل کی گئی معلومات کو ترتیب دیتا ہے، غیر ضروری مواد کو خارج کردیتا ہے اور ضروری یادوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر نیند پوری نہ ہو تو یہ عمل ادھورا رہ جاتا ہے۔

مسلسل کم نیند لینے والے افراد عموماً شکایت کرتے ہیں کہ وہ چیزیں بھول جاتے ہیں، بات سمجھنے میں دقت ہوتی ہے، یادماغ اور سر  بھاری بھاری سا رہتا ہے۔ نیند کی کمی دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو کمزور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں نئی معلومات محفوظ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر رات دیر تک جاگنا اور موبائل یا اسکرین کے سامنے وقت گزارنا یادداشت کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

غیر متوازن غذا اور دماغی کمزوری

دماغ جسم کا وہ عضو ہے جو سب سے زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے۔ اگر خوراک مناسب نہ ہو تو سب سے پہلے اثر دماغ پر پڑتا ہے۔ بہت زیادہ جنک فوڈ، فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا اور میٹھے مشروبات دماغی کارکردگی کو سست کر دیتے ہیں۔ ایسی غذاؤں میں وہ اجزا کم ہوتے ہیں جو دماغی خلیات کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

وٹامنز، معدنیات، صحت مند چکنائیاں اور پروٹین کی کمی دماغی خلیات کو کمزور کر دیتی ہے۔ نتیجتاً یادداشت دھندلا جاتی ہے، توجہ کم ہو جاتی ہے اور ذہنی تھکن بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر ناشتہ چھوڑ دینا دماغ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ دماغ دن کی شروعات میں توانائی کا تقاضا کرتا ہے۔

ذہنی دباؤ اور مسلسل پریشانی

ذہنی دباؤ صرف دل یا جذبات کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ یادداشت پر براہِ راست حملہ کرتا ہے۔ جب انسان مستقل تناؤ میں رہتا ہے تو دماغ ایسے ہارمون خارج کرتا ہے جو وقتی طور پر تو انسان کو چوکنا رکھتے ہیں، مگر طویل عرصے میں یہی ہارمون یادداشت کے مراکز کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پریشانی کی حالت میں دماغ مستقبل کے خدشات میں الجھا رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ موجودہ لمحے کی معلومات کو صحیح طرح محفوظ نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پریشان انسان اکثر یہ کہتا ہے کہ بات سنی تھی مگر یاد نہیں رہی۔ اگر ذہنی دباؤ کو بروقت کم نہ کیا جائے تو یادداشت مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

موبائل فون اور اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال

جدید دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر اس کا بے جا استعمال یادداشت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ مسلسل نوٹیفکیشنز، سوشل میڈیا، ویڈیوز اور پیغامات دماغ کو بکھرا ہوا رکھتی ہیں۔ دماغ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر گہری توجہ دے سکتا ہے، مگر اسکرین کا زیادہ استعمال توجہ کو مسلسل توڑتا رہتا ہے۔

جب توجہ بٹتی رہتی ہے تو دماغ معلومات کو سطحی طور پر لیتا ہے، گہرائی میں محفوظ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ موبائل کے عادی افراد چیزیں جلدی بھول جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکرین کی روشنی نیند کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے، جو بالواسطہ طور پر یادداشت کو کمزور کرتی ہے۔

جسمانی سرگرمی کی کمی

جسمانی حرکت صرف جسم کے لیے نہیں بلکہ دماغ کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب ہم ورزش کرتے ہیں یا چہل قدمی کرتے ہیں تو دماغ تک خون اور آکسیجن کی فراہمی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس سے دماغی خلیات متحرک رہتے ہیں اور یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔ جو لوگ سارا دن بیٹھے رہتے ہیں اور جسمانی سرگرمی سے دور رہتے ہیں، ان میں یادداشت کی کمزوری زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ سست طرزِ زندگی دماغ کو بھی سست بنا دیتا ہے، اور یادداشت آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔

غیر ضروری ادویات کا استعمال

کچھ دوائیں ایسی ہوتی ہیں جو وقتی آرام تو دے دیتی ہیں مگر دماغی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ نیند کی گولیاں، سکون آور ادویات اور درد کم کرنے والی بعض دوائیں دماغ کے قدرتی نظام کو سست کر دیتی ہیں۔ ان کا طویل استعمال یادداشت کو دھندلا دیتا ہے۔ اکثر لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوائیں استعمال کرتے رہتے ہیں، اور بعد میں بھولنے کی شکایت کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ بھولنے کا مسئلہ ان ادویات کا ضمنی اثر ہوتا ہے۔

ذہنی سرگرمیوں کی کمی

دماغ بھی ایک پٹھے کی طرح ہے؛ جتنا استعمال ہوگا، اتنا مضبوط ہوگا۔ اگر دماغ کو سوچنے، سیکھنے اور غور کرنے کا موقع نہ ملے تو وہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ مطالعہ نہ کرنا، نئی چیزیں نہ سیکھنا اور ذہنی چیلنجز سے دور رہنا یادداشت کو سست کر دیتا ہے۔ جو لوگ صرف ایک ہی معمول میں جیتے ہیں اور دماغی سرگرمیوں سے گریز کرتے ہیں، ان کی یادداشت وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ سوال کرنا، پڑھنا، لکھنا اور غور و فکر کرنا دماغ کے لیے ورزش کا کام دیتا ہے۔

منفی جذبات اور مایوسی

مسلسل منفی سوچ، مایوسی اور ناامیدی بھی یادداشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایسے جذبات دماغ کی توانائی کو ختم کر دیتے ہیں اور توجہ کی صلاحیت کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ مثبت سوچ نہ صرف ذہنی سکون دیتی ہے بلکہ یادداشت کو بھی سہارا دیتی ہے۔

یادداشت کا کمزور ہونا کوئی اچانک ہونے والا عمل نہیں بلکہ یہ برسوں میں پروان چڑھتا ہے۔ ہماری روزمرہ عادتیں، خوراک، نیند، سوچ اور طرزِ زندگی مل کر اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی یادداشت کو مضبوط رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معمولات پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ بہتر نیند، متوازن غذا، محدود اسکرین ٹائم، جسمانی سرگرمی، ذہنی سکون اور مثبت سوچ یہ سب وہ ستون ہیں جن پر مضبوط یادداشت قائم ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، دماغ ہماری زندگی کا مرکز ہے، اور اس کی حفاظت دراصل ہماری پوری زندگی کی حفاظت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں