آن لائن فراڈ سے بچنے کا طریقہ

0

آن لائن فراڈ (Online Fraud) سے مراد وہ دھوکہ دہی ہے جو انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ای میل، ویب سائٹس یا موبائل ایپس کے ذریعے کی جاتی ہے۔

سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان نے دنیا کو ڈیجیٹل پنکھ لگا دیے ہیں جس میں دھوکہ دہی کے طریقے بھی ڈیجیٹل ہو گئے ہیں۔

آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم

آج کی دنیا میں انٹرنیٹ انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک لوگوں کے لیے تصور بھی ممکن نہیں تھا کہ موبائل فون، کمپیوٹر اور سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کو اس قدر تبدیل کر دیں گے۔ آج ہم بینکنگ، خریداری، تعلیم، کاروبار، صحت اور حتیٰ کہ سماجی تعلقات تک کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔

لیکن جس طرح ہر ایجاد کے فائدے ہوتے ہیں اسی طرح اس کے نقصانات بھی سامنے آتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا نے جہاں بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں وہیں جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھی نئے راستے کھول دیے ہیں۔ پہلے زمانے میں چور اور فراڈیے بازاروں، گلیوں اور بینکوں میں وارداتیں کرتے تھے، مگر اب وہی لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے گھروں میں بیٹھے افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ہر سال ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات لوگ لاعلمی، جلد بازی یا لالچ کی وجہ سے ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان، ذہنی پریشانی اور بعض اوقات سماجی بدنامی تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر فرد اس حقیقت کو سمجھ لے کہ ڈیجیٹل دنیا ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر اسے سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ترقی اور آسانی کا ذریعہ ہے، لیکن اگر اس میں لاپرواہی برتی جائے تو یہی ٹیکنالوجی بڑے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

سائبر کرائم ایک ایسی اصطلاح ہے جو چند دہائیاں پہلے تک عام لوگوں کے لیے اجنبی تھی، مگر آج یہ ہماری روزمرہ گفتگو کا حصہ بن چکی ہے۔ ارو سائبر اسپیس ایک ایسی مصروف مارکیٹ کی طرح ہے جہاں اچھے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اور جیب تراش بھی۔ اگر کوئی شخص احتیاط نہ کرے تو وہ باآسانی دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتا ہے۔

آن لائن فراڈ کے عام طریقے اور ان سے بچ نکلنے کے راستے

انٹرنیٹ پر دھوکہ دہی کے کئی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن چند طریقے ایسے ہیں جو سب سے زیادہ عام ہیں۔ ذیل میں ان میں سے اہم اقسام بیان کی جا رہی ہیں تاکہ لوگ ان سے آگاہ رہیں۔

1۔ فری ٹرائل آفر فراڈ : اس فراڈ میں کسی پراڈکٹ یا سروس کو ایک ماہ کے لیے مفت آزمانے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ اکثر یہ اشتہارات وزن کم کرنے یا دانت سفید کرنے والی مصنوعات یا دوسری مصنوعات  کے بارے میں ہوتے ہیں۔

صارف کو بتایا جاتا ہے کہ اسے صرف ڈلیوری چارج ادا کرنا ہوگا۔ لیکن باریک حروف میں لکھا ہوتا ہے کہ وہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ یا پھر ان سے  بکنگ کے لیے کچھ پیسے ایڈوانس جمع کرانے کا کہا جاتا ہے

بچاؤ کا طریقہ : ہمیشہ باریک حروف میں لکھی شرائط پڑھیں، ایڈوانس پیسے مت جمع کروائیں، کسی نامعلوم کمپنی پر فوراً اعتماد نہ کریں، آن لائن ریویوز ضرور دیکھیں۔

2۔ ہاٹ سپاٹ فراڈ: یہ فراڈ عوامی مقامات جیسے ائیرپورٹس یا کافی شاپس میں ہوتا ہے جہاں لوگ مفت وائی فائی استعمال کرتے ہیں۔ فراڈیے جعلی وائی فائی نیٹ ورک بنا دیتے ہیں اور جیسے ہی کوئی شخص اس سے کنیکٹ ہوتا ہے وہ اس کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔

بچاؤ کا طریقہ : عوامی وائی فائی پر بینکنگ نہ کریں، محفوظ ویب سائٹس (https) استعمال کریں، خودکار نیٹ ورک کنیکشن بند رکھیں۔

3۔ سوشل میڈیا انعامی مقابلہ فراڈ: اس طریقے میں صارف کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام ملتا ہے کہ وہ کسی قیمتی انعام کا مستحق قرار پایا ہے۔ جیسے ہی وہ لنک پر کلک کرتا ہے اس کے کمپیوٹر میں ایک نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال ہو جاتا ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں، بھیجنے والے کی پروفائل چیک کریں، غیر معروف مقابلوں سے دور رہیں۔

4۔ جعلی اینٹی وائرس فراڈ: اس فراڈ میں ایک پاپ اپ ونڈو ظاہر ہوتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ آپ کے کمپیوٹر میں وائرس آ گیا ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے یہ سافٹ وئر ڈاؤن لوڈ کریں۔ حقیقت میں یہ سافٹ ویئر خود ایک میل ویئر ہوتا ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: کسی بھی پاپ اپ لنک پر کلک نہ کریں، مستند اینٹی وائرس استعمال کریں، سسٹم کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھیں۔

5۔ ایس ایم ایس یا کال کے ذریعے بینک معلومات حاصل کرنے کا فراڈ (سمشنگ): آن لائن فراڈ کی ایک اور عام شکل وہ ہے جس میں کسی شخص کو موبائل فون پر ایک ٹیکسٹ میسج یا کال موصول ہوتی ہے۔ اس پیغام میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں کوئی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے یا اس کے اکاؤنٹ کی تصدیق ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے ایک فون نمبر دیا جاتا ہے جہاں کال کر کے اپنی معلومات فراہم کرنے کا کہا جاتا ہے۔

بعض اوقات اس پیغام میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ صارف نے کسی کمپنی کی طرف سے انعام جیت لیا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے مخصوص نمبر پر کال کرنا ضروری ہے۔ جب صارف اس نمبر پر کال کرتا ہے تو فراڈیے بڑی مہارت سے اس سے اس کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، اے ٹی ایم نمبر یا دیگر حساس معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔

اس طریقہ واردات کو عام طور پر سمشنگ کہا جاتا ہے، جو دراصل ایس ایم ایس اور فشنگ کا مجموعہ ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: کسی بھی بینک یا ادارے کو کبھی بھی اپنا OTP یا پن کوڈ نہ بتائیں۔ اگر ایسا پیغام موصول ہو تو براہ راست اپنے بینک کی آفیشل ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ مشکوک نمبر کو گوگل یا دیگر ذرائع سے چیک کریں۔

6۔ خیراتی اداروں کے نام پر فراڈ: انٹرنیٹ پر دھوکہ دہی کا ایک اور عام طریقہ یہ ہے کہ کسی قدرتی آفت، جنگ یا انسانی المیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں سے چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی ای میلز یا پیغامات میں اکثر ایک غریب بچے یا کسی متاثرہ شخص کی تصویر دکھائی جاتی ہے اور لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر مالی مدد فراہم کریں۔ بظاہر یہ ایک نیک کام لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک فراڈ ہوتا ہے جس کا مقصد لوگوں کے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: صرف مستند اور معروف فلاحی اداروں کی ویب سائٹس کے ذریعے ہی چندہ دیں۔ کسی ای میل میں موجود لنک کے ذریعے رقم منتقل نہ کریں۔ کسی بھی فلاحی ادارے کی صداقت کی تصدیق ضرور کریں۔

7۔ آن لائن محبت یا دوستی کے نام پر فراڈ: سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ویب سائٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے فراڈیوں کے لیے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ اس فراڈ میں کوئی شخص جعلی شناخت کے ساتھ کسی سے دوستی کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا اعتماد حاصل کر لیتا ہے۔

چند ہفتوں یا مہینوں بعد وہ کسی بہانے سے رقم مانگتا ہے، مثلاً بیماری کا علاج،سفر کے اخراجات، ویزا یا ٹکٹ کے پیسے، جیسے ہی متاثرہ شخص رقم بھیج دیتا ہے، وہ فراڈیا ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: کسی بھی آن لائن دوست کو جلدی اعتماد نہ دیں۔ اگر کوئی شخص رقم مانگے تو فوراً رابطہ ختم کر دیں۔ ویڈیو کال اور دیگر ذرائع سے اس کی شناخت کی تصدیق کریں۔

8۔ فیس بک یا سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس: آج کل فراڈیے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ کسی خوبصورت لڑکی یا مشہور شخصیت کی تصویر استعمال کر کے لوگوں کو دوستی کی دعوت دیتے ہیں۔

ایک اور عام طریقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے اصل اکاؤنٹ کی نقل بنا کر اس کے دوستوں کو پیغام بھیجا جاتا ہے کہ اسے فوری طور پر مالی مدد کی ضرورت ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: کسی انجان شخص کی دوستی قبول کرنے سے پہلے اس کی پروفائل چیک کریں۔ اگر کسی دوست کی طرف سے پیسے مانگنے کا پیغام آئے تو پہلے فون کر کے تصدیق کریں۔ مشکوک اکاؤنٹس کو رپورٹ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں