ہیکنگ کیسے ہوتی ہے،آپ کا فون یا کمپیوٹر کیسے ہیک ہوجاتا ہے

ہیکنگ کیسے ہوتی ہے عام طریقے اور خطرات اور حفاظتی اقدامات جو ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہیں 0

ہیکنگ کیسے ہوتی ہے عام طریقے اور خطرات اور حفاظتی اقدامات جو ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہیں

ہیکنگ کا اصل مقصد عام طور پر کمزوریوں کا جائزہ (vulnerability assessment) ہوتا ہے۔ ہیکنگ کے بعد عموماً ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی جاتی ہے جس میں دریافت شدہ کمزوریاں، اُن کی سنگینی کا اندازہ، اور ان کے ازالے کے متعلق عملی سفارشات شامل ہوتی ہیں۔ یہ رپورٹس تنظیموں کو موقع دیتی ہیں کہ وہ بروقت خطرات کم کریں، پیچز یا کنفیگریشن تبدیل کریں، اور اپنی مجموعی سیکیورٹی پوزیشن مضبوط بنائیں۔

 قانونی اور اخلاقی دائرہ کار کی پابندی اس عمل کی بنیاد ہے۔ اجازت، شفافیت، اور دریافت شدہ مسائل کے مناسب افشاٰء یا حل کے طریقے لازمی ہوتے ہیں۔

تاہم بعض اوقات کچھ ہیکرز ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور غیرقانونی راستہ اختیار کر کے دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

آج کے جدید دور میں جنگیں بھی  ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ملک ایک دوسرے کے خلاف سائبر حملوں کے ذریعے اپنے مخالف کی معلومات، نظامِ مواصلات، یا دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل کو عام طور پر سائبر وارفیئر (Cyber Warfare) کہا جاتا ہے۔

ایسے حملوں کا بنیادی مقصد دشمن کے نیٹ ورک سسٹمز کو جام کرنا، معلومات چرانا، یا ان کے اہم ڈیجیٹل ڈھانچے کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً جنگی حالات میں دشمن کی فوجی مواصلات بند کر دینا، بجلی یا انٹرنیٹ کے نظام میں خلل ڈالنا، یا دفاعی راڈارز کو ناکارہ بنانا۔ یہ سب اقدامات ایک ملک کی طاقت کو کمزور کرنے کے طریقے سمجھے جاتے ہیں۔

دفاعی حکمتِ عملیوں میں سائبر سیکیورٹی ایک لازمی جز بن چکی ہے۔ ممالک اپنے نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید فائر والز، انکرپشن، اور نیٹ ورک مانیٹرنگ جیسے اقدامات کرتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر تعاون اور معلومات کے تبادلے کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ ڈیجیٹل حملوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں توپ و تفنگ سے زیادہ ڈیٹا، نیٹ ورک، اور معلومات کی بنیاد پر لڑی جائیں گی۔ اس لیے سائبر دنیا میں دفاع اور اخلاق دونوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

آج کے دور میں ہمارا فون، ای میل اور آن لائن بینکنگ ہماری ذاتی زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اگر یہ ڈیوائسز ہیک ہو جائیں تو ذاتی پیغامات، تصاویر، بیانات اور پیسے خطرے میں آ سکتے ہیں۔

بنیادی اصول، ہیکنگ عام طور پر کیسے ہوتی ہے؟ یعنی ہیکنگ کے طریقے

ہیکنگ دراصل ایسی چالیں ہیں جن سے حملہ آور آپ کے فون یا کمپیوٹر تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ ہیکر عام طور پر تین مرحلوں میں کام کرتے ہیں۔

(1) آپ کا اعتماد یا ڈیوائس کا کمزور حصہ تلاش کرنا۔

(2) اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر آپ کے ڈیوائس میں کوڈ یا سپائی ویئر پہنچانا۔

(3) آپ کے ڈیٹا، کیمرا، مائیکروفون، لوکیشن یا اکاؤنٹس کو باہر بھیجنا۔ 

جدید دور میں یہ عمل کبھی کبھی آپ کی توجہ یا کلک کے بغیر بھی ہو جاتا ہے ، جسے زیرو کلک اٹیک کہا جاتا ہے  اور اس کی مشہور ترین مثال  پیگاسس ہے جس نے iMessage خامی استمعال کر کے فون ہیک کیے۔

فشنگ اٹیک (Phishing) سب سے زیادہ اور عام استعمال ہونے والا طریقہ

اس طریقہ کار میں آپ کو ایک جعلی پیغام واٹس اپ یا ای میل وصول ہوتا ہے۔ وہ بالکل آپ کے بینک یا سوشل نیٹ ورک کی طرح کا ہی ہوتا ہے۔جسے پہچاننا عام بندے کے بس کی بات نہیں۔ کلک کرتے ہی آپ کو  SMS آتا ہے ۔ آپ کے اکاؤنٹ میں مسئلہ ہے، اپنے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کریں۔ آپ جعلی لاگ ان فارم میں فور١ً اپنا یوزر نیم اور پاسورڈ لکھ دیتے ہیں، لاگ اِن کرتے ہی وہ لنک بند ہو جاتا ہےاور وہ معلومات فوراً ہیکر کو چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح فِشِنگ لنک پر کلک کرنے سے بعض اوقات میل وئیر بھی ڈاؤنلوڈ ہو جاتا ہے۔

میلویئر / سپائی ویئر (Malware / Spyware)

یہ وہ پروگرامز ہیں جو آپ جان کر یا انجانے میں انسٹال کر لیتے ہیں ،جعلی ایپس، کریکڈ سافٹ ویئر، یا فشنگ لنکس کے ذریعے سے ۔ جب یہ ایک بار انسٹال ہو جائیں تو پھر وہ آپ کے پیغامات، تصاویر، کیمرا اور مائیکروفون تک رسائی لے سکتے ہیں۔بعض اوقات  یہ ایپس گوگل پلے سٹور  یا ایپ سٹور پر چھپ کر بھی آجاتی ہیں۔

زیروکلک اٹیک (Zero-click attacks) سب سے زیادہ اور خطرناک ترین اور خاموش اٹیک

زیرو کلک میں ہدف کو لنک یا پیغام کھولنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ سپلائیڈ خامی (vulnerability) کے ذریعے صرف ایک مس کال یا مخصوص پیغام بھیج کر ڈیوائس میں کوڈ چلایا جا سکتا ہے اور سپائی ویئر انسٹال ہو جاتا ہے۔ سٹیزن لیب کی رپورٹس میں پیگاسس نے ایسے حملے کیے جو iMessage خامی کا فائدہ اٹھاتے تھے اور متاثرہ فون کے تقریباً تمام ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لی گئی۔

سِم سویپ ( swap )اور او ٹی پی انٹرسپشن

بعض حملہ آور سِم کارڈ آپریٹر کے ساتھ چالاکی سے کام کر کے یا سوشل انجینئرنگ کر کے کسی کا نمبر دوسری سِم پر منتقل کر دیتے ہیں (SIM swap). اس کے بعد وہ بینکنگ او ٹی پیز اور 2FA کے ذریعے اس پر مکمل دسترس حاصل کر لیتے ہیں۔اس خطرے اور او ٹی پی کے مستقبل کے لیے کوانٹم بیسڈ حل نکالنے کی کوششیں اس وقت کی جاری ہیں۔

ہیکنگ کی علامات

اگر آپ کو اپنے موبائل میں درج ذیل علامات دکھائی دیں تو احتیاط کریں

فون کا اچانک بہت سست ہو جانا، ایپس بار بار کریش کر رہی ہوں۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ پس منظر میں کوئی پروگرام استعمال کر رہا ہے۔ 

انٹرنیٹ ڈیٹا کا اچانک یا جلد ختم ہوجانا۔غیر معمولی ڈیٹا ٹریفک۔ اگر آپ کی نیٹ فلکس/یوٹیوب استعمال نہیں کر رہے مگر پیکیج جلد ختم ہو رہا ہے تو ہوشیار ہو جائیں کہ پس منظر میں ہو سکتا ہے آپ کا  ڈیٹا کہیں بھیجا جا رہا ہو۔ 

مشکوک یا پوشیدہ ایپس  سیٹنگز میں ایپس چیک کریں کچھ ایپس چُھپی چُھپی بھی چل سکتی ہیں۔ 

باہر سے نامعلوم کالز/نوٹیفیکیشنز یا رجسٹرڈ غیر معمولی رابطے ، یہ بتا سکتا ہے کہ ڈیوائس کسی بیرونی سرور سے بات کر رہا ہے۔ 

بیٹری کا تیز ختم ہونا، کیمرے/مائیک کے لائیو استعمال کی نوٹیفیکیشنز نہ ہونے کے باوجود ریکارڈنگ کا شبہ۔

روک تھام

اگر آپ کو شبہ ہو کہ آپ کا موبائل فون ہیک کیا جا رہا ہے تو یہ اقدام فوری کریں۔ 

نیٹ ورک فوراً بند کردیں ، وائی فائی اور موبائل ڈیٹا بند کریں۔ پھر ایروپلین موڈ آن کریں۔ یہ ڈیٹا باہر جانے کو روکے گا۔

وائی فائی اور بلوٹوتھ کو بلاوجہ آن نہ رکھیں ، آن رکھنے کی صورت میں آپ کی ڈیوائس یا آپ کے موبائل کے ہیک ہونے کے چانسز زیادہ ہیں۔ 

سکرین شاٹس اور ثبوت محفوظ کریں  مشکوک  پیغامات، ایپ لسٹ اور غیر معمولی نوٹیفیکیشنز کے اسکرین شاٹس لیں۔ (بعد میں ان کی جانچ یا بینک/سروس پرووائیڈر کو دکھانے کے لیے)۔ 

محفوظ ڈیوائس پر پاس ورڈ بدلیں۔ کسی دوسرے محفوظ ڈیوائس سے اپنے ای میل، بینک اور سوشل اکاؤنٹس کے پاس ورڈ بدلیں اور 2FA آن کریں۔

معتبر سیکیورٹی اسکین چلا کر مشکوک ایپس ہٹائیں ۔ صرف رسمی اسٹورز کے اینٹی میلویئر استعمال کریں۔ 

بینک کو فوری اطلاع دیں ۔اگر مالی حرکت مشتبہ ہو تو بینک/پیمنٹ پلیٹفارم کو بتائیں۔ 

جب دوسری کوششیں ناکام ہوں تو فیکٹری ری سیٹ آخری حل ہے۔ اس سے پہلے مکمل بیک اپ بنائیں۔ 

مستقبل کی ٹیکنالوجیز

کوانٹم بیسڈ رینڈم نمبر جنریشن (QRNG) بھارتی تحقیقاتی اداروں (RRI, IISc وغیرہ) نے ابھی متعارف کرائی  ہے جو ایکسکلوزیو کوانٹم طریقے سے ون ٹائم پاس ورڈز (OTP) اور رینڈم نمبر پیدا کرے گی۔ اس کا بنیادی مقصد او ٹی پیز اور مواصلات کو مستقبل میں ہیکنگ سے محفوظ بنانا ہے ۔ لیکن موجودہ پروٹو ٹائپس پورٹیبل نہیں اور عام دستیابی میں وقت درکار ہے۔ اس تحقیق کے نتائج ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئے اور وہ واضح کرتی ہے کہ کوانٹم طریقے روایتی حملوں کے لیے مضبوط دفاع فراہم کر سکتے ہیں۔

یاد رکھیں تکنیکی پیشرفت دیر یا جلد میسر ہوگی، مگر فوری طور پر آپ کو روایتی دفاعی اقدامات (پاس ورڈ، اپڈیٹس، 2FA، محتاط رویہ) ہی اختیار کرنے ہوں گے کیونکہ کوانٹم حل ابھی مکمل طور پر عام نہیں۔

کچھ عملی مشورے

اپنے OS اور ایپس کو وقتاًفوقتاً اپڈیٹ کرتے رہا کریں۔

مضبوط، منفرد پاس ورڈ ہر اکاؤنٹ کے لیے  پاس ورڈ منیجر استعمال کریں۔ 

جہاں ممکن ہو Authenticator apps (TOTP) پر 2FA رکھیں SMS OTP کے مقابلے بہترہے۔

لنکس براہِ راست براؤزر/ایپ سے کھولیں SMS/WhatsApp لنکس پر کلک نہ کریں جب تک مکمل یقین نہ ہو۔ 

غیر ضروری وائی فائی/بلیوٹوتھ بند رکھیں؛ پبلک وائی فائی پر حساس کام VPN کے ساتھ کریں۔ 

ایپس کی اجازتیں وقتاً فوقتاً چیک کریں، کیمرا/مائیک صرف ضرورت پر آن کریں۔ 

بیک اپ باقاعدگی سے رکھیں، کلاؤڈ یا آف لائن، تاکہ رینسم ویئر یا ڈیٹا لوس کی صورت میں ریسٹور ممکن ہو۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں