اندھیر نگری اور بے انصافی : گرو اور اس کا چیلہ
پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک گرو اور اس کا چیلہ سفر کرتے ہوۓ ایک شہر جا پہنچے۔
شہر کا نام پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ اس شہر کا نام ہےانیاؤ پور ۔ جس کا مطلب بنتا ہے بے انصافی کا شہر۔ شہر کا نام سن کر گرو نے چیلے سے کہا ہمیں جلد ہی اس شہر سے نکل جانا چاہیے۔
انتباہ! یہ کہانی حکایات رومی سے لی گئی۔
وہ دن بھر شہر کی بے ترتیبی اور لاقانونیت کا نظارہ کرتے رہے۔ اس اندھیر نگری اور بے انصافی کے شہر میں، جہاں عقل اور انصاف کا کوئی وجود نہ تھا، گھومتے رہے، بادشاہ کی لاپروائی اور جہالت کا یہ عالم تھا کہ اس کے شہر میں ہر چیز، خواہ وہ قیمتی ہو یا بے قیمت، ایک ہی قیمت پر فروخت ہوتی تھی—مثلاً سولہ روپے سیر ۔
وہ بڑے حیران تھے کہ یہ کیسا شہر ہے جہاں پانی اور دودھ سبھی اشیاء ایک ہی قیمت پر بکتے ہیں۔ گرو نے چیلے سے پھر کہا ہمیں جلد ہی یہ شہر چھوڑ دینا چاہیے لیکن چیلے نے کہا کیوں نہ اس شہر کی بے انصافی کا فائدہ اٹھایا جائے۔ گرو نے بہت سمجھایا لیکن چیلے نے کہا بس تھوڑے دن ادھر رہ لیتے ہیں تاکہ خوب کھا پی لیں پھر چلے جاتے ہیں۔
دوسری طرف دو چوروں نے رات کی تاریکی میں ایک مکان میں چوری کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جب وہ مکان میں داخل ہونے کے لیے دیوار میں سوراخ کر رہے تھے، تو اچانک دیوار گر پڑی۔ اس دیوار کے نیچے ایک چور دب کر مر گیا۔
دوسرا چور اپنے ساتھی کے بارے انصاف کے لیے بادشاہ کے دربار میں جا پہنچا۔ چور نے بادشاہ کے سامنے اپنی فریاد پیش کی اور کہا کہ بادشاہ سلامت، مجھے انصاف چاہیے! میرا ساتھی دیوار گرنے کی وجہ سے نیچے دب کر مر گیا ۔
بادشاہ نے کہا دیوار کس کی تھی؟مکان مالک کو بلایا گیا۔ مکان مالک نے کہا بادشاہ سلامت اس میں میرا کوئی قصور نہیں مستری نے اینٹیں غلط لگائیں تھیں لہٰذا اس سے پوچھا جاۓ۔ بادشاہ نے معمار کو بلانے کا حکم دیا۔ معمار دربار میں حاضر ہوا اور اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسی کمزور دیوار کیوں بنائی؟ جو کسی بھی وقت گر سکتی ہو اور کوئی نقصان کر سکتی ہو۔ معمار نے کہا کہ میری کوئی غلطی نہیں، قصور اینٹیں بنانے(بھٹے) والے کا ہے، جس نے ایسی ٹیڑھی اینٹیں بنائیں۔
بادشاہ نے اینٹیں بنانے والے کو بلانے کا حکم دیا، جو فوراََ دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے ایسی ٹیڑھی اینٹیں کیوں بنائیں؟ اب جو نقصان ہو گیا ہے اس کا کون ذمہ دار ہے؟اس نے کہا بادشاہ سلامت، میرا کیا قصور ہے، مزدور نے زیادہ پانی ڈال دیا تھا، گارا پتلا ہو گیا، جس کی وجہ سے اینٹیں ٹیڑھی بن گئیں۔ اس پر بادشاہ نے پانی بھرنے والے کو بلایا۔
پانی بھرنے والا بھی دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اتنا زیادہ پانی کیوں ڈالا؟ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت، میری کوئی غلطی نہیں، سرکاری ہاتھی میری طرف دوڑا آ رہا تھاپانی کا مشکیزہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا، پانی زیادہ پڑ گیا، لہٰذا فیل بان سے پوچھا جاۓ۔
بادشاہ نے حکم دیا جلد ہی فیل بان کو حاضر کیا جاۓ۔ سرکاری فیل بان نے کہا بادشاہ سلامت، اس میں میرا کوئی قصور نہیں ایک عورت جو پائل پہن کر آ رہی تھی، اس کی پائل کی چھن چھن سے ہاتھی ڈر گیا اور میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
بادشاہ نے حکم دیا اس عورت کو بلایا جائے۔ عورت دربار میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا بادشاہ سلامت، اس میں میرا کیا قصور ہے۔ سنار نے پائل ہی ایسے بناۓ کہ ان کی جھنکار ہی اتنی زیادہ ہے۔ بادشاہ نے اس کو بھی بخش دیا اور سنار کو بلانے کا حکم دیا۔
سنار دربار میں حاضر ہوا اور بادشاہ نے اس سے کہا کہ تم نے اتنی جھنکار والے پائل کیوں بناۓ؟ جس سے ایک انسان کی جان چلی گئی۔ سنار سے اور تو کوئی جواب نا بن آیا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت، یہ تو ایک سلسلہ ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔
بادشاہ نے غصے میں آ کر سنار کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا۔ جب سنار کو پھانسی دینے لگے تو پھندا اس کے گلے میں پورا نہ آیا کیونکہ وہ بہت لاغر اور کمزور تھا، پھندا اس کے گلے سے باہر نکل آتا۔
بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا اب کیا کریں آخر ایک انسان مرا ہے اس کا حساب کتاب بھی تو پورا کرنا ہے۔ وزیر نے کہا بادشاہ سلامت، اب ہمیں کسی موٹے آدمی کو ڈھونڈنا چاہیے جسے یہ پھندہ پورا آجاۓ۔ تاکہ اس کو پھانسی دی جائے اور نقصان کی تلافی ہو۔ بادشاہ نے پورے شہر میں کسی موٹے آدمی کو ڈھونڈنے کا حکم دیا۔
موٹی گردن والے کی تلاش شروع ہو گئی، سپاہیوں نے گرو اور چیلے کو موٹا دیکھ کرپکڑ لیا اور بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔پھندہ چیلے کے گلے میں پورا آ گیا کیونکہ وہ کھا کھا کر کافی موٹا ہو گیا تھا۔ اب چیلے نے رونا شروع کر دیا ،گرو نے چیلے سے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ ہمیں یہاں سے چلے جانا چاہیے، اب لو مزے۔چیلے نے کہا گرو جی اب کسی طرح بچاؤ پھر کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا ۔ گرو نے چیلے کو چپ رہنے کا اشارہ کیا اور پھر بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت، مجھے پھانسی دیجیے۔ چیلے نے کہا کہ نہیں بادشاہ سلامت، مجھے پھانسی دیجیے۔
بادشاہ حیران ہوا اور اس نے گرو اور چیلے سے پوچھا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے کہ آپ دونوں پھانسی پر چڑھنے کے لیے بے تاب ہیں؟ گرو نے کہا کہ بادشاہ سلامت، یہ ایک مبارک ساعت ہے، جو اس وقت پھانسی پر چڑھے گا، وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔
یہ سن کر بادشاہ نے سوچا کہ یہ تو ایک سنہری موقع ہے۔ اس سے اچھا موقع کبھی نہیں ملے گا لہٰذا جنت میں مجھے ہی جانا چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے خود کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا اور خود تختہ دار پر چڑھ گیا۔ اس طرح، گرو اور چیلے نے اپنی عقل اور دانائی اور تدبیر سے اپنی جان بچا لی اور اپنی دانائی سے، بادشاہ کی لاپروائی اور جہالت کی اسے سزا دی۔
اس کہانی سے ملنے والا سبق
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی مشکل کا مقابلہ عقل اور دانائی سے کرنا چاہیے۔ جب ہم اپنی عقل اور دانائی کا استعمال کرتے ہیں، تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب کوئی حکمران بے انصاف اور جاہل ہو تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔