لاہور ہائی کورٹ میں PIA کی نجکاری کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی۔ کیا عدالتی فیصلہ قومی ایئرلائن، ملازمین اور عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا؟
PIA کی نجکاری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری ایک بار پھر قانونی اور آئینی تنازعے کی شکل اختیار کر گئی ہے، جب اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں باقاعدہ آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی فضائی ادارے کی فروخت نہ صرف ملکی قوانین سے متصادم ہے بلکہ آئینِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق پی آئی اے جیسے حساس اور بین الصوبائی نوعیت کے ادارے کی نجکاری محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے آئینی اداروں اور پارلیمنٹ کی منظوری لازمی تھی، جو اس عمل میں نظر انداز کی گئی۔درخواست میں عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نجکاری کے عمل کا آغاز مئی 2025 میں جاری ہونے والے اظہارِ دلچسپی سے ہوا، جبکہ دسمبر 2025 میں اس فروخت کو حتمی شکل دی گئی۔
تاہم، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ پورا عمل پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن (کنورژن) ایکٹ 2016 کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اس قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ قومی ایئر لائن کے اثاثے اور کنٹرول کس حد تک منتقل کیے جا سکتے ہیں، مگر نجکاری کے فیصلے میں ان قانونی حدود کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔
درخواست میں یہ نکتہ بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص ایک نجی کنسورشیم کے حق میں منظور کیے، جس نے 135 ارب روپے کی بولی دی۔ حکومت نے اس بولی کو کامیابی قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ یہ قیمت مقررہ بنیاد سے زیادہ ہے، لیکن درخواست گزار کے مطابق زیادہ مالی پیشکش ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ فیصلہ آئینی اور شفاف بھی ہو۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ طریقہ کار اور قانونی جواز کا ہے، جس پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی قومی ادارہ ہے، جو وفاقی قانون سازی کی فہرست کے دوسرے حصے میں شامل ہے۔ اس حیثیت میں، اس کی نجکاری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری آئینی طور پر ضروری تھی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس اہم آئینی تقاضے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اجازت حاصل کی گئی، جو آئین کے آرٹیکل 154 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے نجکاری کے جواز کے طور پر پی آئی اے کو مسلسل خسارے میں چلنے والا ادارہ ظاہر کیا اور یہ تاثر دیا کہ یہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ مؤقف یک طرفہ اور گمراہ کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کے مالی مسائل کی بنیادی وجوہات ناقص پالیسی سازی، بدانتظامی اور قرضوں کا غلط انتظام ہیں، نہ کہ ادارے کی بنیادی ساخت یا صلاحیت کی ناکامی۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عوامی سطح پر پی آئی اے کی مالیت کو اس کے جمع شدہ نقصانات کے ساتھ تقابل کر کے کم ظاہر کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قومی ایئر لائن کے پاس قیمتی اثاثے، بین الاقوامی روٹس، تربیت یافتہ عملہ اور اسٹریٹجک اہمیت جیسے عناصر موجود ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست گزار کے مطابق کسی قومی اثاثے کی قدر کا تعین محض مالی خسارے کی بنیاد پر کرنا درست نہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کو اس وقت براہِ راست حکومتی سبسڈی یا گرانٹ نہیں دی جا رہی، بلکہ اس کی مالی مشکلات ماضی کے غلط فیصلوں اور پالیسی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے ادارے کو ناکام ثابت کر کے نجی ہاتھوں میں دینا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اگر نیت اصلاح کی ہوتی تو ادارے کو ریاستی دائرے میں رہتے ہوئے بہتر بنایا جا سکتا تھا۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ نجکاری کا پورا عمل شفافیت کے بنیادی اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ اثاثوں کی فروخت اور کنٹرول کی منتقلی میں اختیارات کے غلط استعمال، من مانی فیصلوں اور قانونی سقم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ایسے فیصلے عوام، پارلیمنٹ اور متعلقہ آئینی اداروں کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے، جو ایک جمہوری نظام میں ناقابلِ قبول ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار سے متعلق حالیہ قانونی ترمیم اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ یہ مقدمہ کسی نجی بولی کے تنازعے سے متعلق نہیں بلکہ براہِ راست آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔
درخواست میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نجکاری کے خلاف آواز اٹھانے پر ایوی ایشن انڈسٹری سے وابستہ وکلا اور نمائندوں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک ادارے کی فروخت کا نہیں بلکہ قومی مفاد، عوامی سرمایہ اور ہزاروں ملازمین کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس پر سوال اٹھانا آئینی حق ہے۔
آخر میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا جائے، خصوصاً وہ معاہدہ جو دسمبر 2025 میں طے پایا۔ اس کے ساتھ ساتھ نجکاری سے متعلق تمام آئندہ اقدامات کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور مئی 2025 کے اظہارِ دلچسپی سے جنم لینے والی ہر کارروائی کو روکا جائے۔ درخواست گزار نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر ادارے میں کسی قسم کی تنظیم نو ضروری ہو تو وہ مکمل طور پر ریاستی ملکیت کے دائرے میں رہ کر کی جائے، تاکہ قومی اثاثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔