کیا خدا موجود ہے؟ اگر ہے تو کہاں ہے؟ یہ سوال صرف مذہبی نہیں بلکہ عقلی، فلسفیانہ اور سائنسی بھی ہے۔ ہر دور میں انسان نے اپنے مشاہدات، عقل اور تجربات کی روشنی میں اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
فی الحال سائنس کے پاس ایسا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ خدا موجود ہے، اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ خدا موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس اُن چیزوں کا مطالعہ کرتی ہے جنہیں دیکھا، ناپا اور تجربات کے ذریعے جانچا جا سکے، جبکہ خدا کا تصور عموماً ان حدود سے باہر سمجھا جاتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی چیز کے وجود کو ماننے کا معیار کیا ہے؟ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ جس چیز کو دیکھا نہ جا سکے، اس پر یقین کرنا سائنسی نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی اور خود سائنس بہت سی ایسی چیزوں پر قائم ہے جو نظر نہیں آتیں، بلکہ ان کے اثرات سے یا کچھ مشاہدات سے وہ چیزیں پہچانی جاتی ہیں اور عقل انہیں تسلیم کرتی ہے۔
مثال کے طور پر کششِ ثقل کو کسی نے دیکھا نہیں، مگر ہر چیز کا وزن اسی کی وجہ سے ہے۔ بجلی دکھائی نہیں دیتی، مگر پوری جدید دنیا اسی سے چل رہی ہے۔ اسی طرح شعور، عقل، ارادہ، خوف اور محبت نظر نہیں آتے، لیکن کوئی ان کے وجود سے انکار نہیں کرتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف نظر آنا ہی وجود کی شرط نہیں ہو سکتی۔
فلسفے میں وجود کو سمجھنے کے لیے اسے تین سادہ قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے، تاکہ بات آسان ہو جائے۔
پہلی قسم وہ ہے جسے لازمی وجود (necessary being) کہا جاتا ہے ۔ یعنی ایسا وجود جو ہر حال میں موجود ہو، اس کا نہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ وہ خود کسی پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ باقی سب چیزیں اسی کے سہارے قائم ہوتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں، اسے (necessary being ) کہتے ہیں۔ یعنی اس کا ہونا ہر حال میں ضروری ہے۔
دوسری قسم وہ ہے جسے ممکن وجود (contingent being) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی چیزیں جو ہو بھی سکتی تھیں اور نہ بھی ہو سکتی تھیں۔ مثال کے طور پر ہم خود، درخت، پہاڑ، ستارے، زمین۔ یہ سب کبھی ہو بھی سکتے تھے اور نہیں بھی ہو سکتے تھے۔ ان کا وجود کسی وجہ یا سبب کا محتاج ہے۔
تیسری قسم ناممکن وجود (impossible existence) ہے ۔ یعنی ایسی چیز جو حقیقت میں ہو ہی نہ سکے۔ جیسے ایک ہی وقت میں کوئی چیز مکمل طور پر موجود بھی ہو اور بالکل موجود نہ بھی ہو۔ ایسی بات عقل قبول ہی نہیں کرتی۔ ان تینوں اقسام کو فی الحال ذہن میں رکھ لیں، کیونکہ آگے بات سمجھنے میں یہ آپ کے لیے آسانی پیدا کریں گی۔
اب اس بات کو مثال سے سمجھتے ہیں۔
فرض کریں ایک لمبی قطار ہے جس میں ہر شخص کسی دوسرے کا سہارا لے کر کھڑا ہے۔ اگر ہر شخص خود کمزور ہو اور سب ایک دوسرے پر ہی ٹکے ہوں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ قطار کھڑی کس چیز کے سہارے ہے؟ لازمی ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک ایسا مضبوط شخص ہو جو خود کسی کا محتاج نہ ہو اور سب کو سہارا دے رہا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پوری قطار گر جائے گی۔
بالکل اسی طرح اگر کائنات کی ہر چیز ممکن ہو، یعنی ہر چیز کسی اور پر منحصر ہو، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلی بنیاد کیا ہے؟ وجود آخر کھڑا کس پر ہے؟ عقل کہتی ہے کہ لازماً ایک ایسا وجود ہونا چاہیے جو خود کسی کا محتاج نہ ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، اور باقی سب اسی کی وجہ سے موجود ہوں۔
اسی کو فلسفے میں واجب الوجود کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسا وجود جس کا ہونا لازم ہے، جو خود قائم ہے اور جس کے سہارے پوری کائنات قائم ہے۔
یہ تو تھی بات وجود کی۔ لیکن جو اصل سوال ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ کیا کائنات کا منظم ہونا، اس کے قوانین اور زندگی کا پیدا ہونا محض اتفاق سے ممکن ہے یا نہیں۔ اگر ہم ایمانداری سے غور کریں تو عقل یہ بتاتی ہے کہ جہاں ترتیب، نظام اور واضح قوانین ہوں، وہاں کسی نہ کسی درجے کی سمجھ اور ارادہ ضرور شامل ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ کسی سنسان جزیرے پر جائیں اور ریت پر صاف لفظوں میں کوئی جملہ لکھا ہوا دیکھیں تو آپ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ یہ لہروں، ہوا یا اتفاق سے بن گیا ہے۔ حالانکہ ریت، پانی اور وقت سب موجود ہوتے ہیں۔ آپ فوراً یہ سمجھ لیں گے کہ یہ کسی ذہن کا کام ہے۔ ہم یہی اصول روزمرہ زندگی میں ہر جگہ استعمال کرتے ہیں، لیکن جب بات پوری کائنات کی آتی ہے تو ہم اچانک اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اب ذرہ سائنس کی طرف آتے ہیں
جدید سائنس یہ بتاتی ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی، بلکہ اس کا ایک آغاز ہوا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ہے، لیکن بیسویں صدی میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم وقت کو پیچھے لے جائیں تو ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں سب کچھ شروع ہوا۔ اسی کو بگ بینگ کہا جاتا ہے وہیں سے وقت شروع ہوا۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ وقت، مادہ اور توانائی سب کا آغاز ہوا۔
جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ کائنات کی شروعات ہوئی، تو ایک سادہ سا سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے۔
جو چیز شروع ہوتی ہے، وہ خود سے کیسے شروع ہو سکتی ہے؟ روزمرہ زندگی میں ہم کبھی ایسا نہیں مانتے۔ مثال کے طور پر اگر آپ جنگل میں ایک گھڑی پڑی دیکھیں تو آپ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ خود بخود بن گئی۔ آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ کسی نے اسے بنایا ہوگا۔ اسی طرح، جب کائنات شروع ہوئی تو عقل پوچھتی ہے کہ اسے شروع کس نے کیا؟
یہاں ایک اصول کام کرتا ہے جسے سادہ زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے:
ہر شروع ہونے والی چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو ماننے سے انکار کر دیں تو نہ سائنس باقی رہتی ہے، نہ تاریخ، نہ ہماری روزمرہ سوچ۔ اسی بات کو ایک دلیل کی شکل میں یوں بیان کیا جاتا ہے جو چیز شروع ہوتی ہے، اس کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ کائنات شروع ہوئی۔ لہٰذا کائنات کا بھی کوئی سبب ہے۔
اب اگلا سوال یہ ہے کہ وہ سبب کہاں ہے؟ وہ کائنات کے اندر نہیں ہو سکتا، کیونکہ کائنات خود اسی سبب کی محتاج ہے۔ جیسے گھر اپنے معمار کے اندر نہیں ہوتا بلکہ معمار گھر سے باہر ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات کو بنانے والا (معمار) وقت، مادے اور کائنات کی حدود سے باہر ہونا چاہیے۔
خدا موجود ہے
یہاں عقل ایک ایسے وجود کی طرف اشارہ کرتی ہے جو خود کسی کا محتاج نہ ہو، ہمیشہ سے ہو اور ہر چیز کو وجود دینے کی طاقت رکھتا ہو۔
فلسفے میں اسے لازمی وجود (necessary being) کہا جاتا ہے جو ہم پیچھے بیان کر آۓ ہیں۔ اور عام زبان میں اسے خدا کہتے ہیں۔
اب کائنات کے نظام کو دیکھیں تو بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ کائنات کے قوانین اس قدر ناپ تول کر بنے ہیں کہ اگر ان میں ذرا سی بھی تبدیلی ہو جاتی تو ستارے نہ بنتے، عناصر (کیمیا) وجود میں نہ آتے اور زندگی ممکن ہی نہ ہوتی۔ مثال کے طور پر یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ریڈیو کو بالکل درست فریکوئنسی پر ٹیون کیا جائے۔ ذرا سا آگے پیچھے ہوں تو آواز ہی ختم ہو جاتی ہے۔ کائنات بھی اسی طرح نہایت باریک توازن پر قائم ہے۔ اسے محض اتفاق کہنا عقل کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
پھر زندگی کی طرف آئیں۔ انسان کے جسم میں ڈی این اے ہوتا ہے، جو دراصل ایک معلوماتی کوڈ ہے۔ جیسے کمپیوٹر میں پروگرام ہوتا ہے۔ کیا آپ کبھی یہ مان سکتے ہیں کہ ایک مکمل کمپیوٹر پروگرام خود بخود لکھا گیا ہو؟ بالکل نہیں۔ ہر کوڈ کے پیچھے کوئی لکھنے والا ہوتا ہے۔ تو پھر زندگی کا یہ پیچیدہ کوڈ بغیر کسی عقل کے کیسے بن گیا؟
آخر میں قرآن انسان کو یہی سوچنے کی دعوت دیتا ہے، زبردستی کوئی بات نہیں منواتا بلکہ سوال پوچھتا ہے: کیا تم خود ہی بغیر کسی بنانے والے کے پیدا ہو گئے؟ یا کیا تم خود اپنے خالق ہو؟ یہ سوالات آج بھی اتنے ہی مضبوط اور معنی خیز ہیں جتنے صدیوں پہلے تھے، اور انسان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے وجود اور کائنات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
ہم اب تک کائنات کے آغاز، اس کے قوانین اور زندگی کی حیرت انگیز پیچیدگی پر بات کر چکے ہیں۔ اب ایک اور بہت گہرا سوال سامنے آتا ہے، جسے خود جدید سائنس بھی پوری طرح حل نہیں کر سکی، اور وہ ہے شعور کا سوال۔ شعور کا مطلب صرف یہ نہیں کہ دماغ کام کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو پہچانتا ہے، یہ جانتا ہے کہ میں کون ہوں، سوچتا ہے، سوال پوچھتا ہے، اچھے اور برے میں فرق کرتا ہے اور اپنے وجود پر حیران ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف کیمیائی عمل یا برقی سگنلز کی وضاحت سے مکمل طور پر سمجھایا نہیں جا سکا۔
نیورو سائنس ہمیں یہ تو بتا دیتی ہے کہ دماغ کا کون سا حصہ یادداشت، جذبات یا حرکت سے متعلق ہے، لیکن یہ نہیں بتا پاتی کہ دماغ کے خلیات سے میں کا احساس کیسے پیدا ہو جاتا ہے؟
مثال کے طور پر دماغ میں درد کے سگنلز کیسے چلتے ہیں، یہ سائنس بتا دیتی ہے۔ لیکن درد محسوس ہونے کا تجربہ کیا ہے، یہ صرف خلیات سے سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے
اسی مسئلے کو فلسفہ اور سائنس میں Hard Problem of Consciousness کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو فلسفی David Chalmers نے مشہور کیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مادہ احساس اور تجربہ کیسے بن جاتا ہے؟
اب ذرا اور غور کریں۔ اگر انسان صرف ایک حیاتیاتی مشین ہو، تو اس کے خیالات بھی محض کیمیائی ردعمل ہونے چاہئیں، جیسے مشین کے پرزے حرکت کرتے ہیں۔ لیکن پھر ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے تمام خیالات اندھے قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں، تو ہم کیسے جانیں کہ کون سا خیال درست ہے؟ کون سا غلط؟
اسی اعتراض کو فلسفی Alvin Plantinga نے پیش کیا۔ اس دلیل کو Evolutionary Argument Against Naturalism کہا جاتا ہے۔سادہ الفاظ میں بات یہ ہے اگر دماغ صرف اس لیے بنا ہے کہ انسان زندہ رہ سکے، نہ کہ سچ کو پہچان سکے، تو پھر ہمارے عقائد پر بھروسہ کرنے کی کوئی مضبوط وجہ نہیں بچتی۔
مثال کے طور پر اگر کوئی خیال صرف اس لیے فائدہ مند ہے کہ وہ بقا میں مدد دیتا ہے، تو ضروری نہیں کہ وہ سچ بھی ہو۔اس کے برعکس، اگر انسانی عقل کسی ایسی ہستی کی طرف سے آئی ہو جو خود عقل، علم اور شعور رکھتی ہو، تو پھر عقل کی اہمیت اور سچ تک پہنچنے کی صلاحیت سمجھ میں آتی ہے۔ اسی لیے تاریخ کی بڑی تہذیبوں نے عقل اور اخلاق کو کسی اعلیٰ حقیقت سے جوڑا ہے۔
اب اخلاقیات کو دیکھیں۔ تقریباً ہر انسان فطری طور پر جانتا ہے کہ ظلم برا ہے انصاف اچھا ہے۔ یہ احساس دنیا کے مختلف معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کائنات صرف اندھے قوانین اور اتفاق کا نتیجہ ہے، تو اخلاقیات کہاں سے آئیں؟ ایٹمز اور ذرات میں تو نہ اچھائی ہوتی ہے نہ برائی۔
اگر اخلاقیات صرف سماجی معاہدہ ہوں، تو پھر غلامی اور جرائم کو اصولی طور پر غلط کہنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ بھی کسی زمانے میں معاشرتی فیصلے تھے۔ اسی وجہ سے فلسفی Immanuel Kant نے کہا تھا کہ انسان کے اندر موجود اخلاقی قانون اس بات کی علامت ہے کہ کوئی اعلیٰ اخلاقی قانون دینے والا موجود ہے۔
اسلام بھی یہی بات بیان کرتا ہے کہ انسان کے دل میں خیر اور شر کی پہچان رکھی گئی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کے نفس کو برائی اور نیکی دونوں کا شعور دیا گیا ہے، تاکہ وہ خود سوچے، سمجھے اور فیصلہ کرے۔
اب ارتقاء (Evolution) کے سوال کی طرف آتے ہیں، جسے اکثر خدا کے وجود کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ دراصل ارتقاء یہ نہیں بتاتا کہ زندگی کیوں وجود میں آئی یا کائنات کس نے بنائی، بلکہ یہ صرف یہ سمجھاتا ہے کہ جاندار وقت کے ساتھ کیسے بدلتے ہیں۔
سادہ مثال سے بات سمجھیں، ارتقاء ایسے ہے جیسے یہ بتانا کہ ایک گھر کے اندر کمرے کیسے بدلے گئے یا دیواریں کیسے رنگی گئیں، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ یہ گھر شروع میں کس نے بنایا۔ اسی طرح ارتقاء یہ بتاتا ہے کہ مختلف جانور اور پودے وقت کے ساتھ کیسے تبدیل ہوئے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ زندگی پہلی بار کہاں سے آئی؟ فطرت کے قوانین کیوں موجود ہیں؟ کائنات اتنی منظم کیوں ہے؟
یہی وجہ ہے کہ خود چارلس ڈارون نے بھی مانا تھا کہ زندگی کے آغاز کا سوال اس کے نظریے کے دائرے سے باہر ہے۔ آج کے کئی بڑے سائنس دان بھی یہ بات مانتے ہیں کہ ارتقاء اور خدا میں کوئی لازمی ٹکراؤ نہیں۔ مثال کے طور پر فرانسس کولنز، جو Human Genome Project کے سربراہ رہ چکے ہیں، کھل کر کہتے ہیں کہ ارتقاء خدا کے انکار کی دلیل نہیں۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ خدا نے زندگی کو آگے بڑھانے کے لیے ارتقاء کو ایک ذریعہ بنایا ہو۔
یعنی جیسے بارش فصل اگانے کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن بارش خود کسان نہیں ہوتی۔ اسی طرح ارتقاء ایک طریقہ ہو سکتا ہے، خالق کی جگہ نہیں۔
اب ایک اور دلیل پیش کی جاتی ہے جسے Multiverse کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق شاید بے شمار کائناتیں موجود ہیں، اور ہم محض اتفاق سے اس کائنات میں ہیں جہاں زندگی ممکن ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ ہے۔
پہلی بات یہ کہ Multiverse ابھی تک ایک فرضی نظریہ ہے، جسے تجربے سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔
دوسری بات یہ کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ بہت سی کائناتیں ہیں، تو سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔ وہ نظام کہاں سے آیا جو اتنی کائناتیں پیدا کر رہا ہے؟ یعنی Multiverse خدا کے سوال کو ختم نہیں کرتا، بلکہ صرف اسے ایک قدم پیچھے لے جاتا ہے۔
قرآن کا انداز یہاں بہت سادہ اور عملی ہے۔ وہ مشکل فلسفیانہ بحثوں میں الجھنے کے بجائے انسان کو سیدھی بات کی طرف بلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔ زمین اور آسمان کو دیکھو، دن اور رات کے بدلنے پر غور کرو اور خود اپنی تخلیق پر سوچو۔ (سورۃ البقرہ 2:164) یہ سب چیزیں اس بات کی نشانیاں ہیں کہ یہ نظام اندھا نہیں، بلکہ معنی اور مقصد رکھتا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اپنی عقل استعمال کرتے ہیں۔