فقہ اسلامی کے مطابق کتے کے لعاب کو نجسِ غلیظہ (شدید ناپاک) قرار دیا ہے۔ اگر کتے کا تھوک کسی چیز (جیسے کپڑا، برتن یا جسم) پر لگ جائے تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے۔
انسانی زندگی میں پاکیزگی، صحت اور احتیاط بنیادی اصولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسلام نے جہاں عبادات کے لیے طہارت کو لازمی قرار دیا، وہیں روزمرہ زندگی میں بھی صفائی اور نجاست کے اصول واضح کیے۔ انہی اصولوں میں ایک اہم موضوع کتے کے لعاب (تھوک) کی حیثیت ہے، جسے شریعت میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ دوسری طرف جدید سائنس نے بھی تحقیق کے ذریعے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ کتے کے لعاب میں موجود جراثیم انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
کتے کے لعاب کی شرعی حیثیت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے، جن میں سے ایک بار مٹی کے ساتھ ہو۔ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کتے کے لعاب کو عام نجاست کے مقابلے میں زیادہ سختی سے پاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
علماء کے مطابق کتے کا جسم بذاتِ خود ناپاک نہیں، بلکہ اس کا لعاب اور پیشاب ناپاک ہیں اگر کتا صرف جسم سے چھو جائے (بغیر لعاب کے)، تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے لیکن اگر لعاب لگ جائے تو دھونا لازم ہے۔
اگر کسی برتن یا کپڑے پر کتے کا لعاب لگ جائے تو اسے سات مرتبہ دھونا ضروری ہے ان میں سے ایک بار مٹی یا مٹی کے قائم مقام چیز (جیسے صابن) استعمال کی جائے۔ مقصد یہ ہے کہ نجاست کا اثر مکمل طور پر ختم ہو جائے یہ طریقہ صرف مذہبی حکم نہیں بلکہ اس میں ایک سائنسی حکمت بھی پوشیدہ ہے، جسے آج کی تحقیق واضح کر رہی ہے۔
کتے کے لعاب کے سائنسی نقصانات
جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کتے کے منہ میں مختلف اقسام کے خطرناک جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ اگر یہ انسانی جسم میں داخل ہو جائیں تو سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
کتے کے لعاب میں ایک خاص بیکٹیریا پایا جاتا ہے Capnocytophaga canimorsus یہ بیکٹیریا انسانی خون میں داخل ہو کر شدید انفیکشن پیدا کر سکتا ہے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ بعض کیسز میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
کتے کے لعاب سے منتقل ہونے والی سب سے خطرناک بیماری ریبیز ہے۔ یہ ایک وائرل بیماری ہے۔ اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً ناقابلِ علاج ہوتی ہے۔ بروقت ویکسین نہ لگوائی جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے۔
اگر کسی شخص کے جسم پر زخم ہو اور کتا اسے چاٹ لے تو جراثیم براہِ راست خون میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ شدید انفیکشن یا سیپٹیسیمیا (blood poisoning) کا باعث ہو سکتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی خاتون کے ہاتھ پر معمولی زخم تھا جسے اس کے پالتو کتے نے زخم کو صرف ایک بار چاٹا تھا، اگلے ہی دن ان کی طبیعت اس حد تک بگڑ گئی کہ سانس رکنے لگی اور ہونٹ نیلے پڑ گئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کتے کے منہ سے ایک خطرناک بیکٹیریا ان کے خون میں شامل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے پورے جسم میں انفیکشن پھیل گیا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ جسم کو آکسیجن ملنا بند ہو گئی اور ٹشوز مرنے لگے۔
خاتون کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو مجبوراََ ان کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے پڑے اور وہ 32 ہفتے ہسپتال میں گزارنے کے بعد اب چاروں اعضاء سے محروم ہو گئ۔
اسلام اور سائنس کا تقابلی جائزہ
سائنسی وضاحت | اسلامی حکم |
لعاب میں خطرناک جراثیم جراثیم کش اور مکمل صفائی کی ضرورت مٹی میں جراثیم کش خصوصیات | کتے کا لعاب نجس
سات بار دھونے کا حکم
مٹی کے استعمال کی تاکید |
یہاں ایک دلچسپ اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے یہ مطابقت ظاہر کرتی ہے کہ اسلامی تعلیمات نہ صرف روحانی بلکہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر بھی مبنی ہیں
کتا پالنے کے شرعی اصول
اسلام میں کتا پالنے کے حوالے سے چار جائز صورتیں ہیں
گھر یا مال کی حفاظت کے لیے
شکار کے لیے
کسی حقیقی ضرورت کے تحت
صرف شوق یا تفریح کے لیے کتا پالنا مناسب نہیں
احتیاطی تدابیر : کتے کو گھر کے اندر رکھنے سے حتی الامکان اجتناب۔ برتن، کپڑوں اور جسم کو لعاب سے محفوظ رکھنا۔ بچوں کو خاص طور پر احتیاط سکھانا۔ کتے کو ہاتھ یا چہرہ چاٹنے نہ دیں اگر ایسا ہو جائے تو فوراً اچھی طرح دھوئیں۔ زخم کی صورت میں خاص احتیاط کریں۔ پالتو کتے کی ویکسینیشن لازمی کروائیں۔ بچوں کو کتے سے کھیلنے کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں۔
یہ ایک عام سوال ہے کہ کیا کتے کا جسم بھی ناپاک ہے؟ جس کا جواب واضح ہے، کتے کا جسم بذاتِ خود ناپاک نہیں۔ اگر اس پر کوئی نجاست نہ ہو تو صرف چھونے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے۔اصل مسئلہ لعاب (saliva) ہے، نہ کہ جسم۔
کتے کے لعاب کے حوالے سے اسلام اور سائنس دونوں کا مؤقف حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہے۔ شریعت نے اسے نجس قرار دے کر احتیاط کا حکم دیا، جبکہ سائنس نے اس میں موجود خطرناک جراثیم اور بیماریوں کو ثابت کر دیا۔ یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلامی احکام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت کے محافظ بھی ہیں۔ کتے کے لعاب سے بچاؤ نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ طبی ضرورت بھی صفائی، احتیاط اور شعور اپنانا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلامی تعلیمات میں بیان کردہ اصول انسانی فلاح اور حفاظت کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم ان پر عمل کریں تو نہ صرف دینی اعتبار سے پاکیزگی حاصل ہوگی بلکہ جسمانی صحت بھی محفوظ رہے گی۔