ٹرمپ کا دعویٰ: پاکستان اور بھارت کی جنگ میں سات جہاز گرائے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ میں سات جہاز گرائے گئے تھے اور اس جنگ کو روکنے کا کریڈٹ بھی ان ہی کو جاتا ہے۔
بھارت کی جانب سے رات کی تاریکی میں کیے گئے بزدلانہ حملے نے یہ ظاہر کیا کہ دشمن ملک امن کے نعروں کے باوجود اپنی پرانی عادتوں سے باز نہیں آیا۔ مگر اس بار جواب بھی ویسا ہی آیا بروقت، فیصلہ کن اور ایسا کاری وار جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو نیست و نابود کر دیا۔
پاکستانی افواج نے، خصوصاً پاک فضائیہ نے، اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت اور بے مثال جرات کے ساتھ دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ برسوں یاد رکھے گا۔ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستانی دفاعی قوت نے بھارت کے سات طیارے مار گرائے، اس کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کیا، اور متعدد چیک پوسٹوں کو زمین بوس کر دیا۔ یہ کارروائیاں نہ صرف عسکری مہارت کا مظہر تھیں بلکہ دشمن کے غرور کو خاک میں ملانے کی واضح علامت بھی۔
یہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ پیغام تھا ایک مضبوط، دوٹوک پیغام کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ ہماری سرحدوں پر ہر قدم، ہر سپاہی اس بات کا گواہ ہے کہ ہم دفاع میں پہل نہیں کرتے، مگر اگر کوئی ہماری خودمختاری پر ہاتھ ڈالے تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے میڈیا کو دکھائی جانے والی ویڈیوز نے دنیا کے سامنے پاکستان کی سچائی اور پیشہ ورانہ شفافیت کو ثابت کر دیا۔ دشمن کا پروپیگنڈہ، جھوٹ اور ڈرامہ ایک بار پھر حقیقت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنی افواج پر فخر کیا ہے، اور اس واقعے کے بعد یہ فخر ایک نئے جذبے میں ڈھل گیا۔ ملک کے کونے کونے میں عوام نے افواجِ پاکستان کے حق میں آواز بلند کی، سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک ایک ہی نعرہ گونج اٹھا۔
پیر کے روز (25 اگست) وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی تھی اور اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ تصادم ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا۔ ان کے بقول، یہ ایک نیکسٹ لیول جنگ تھی، کیونکہ اس میں پہلے ہی سات جہاز گرائے جا چکے تھے اور خطرہ تھا کہ معاملہ ایٹمی تصادم میں بدل جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو سخت پیغام دیا کہ اگر وہ جنگ جاری رکھیں گے تو امریکا ان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دے گا۔ ٹرمپ کے مطابق، میں نے دونوں سے کہا کہ کیا آپ تجارت چاہتے ہیں یا لڑائی؟ اگر آپ لڑیں گے تو ہم آپ کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے۔ آپ کے پاس 24 گھنٹے ہیں فیصلہ کرنے کے لیے۔ اس پر دونوں کی جانب سے کہا گیا: ٹھیک ہے، اب مزید جنگ نہیں ہو گی۔
ٹرمپ نے اپنی پالیسی کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی دباؤ اور ٹیرف کے خطرے کی وجہ سے دونوں ممالک پیچھے ہٹے۔ ان کا کہنا تھا،میں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر آپ لڑائی جاری رکھیں گے تو 100 فیصد ٹیرف لگے گا، جس پر سب نے ہار مان لی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ اپنے سر لیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ان کی ثالثی کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر جنگ ٹل گئی۔
پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے بھارت کے چھ طیارے مار گرائے ہیں، تاہم ابتدائی طور پر بھارت نے اس کی تردید کی۔ بعدازاں جون میں بھارتی فضائیہ کے حکام نے تسلیم کیا کہ سات مئی کی جھڑپ کے دوران کچھ طیارے کھوئے گئے۔
صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب 22 اپریل کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا، جسے اسلام آباد نے رد کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی۔ تاہم کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔
اگلے ہی روز بھارت نے پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو اسے جنگ کا اقدام تصور کیا جائے گا۔
پھر 7 مئی کو بھارت نے پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر حملے کیے، جسے “آپریشن سندور” کا نام دیا گیا۔ اس کارروائی کو بھارت نے پہلگام حملے کا بدلہ قرار دیا۔ جواب میں پاکستان نے “بنیان المرصوص” کے نام سے جوابی آپریشن کیا اور آٹھ اور نو مئی کی درمیانی رات بھارت کے اندر کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ڈرونز گرائے جانے کے بھی دعوے کیے۔
صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ وہ دونوں ممالک کے حکام سے رابطے میں ہیں اور جنگ روکنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان اور بھارت نے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم دونوں کے درمیان تناؤ برقرار رہا۔
بعدازاں کئی مواقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے تجارتی دباؤ اور ثالثی کی وجہ سے ہی یہ جنگ رکی تھی۔ تاہم بھارت نے بارہا ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ بندی کا امریکا کے تجارتی مفادات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔