مرنے کے 10 سال بعد دفن ہونے والا خلیفہ عبدالمجید دوم کی تدفین کی داستان انتہائی حیرت انگیز ہے۔وہ سلطنتِ عثمانیہ کے آخری خلیفہ ہیں۔
مرنے کے 10 سال بعد دفن ہونے والا خلیفہ
تاریخ کے صفحات پر بعض واقعات ایسے درج ہوتے ہیں جو اپنے نرالے پن کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔عثمانی خلافت کا سورج صدیوں تک مشرق و مغرب پر چمکتا رہا۔
سلطنت عثمانیہ کا آخری خلیفہ عبدالمجید دوم ایسے وقت تخت پر بیٹھے جب خلافت کا سورج ڈوبنے ہی والا تھا۔جیسے کہا جاتا ہے “اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں” ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
ان کی قسمت تو ذرہ دیکھیے، جب 19 نومبر 1922ء کو وہ خلیفہ بنے، تو اس سے 18 دن پہلے ترک پارلیمنٹ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے حق میں ووٹ دے چکی تھی۔
اکتوبر 1923 میں ترک جمہوریہ کا اعلان کرا دیا گیا اور کمال اتاترک نے صدارت کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس طرح خلیفہ عبدالمجید دوم استنبول میں اپنے محل میں بغیر کسی طاقت کے رہنے لگے۔ یعنی وہ خلیفہ تو بنے، مگر نہ سلطان تھےاور نہ ہی اقتدار ۔
سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ
دسمبر 1923 میں ہندوستانی مسلم رہنماؤں نے ترک حکومت کوایک مشترکہ خط لکھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ خلافت بحال کی جائے۔
اتاترکوں کے حامیوں نے اس خط کا فائدہ اٹھایا اور اسے ترکی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش قرار دیا ۔عبدالمجید کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا “خلیفہ” سابقہ سلطانوں کے نقشِ قدم پر بھی نہیں چل رہے اور بیرونی سفیروں کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں۔
اس طرح اس چیز کو بہانہ بنا کر اتاترک کے نمائندوں نے تین منصوبے پارلیمنٹ کے سامنے رکھے، وزارت اوقاف کو ختم کیا جائے ،متحدہ تعلیمی نظام قائم کیا جائے اور خلافت کا خاتمہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے تینوں قوانین کے لیے پہلے ووٹنگ کرائی، پھر کافی بحث مباحثہ کے بعد تینوں قوانین کی منظوری دے دی۔ اور ساتھ ہی خلیفہ کو جلاوطنی کا حکم بھی سنا دیا۔
خلیفہ کی جلاوطنی
خلیفہ نے ملک بدری کا حکم سنا تو اسے ماننے سے انہوں نے انکار کر دیا اس طرح زبردستی ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ خلافت کے خاتمے کے چند ہی گھنٹے بعد انہیں ان کی دو بیویوں ایک بیٹے اور ایک بیٹی سمیت پہلےسوئٹزر لینڈ اور پھر فرانس بھیج دیا۔
استنبول کے محلوں سے نکل کر وہ پیرس کے ایک معمولی فلیٹ میں جا بسے۔ وہی خلیفہ، جس کے آباؤ اجداد چھ صدیوں تک دنیا کے بڑے حصے پر حکمران رہے، اب غریب و ناتواں ہو کر ایک اجنبی شہر میں وقت کاٹنے لگا۔
عبدالمجید کی اکلوتی بیٹی دُرِشہوار بہت حسین تھیں۔ شاہ فارس اور مصر کے شاہ فواد اول اور حیدرآباد کے نظام میر عثمان علی خان ، ان سبھی نےاپنے اپنے بیٹوں کے لیے دُرِشہوار کا رشتہ مانگا۔ 1931میں عبدالمجید نے دُرِشہوار کی17 سال کی عمر میں حیدرآباد کے نظام میر عثمان علی خان کے بڑے بیٹے اعظم جاہ سے شادی کر دی۔
پیرس کی گرینڈ مسجد میں وہ اکثر جمعہ کی نماز پڑھتے۔ کچھ وقت اپنی یادداشتیں لکھنے میں لگاتے۔یہ تحریریں ان کی بیٹی شہزادی دُرِشہوار اپنے پاس محفوظ کرتی رہیں۔ان کے دل میں یہ تڑپ ہمیشہ رہی کہ کبھی واپس ترکی جا سکیں، کبھی اپنے آباؤ اجداد کے پہلو میں دفن ہو سکیں۔ مگر تقدیر کچھ اور ہی لکھ چکی تھی۔
اس وقت پیرس ، جرمن قبضے میں تھا۔ گلیوں میں جنگ چھڑی ہوئی تھی اور اس ہنگامے کے بیچ، آخری خلیفہ کی روح 23 اگست 1944ء کو دوسری جنگ عظیم کے دوران پرواز کر گئی۔ حالات اس قدر خراب تھے کہ کئی دن تک ان کی لاش فلیٹ میں ہی پڑی رہی۔ پڑوسیوں نے میت کی شکایت کی
سوچیے!جب پڑوسیوں نے شکایت کی تو پتا چلا کہ وہ خلیفہ، جس کا نام کبھی جمعے کے خطبوں میں لیا جاتا تھا، اب محض ایک خاموش لاش ہے۔ بعد ازاں پیرس کی گرینڈ مسجد نے میت کو امانتاً اپنے پاس رکھ لیا۔
عبدالمجید کی خواہش اور وصیت تھی کہ انہیں ترکی میں دفن کیا جائے۔ مگر ترک حکومت نے سختی سے انکار کر دیا۔ دوسری خواہش تھی کہ انہیں ہندوستان کے شہر حیدرآباد میں دفنایا جائے جہاں کے نظام نے ان کے لیے مقبرہ بھی تیار کرایا تھا۔
مگر وہ وقت ہندوستان کی آزادی اور کشیدگی کا تھا، سیاسی حالات کچھ ایسے تھے کہ یہ بھی ممکن نہ رہا۔
یوں خلیفہ کی میت قبر کے انتظار میں ایک دن، دو دن یا ایک مہینے کے لیے نہیں بلکہ دہائی بھر پڑی رہی۔ سوچئے! ایک خلیفہ جو کبھی امت کی علامت تھا، وہ مرنے کے بعد اب اپنی تدفین کا بھی محتاج ہو گیا۔
اس دلچسپ خبر کو بھی پڑھیں
یہاں کہانی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے۔
ریلوے کے محکمے میں بھرتی کے دوران اکاؤنٹ آفیسر نے تمام امیدواروں کو لائن میں کھڑا کیا۔ آسامیاں کم اور امیدوار زیادہ تھےاس لیے حکم دیا: “مسلم ایک طرف اور غیر مسلم دوسری طرف ہو جائیں!” پھر اعلان کیا: تمام غیر مسلم اپنے اپنے گھر چلے جائیں “بھرتی مکمل ہوگئی ہے۔”مسلمان اپنی اپنی ڈیوٹیاں سنبھالیں۔
اس اقدام پر پورے صوبے میں ہنگامہ مچ گیا، انگریز کا دور تھا، ہر طرف شور شروع ہو گیا، تحقیقات کا مطالبہ کیا، ہندو پریس نےبڑے بڑے اداریے لکھے مگر اکاؤنٹ آفیسر ڈٹا رہا، نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔
اکاؤنٹ آفیسر نے مسلمان امیدواروں کی بھرتی کا جواز یہ پیش کیا کہ اس محکمے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لہٰذا اس بھرتی میں مسلمانوں کا کوٹہ پورا کیا گیا۔ یہ اکاؤنٹ آفیسر غلام محمد تھے۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ وار سپلائیز ڈیپارٹمنٹ میں ایسے افسر تھے جن کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ ماتحت افسر کی فائل اس کے منہ پر بھی دے مارتے ہیں، مذہب دیکھتے ہیں نہ قوم اور قبیلہ، کئی انگریز آفیسر بھی ان کی زد میں آجاتے تھے، بس کام نہ کرنے والا ان کے قہر کا شکار ہوجاتا۔
قیامِ پاکستان کے وقت محمد علی جناح نے انہیں بلایا اور وزارتِ خزانہ کا قلم انہیں سونپ دیا۔ حالانکہ اس وقت وہ ٹاٹا انڈسٹریز میں بیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے تھے، مگر پاکستان کی محبت میں محض تین ہزار روپے پر راضی ہو گئے۔ وہی غلام محمد بعد میں پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل بنے۔
آخری عثمانی خلیفہ کی تدفین
ادھر شہزادی دُرِشہوار اور شہزادی نیلوفر نے اپنے والد کی تدفین کے لیے کوششیں کیں مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ آخرکار شہزادی نیلوفر نے پاکستان کے اسی گورنر جنرل غلام محمد سے رابطہ کیا۔
غلام محمد نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور براہِ راست سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سعود بن عبدالعزیز سے بات کی۔ سعودی شاہ نے شرط رکھی کہ تدفین سادہ ہوگی، کوئی عوامی تقریب نہیں ہوگی اور قبر پر کوئی کتبہ یا نشان نہیں لگایا جائے گا۔
آخری آرام گاہ
یوں بالآخر 30 مارچ 1954ء کو آخری خلیفہ عبدالمجید دوم کو مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ جنت البقیع وہ مقدس قبرستان ہے جہاں صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ اور اسلامی تاریخ کی کئی عظیم ہستیاں مدفون ہیں۔ اگرچہ عبدالمجید دوم کو ترکی میں جگہ نہ مل سکی، مگر ان کے حصے میں یہ اعزاز ضرور آیا کہ وہ ان برگزیدہ شخصیات کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔
لمحہِ فکریہ
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ خلیفہ، جس کے ایک اشارے پر کبھی سلطنتیں لرزتی تھیں، اپنی موت کے بعد تدفین کے لیے دس برس تک منتظر رہا۔ یہ تاریخ کا ایک سبق بھی ہے کہ اقتدار اور شان و شوکت سب عارضی ہیں۔
مرنے کے دس سال بعد دفن ہونے والے اس خلیفہ کی داستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک عبرت ہے۔ طاقت، تخت اور خلافت کی عظمت سب وقت کے ساتھ دھندلا جاتے ہیں، لیکن کردار اور عمل باقی رہتے ہیں۔ عبدالمجید دوم کی تدفین کی داستان ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ تاریخ میں زندہ وہی رہتا ہے جس نے حالات کی سختیوں میں صبر کیا اور عزت کے ساتھ جیا۔