محبت کی آگ اور دوستی کی حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے ساتھ رہنا کتنا ضروری ہے۔ ایک بزرگ کی خاموش نصیحت اور سچی کہانی۔
محبت کی آگ اور دوستی کی حرارت
شہر کے ایک کونے میں ایک پرانا مگر محبت سے بھرپور محلہ آباد تھا۔ اس محلے میں دوستوں کا ایک گروہ تھا جو برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتا تھا۔ ہر شام جب سورج ڈھلتا اور ہوا میں ٹھنڈک اترنے لگتی، تو یہ سب دوست گلی کے نکڑ پر موجود ایک چھوٹے سے چائے خانے میں اکٹھے ہوتے۔
چائے، قہقہے، یادیں اور پرانی باتیں یہی ان کی زندگی کی مسکراہٹ تھی۔
ان میں ایک شخص حمید بھی تھا۔ وہ ہمیشہ سب سے پہلے آتا، دوسروں کا خیرمقدم کرتا، لطیفے سناتا اور محفل کو زندگی بخشتا۔ مگر ایک دن ایسا ہوا کہ حمید اچانک غائب ہوگیا۔ نہ کوئی اطلاع، نہ کوئی پیغام، نہ کوئی وجہ۔
پہلے پہل دوستوں نے سوچا شاید مصروف ہوگا، پھر وقت گزرتا گیا اور حمید کی کرسی خالی رہنے لگی۔ چائے خانے کی محفل جو کبھی قہقہوں سے گونجتی تھی، اب جیسے اپنی حرارت کھو بیٹھی تھی۔
کچھ ہفتے گزر گئے۔ ایک رات خاصی سرد تھی، برف جیسی ہوا کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھی۔ محلے کے بزرگ اور سب کے لیے رہنما کی حیثیت رکھنے والے بابا رشید نے فیصلہ کیا کہ آج وہ حمید کے گھر جائیں گے۔ انہوں نے اپنی پرانی کوٹ پہنی، ایک گرم ٹوپی اوڑھی اور ہاتھ میں چھڑی تھام کر سرد ہوا کے باوجود نکل پڑے۔
حمید کے گھر پہنچ کر بابا رشید نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔سامنے حمید کھڑا تھا چہرے پر اداسی، آنکھوں میں بوجھ اور چپ کا ایک پردہ۔ اس نے سلام کیا اور بابا کو اندر بلایا۔ اندر کا ماحول گرم اور سکون دہ تھا۔ آتشدان میں لکڑیاں جل رہی تھیں۔
حمید ایک کرسی پر بیٹھا تھا، آگ کے شعلوں کو گھورتا ہوا جیسے ان میں کوئی جواب تلاش کر رہا ہو۔ بابا رشید بھی خاموشی سے دوسری کرسی پر بیٹھ گئے۔
دونوں کے درمیان صرف آگ کی جلتی آواز تھی چٹخ، چٹک، چٹخ۔ بابا رشید نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے بس چمٹے سے آگ کے شعلوں میں سے ایک جلتا ہوا کوئلہ نکالا اور اسے آتشدان کے کنارے پر الگ رکھ دیا۔
حمید نے حیرت سے دیکھا، مگر کچھ بولا نہیں۔ دونوں کی نظریں اس تنہا کوئلے پر ٹکی رہیں۔ چند لمحوں میں کوئلہ جو ابھی تک جل رہا تھا، آہستہ آہستہ بجھنے لگا۔ پہلے اس کی روشنی مدھم ہوئی، پھر وہ بالکل کالا پڑ گیا۔
حمید نے خاموشی سے سانس بھری جیسے اسے اپنی کیفیت کا عکس دکھا دیا گیا ہو۔
بابا رشید نے تب بھی کوئی لفظ نہیں کہا۔ انہوں نے وہی سرد ہو چکا کوئلہ اٹھایا اور واپس آگ کے بیچ رکھ دیا۔ چند ہی لمحوں میں کوئلہ دوبارہ دہکنے لگا روشنی اور حرارت سے بھرپور۔
بابا رشید نے بس اتنا کہا دیکھو بیٹا، آگ تنہا رہ کر نہیں جلتی۔ شعلے کی حرارت بھی دوسروں سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
حمید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے آہستہ سے کہا، “بابا، آپ نے بغیر بولے سب کچھ کہہ دیا۔ میں کل سے محفل میں واپس آ رہا ہوں۔
اگلی شام چائے خانے کا ماحول پھر سے روشن تھا۔حمید آ گیا تھا۔سب دوست خوشی سے اس سے لپٹ گئے۔
کسی نے مذاق میں کہا، یار حمید، لگتا ہے تمہاری آگ بجھ گئی تھی!
حمید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ہاں، مگر بابا رشید نے دوبارہ جلانا سکھا دیا۔
محفل پھر سے گرم تھی، ہنسی کی گونج، کہانیاں، یادیں سب کچھ اپنی جگہ واپس آ گیا۔ اب ہر کوئی جان چکا تھا کہ زندگی کی حرارت تنہائی میں نہیں، بلکہ ساتھ میں ہے۔
یہ کہانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ زندگی کی گہرائی میں چھپا ایک سبق ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی بات پر ناراض ہو کر، کسی غلط فہمی یا مصروفیت کے باعث، اپنے قریبی لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں۔
ہم سوچتے ہیں کہ ہماری غیر حاضری سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک شعلہ ہے جو دوسرے کے دل کو گرم رکھتا ہے۔جب ہم کسی گروہ، خاندان یا محفل سے الگ ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف دوسروں کی حرارت کم ہوتی ہے بلکہ ہم خود بھی بجھنے لگتے ہیں۔
انسان کو انسان کی ضرورت ہے یہی فطرت کا قانون ہے۔ ایک چراغ دوسرے چراغ کو جلائے تو روشنی بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔
محبت، دوستی، خلوص اور تعلق یہ سب اسی آگ کے شعلے ہیں جنہیں زندہ رکھنا ہمارا فرض ہے۔ ہم سب کو کبھی نہ کبھی وہ بابا رشید بننا پڑتا ہے جو کسی کے دل کا بجھا ہوا کوئلہ دوبارہ دہکاتا ہے۔اور کبھی ہم وہ حمید ہوتے ہیں جسے کسی کی خاموش موجودگی پھر سے زندگی بخش دیتی ہے۔
زندگی کی محفل تبھی روشن رہتی ہے جب ہم ایک دوسرے کی آگ میں شامل رہیں۔ اگر کوئی دوست دور ہو جائے تو ناراض نہ ہوں، اگر کوئی خاموش ہو جائے تو اس سے ملنے جائیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک ملاقات، ایک احساس کسی کے اندر کے مردہ کوئلے کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
یاد رکھیے محبت کی آگ کبھی خود سے نہیں جلتی، اسے ہم سب کو مل کر جلانا ہوتا ہے۔