فٹبال میدانوں سے افسوسناک خبریں

فٹبال 0

کیلیفورنیا اسٹیٹ فلرٹن یونیورسٹی کی ایک باصلاحیت اور ابھرتی ہوئی فٹبال کھلاڑی، لورین ٹرنر ، کی خوفناک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے تقریباً 6 ہفتے بعد زندگی کی جنگ ہار گئیں

تین براعظموں سے کھیل کی دنیا میں ہلچل، امریکی فٹبالر کی موت، ایک سابق بوسنیائی کھلاڑی کا ہارٹ اٹیک اور ترکیہ میں میچ فکسنگ کا بھیانک انکشاف۔

فٹبال، جسے دنیا کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا کھیل مانا جاتا ہے، صرف کامیابیوں، ریکارڈز اور جوش و خروش کی کہانی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات یہ المناک واقعات، سنسنی خیز انکشافات اور دل دہلا دینے والے لمحات کا بھی گواہ بنتا ہے۔ حالیہ عرصے میں، دنیا کے مختلف کونوں سے فٹبال کی دنیا کو ہلا دینے والی تین بڑی خبریں سامنے آئی ہیں

ایک نوجوان امریکی فٹبالر کی المناک موت، سربیا کے میدان میں ایک سابق بوسنیائی کھلاڑی کا اچانک انتقال، اور ترکیہ میں سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے ایک بہت بڑے اسکینڈل کا انکشاف جس نے ملک کی فٹبال فیڈریشن کی بنیادیں ہلا دیں۔

19 سالہ لورین ٹرنر کو 27 ستمبر کو ایک خوفناک حادثے کا سامنا کرنا پڑا ۔ رپورٹس کے مطابق، 27 ستمبر کو لورین اپنی الیکٹرک موٹر سائیکل پر جا رہی تھیں کہ ایک تیز رفتار ٹرک نے انہیں پیچھے سے ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ لورین موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئیں۔انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں مسلسل کئی ہفتوں تک انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں زیر علاج رہیں اور تقریباً چھ ہفتے کومے کی حالت میں گزارنے کے بعد چل بسیں ۔

یہ حادثہ صرف لورین تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان کی ایک ساتھی بھی اس واقعے میں زخمی ہوئی تھی ۔ لورین کا انتقال کیلیفورنیا اسٹیٹ فلرٹن یونیورسٹی کے فٹبال پروگرام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور یہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ زندگی کتنی غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ فٹبال کے میدان میں کامیابی کے خواب دیکھنے والی لورین کی کہانی وقت سے پہلے ختم ہو گئی، جو ان کے خاندان، دوستوں اور مداحوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

لورین اپنے علاقے میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مثال سمجھی جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف میدان میں تیز رفتار اور مضبوط کھیل پیش کرتی تھیں بلکہ کلاس روم میں بھی بہترین طالبہ مانی جاتی تھیں۔ کھیل اور تعلیم کے درمیان توازن برقرار رکھنا ان کی شخصیت کی نمایاں خوبی تھی۔

ان کے کوچ کے مطابق وہ ہمیشہ مسکراتی ہوئی پریکٹس میں آتی تھیں، ٹیم ورک کو ترجیح دیتی تھیں اور مشکل لمحوں میں ساتھی کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتی تھیں۔ ان کی کمی اب نہ صرف ٹیم بلکہ یونیورسٹی کے کھیلوں کے پورے شعبے میں محسوس کی جا رہی ہے۔

ایک دوسرا المناک واقعہ سربیا میں پیش آیا، جہاں بوسنیا کے سابق فٹبالر اور کوچ ملاڈن زیزووک سربین لیگ کے ایک میچ کے دوران میدان میں اچانک گر کر جان کی بازی ہار گئے ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کی ٹیم، ریڈنِسکی 1923، کا مقابلہ ملادوسٹ سے جاری تھا ۔

ٹی وی فوٹیج کے مطابق، ملاڈن زیزووک میچ کے چوتھے منٹ میں اپنی ٹیم کو جوش و خروش سے ہدایات دے رہے تھے ، جب ان کی ٹیم 1-0 سے آگے تھی ۔ تاہم، کھیل کے 22ویں منٹ میں، وہ اچانک سائیڈ لائن پر گر پڑے ۔ انہیں فوراً طبی امداد فراہم کی گئی اور اسپتال منتقل کیا گیا ، لیکن بدقسمتی سے وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے ۔

 اس خبر کے بعد میچ کو فوری طور پر روک دیا گیا ، اور اس المناک لمحے نے میدان میں موجود کھلاڑیوں کو سکتے میں ڈال دیا ؛ کئی جذباتی ہو کر رو پڑے، جبکہ کچھ نے خاموشی سے دعا کی ۔ زیزووک نے مبینہ طور پر اس سے کچھ دیر قبل مچھلی کھاتے ہوئے کچھ شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا ۔ میدان میں ہارٹ اٹیک سے ہونے والی یہ موت کھیل کے جذباتی اور جسمانی دباؤ کی ایک خوفناک یاد دہانی ہے۔

🇹🇷 ترکیہ فٹبال میں بڑا سٹے بازی اسکینڈل، 1000 سے زائد کھلاڑی معطل

فٹبال کی دنیا میں جہاں ان المناک واقعات کا غم تھا، وہیں ترکیہ سے ایک بہت بڑا سکینڈل سامنے آیا جس نے ملک کی فٹبال فیڈریشن کو ہلا کر رکھ دیا ۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ترکیہ میں فٹبال میچوں پر مبینہ وسیع سٹے بازی اور دیگر الزامات (بشمول اختیارات کا ناجائز استعمال اور میچ فکسنگ) کی تحقیقات کے نتیجے میں آٹھ افراد کو گرفتار اور 1,000 سے زیادہ کھلاڑیوں کو معطل کر دیا گیا ہے ۔

گرفتار ہونے والوں میں ایک اعلیٰ درجے کے کلب Eupspor کے چیئرمین، مرات اوزکایا ، اور سات دیگر افراد شامل ہیں ۔ ترک فٹبال فیڈریشن (TFF) نے تادیبی تحقیقات کے لیے مجموعی طور پر 1,024 کھلاڑیوں کو معطل کیا ہے ۔ ان معطل کھلاڑیوں میں سے 27 کا تعلق ملک کی اعلیٰ درجے کی سپر لیگ سے ہے ، جن میں گالاتسرائے کے دفاعی کھلاڑی ایرن ایلمالی بھی شامل ہیں، جو ترکیہ کی قومی ٹیم کی بھی نمائندگی کرتے ہیں ۔

یہ اسکینڈل اکتوبر کے آخر میں اس وقت منظر عام پر آیا جب TFF کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ اس کی پروفیشنل لیگز کے 571 فعال ریفریز میں سے 371 کے پاس سٹے بازی کے اکاؤنٹس تھے، اور ان میں سے 152 تو فعال طور پر جوا کھیل رہے تھے

ایرن ایلمالی نے اپنی معطلی کے دفاع میں کہا ہے کہ یہ ایک ایسی ٹیم پر لگائی گئی شرط سے متعلق ہے جو پانچ سال پہلے ان کی ملکیت نہیں تھی، اور انہوں نے اس کے بعد کوئی شرط نہیں لگائی ۔ 

گالاتسرائے کلب نے صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پورے عمل کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ یہ وسیع پیمانے پر ہونے والا انکشاف ترکیہ فٹبال میں شفافیت اور دیانتداری پر ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے، اور اس سے کھیل کی سالمیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں