علم اور دولت ایک سبق آموز اور دلچسپ کہانی

ایک زمانے کی بات ہے مصر کے ایک بڑے اور خوبصورت شہر میں ایک نہایت کامیاب اور سمجھدار تاجر رہتا تھا۔ اس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی، اس کے پاس علم بھی تھا اور دولت تو اتنی تھی کہ گنتی بھی مشکل ہو جائے 0

ایک زمانے کی بات ہے مصر کے ایک بڑے اور خوبصورت شہر میں ایک نہایت کامیاب اور سمجھدار تاجر رہتا تھا۔ اس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی، اس کے پاس علم بھی تھا اور  دولت تو اتنی تھی کہ گنتی بھی مشکل ہو جائے۔

انتباہ! یہ کہانی حکایات رومی سے لی گئی۔

اس تاجر کے دو بیٹے تھے: بڑا بیٹا “سامر” اور چھوٹا بیٹا “زید”۔ دونوں ایک ہی باپ کے بیٹے تھے، لیکن سوچ اور مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

سامر کو بچپن سے ہی دولت، محل، گاڑیاں، سونا چاندی، اور بڑے بڑے کاروباروں کا شوق تھا۔ وہ دن رات یہی خواب دیکھتا کہ ایک دن وہ دنیا کا امیر ترین انسان بنے گا۔

دوسری طرف، زید نہایت سادہ طبیعت، خاموش طبع اور علم کا دیوانہ تھا۔ وہ گھنٹوں کتابوں میں گم رہتا، استادوں سے سوال کرتا، غور و فکر کرتا اور علم کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا۔

وقت گزرتا گیا…

تاجر بوڑھا ہوا اور ایک دن بیماری کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جاتے جاتے اس نے دونوں بیٹوں کو برابر دولت دے دی تاکہ ہر کوئی اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے۔

والد کے انتقال کے بعد سامر نے فوری طور پر اپنا کاروبار شروع کیا۔ دن رات محنت، چالاکی اور ہوشیاری سے اس نے دولت کے پہاڑ کھڑے کر دیے۔ ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگا — شان و شوکت، نوکر چاکر، بڑی بڑی کوٹھیاں، گھوڑے، ہیرے جواہرات  ہر چیز اس کے پاس تھی۔

لوگ اس کی دولت کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب جاتے تھے۔ لیکن سامر کا غرور بھی اسی رفتار سے بڑھتا گیا۔

ادھر زید نے اپنے حصے کی دولت سمیٹی اور دنیا کی سیاحت پر نکل گیا۔ وہ ہر اس جگہ گیا جہاں علم، حکمت اور دانائی کے چراغ روشن تھے۔ کبھی کسی درویش سے سبق لیتا، کبھی کسی فلاسفر کی باتوں پر غور کرتا، کبھی کسی عالم کے قدموں میں بیٹھ کر سیکھتا۔ اس کے پاس ظاہری دولت تو کم ہوتی گئی، لیکن دماغ و دل علم کے خزانوں سے بھرنے لگے۔

سالوں بعد زید اپنے شہر واپس آیا۔ اس کا لباس سادہ تھا، ظاہری طور پر وہ کسی عام انسان کی طرح لگتا تھا  لیکن آنکھوں میں ایک چمک، چہرے پر سکون، اور باتوں میں گہرائی تھی۔

جب سامر کو پتہ چلا کہ اس کا چھوٹا بھائی واپس آ گیا ہے، تو اس نے فورا ایک شاندار دعوت رکھی۔ زید کو محل میں بلایا گیا۔ وہاں سونے کے برتن، قیمتی قالین، اور ہزاروں روپے کا کھانا تھا۔

سامر نے زید کو دیکھ کر مسکرا کر کہا بھائی! تم نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔ دیکھو میں کہاں پہنچ گیا ہوں، اور تم اب بھی وہیں کے وہیں ہو۔ دولت کے بغیر انسان کچھ نہیں۔

زید نے نرمی سے جواب دیا بھائی! اگر کل حکومت تم سے یہ ساری دولت چھین لے یا تمھارا  کوئی کاروباری نقصان ہو تو تمہارے پاس کیا بچے گا؟ سامر ہنس پڑا، اور اگر تم سے تمہارا علم چھین لیا جائے تو؟

زید نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا علم ایسا خزانہ ہے جو کوئی چھین نہیں سکتا، نہ جل سکتا ہے، نہ چوری ہو سکتا ہے۔ اگر میری جیب خالی ہو بھی جائے تو میرا دماغ، میرا تجربہ، میری عقل ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے۔ اور انہی کی بدولت میں دوبارہ کامیاب ہو سکتا ہوں۔

سامر خاموش ہو گیا، اس نے پہلی بار سوچا کہ شاید وہ غلطی پر ہے۔

چند مہینے بعد سامر کے کاروبار میں دھوکہ ہو گیا۔ اس کی ساری دولت لٹ گئی۔ محلات، گاڑیاں، سونا سب بک گیا۔ دوستوں نے منہ موڑ لیا۔ وہ اکیلا اور بے یار و مددگار رہ گیا۔

زید  جو علم کی دولت سے مالامال تھا،نے اسے سہارا دیا، حوصلہ دیا، اور اپنے علم و ہنر کی بدولت سامر کو دوبارہ سنبھلنے میں مدد دی۔ اس وقت سامر کو احساس ہوا کہ

اصل دولت علم ہے، کیونکہ وہ گرے انسان کو  دوبارہ اٹھا سکتی ہے۔

اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق

  • علم ایک ایسی دولت ہے جو انسان کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے۔

  • دولت وقتی ہوتی ہے، لیکن علم زندگی بھر کا ساتھ دیتا ہے۔

  • دولت انسان کو تکبر دے سکتی ہے، لیکن علم انسان کو خاکسار بناتا ہے۔

  • علم انسان کی شخصیت، سوچ، اور کردار کو نکھارتا ہے، جبکہ دولت صرف ظاہری چمک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں