ظلم اور اس کا انجام

ظلم اور اس کا انجام 0

دنیا میں سب سے بڑا جرم وہ نہیں جو بندوق سے ہو، بلکہ وہ ہے جو  صرف جسم پر نہیں ،  دلوں کو  زخمی ، روحوں کو توڑے، اور انسانیت کے چہرے پر داغ بنے، یعنی  ظلم۔

ظلم کیا ہے؟

ظلم محض طاقت کا غلط استعمال نہیں، بلکہ انصاف کی نفی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے اختیار، مرتبے یا وسائل سے  دوسروں کو دبانے، استحصال کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے، تو وہ ظلم کرتا ہے۔

 کسی غریب کا حق مارنا، کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانا، یا کسی مظلوم کی آواز دبانا ،  سب ظلم کے ہی مختلف چہرے ہیں۔

ظلم کی کئی صورتیں ہیں، اور اکثر یہ اتنی معمولی لگتی ہیں کہ ہم انہیں ظلم سمجھتے ہی نہیں۔  مارپیٹ، تشدد، یا کسی کے وجود کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانا۔ طعنہ، تذلیل، خاموشی سے اذیت دینا، یا کسی کو احساسِ کم تری میں مبتلا کرنا۔ امتیاز برتنا، ناانصافی، طبقاتی فرق، اور وسائل پر قبضہ کرنا۔  قانون، طاقت، یا نظام کو صرف طاقتوروں کے حق میں استعمال کرنا۔ سب ظلم ہیں۔

اصل میں ظلم صرف متاثرہ فرد کو ہی نہیں توڑتا، بلکہ ظلم، ظالم کی انسانیت کو بھی کھا جاتا ہے۔مظلوم کے اندر خوف، غصہ، بے بسی، اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ظالم کے اندر ضمیر مرنے لگتا ہے، اور وہ اپنے ہی ظلم کو “حق” سمجھنے لگتا ہے۔معاشرہ رفتہ رفتہ انصاف سے خالی ہو جاتا ہے، اور ظلم معمول بن جاتا ہے۔

ظلم کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ،نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یعنی حدیث قدسی ہے) اے میرے بندے میں نے اپنے لیے کسی پر ظلم کرنا حرام فرما رکھا ہے۔ وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا، اسے تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے، لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ (مسلم ، ترمذی، ابن ماجہ،  الترغیب)

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ القِيَامَةِ ۔ظلم قیامت کے روز کئی تاریکیوں کا سبب ہوگا۔ (بخاری مسلم ترمذی الترغیب)

حضرت ابو القاسم حکیم رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا۔ کیا کوئی گناہ ایسا بھی ہے جو بندے کو ایمان سے محروم کر دیتا ہو؟  فرمایا ہاں تین چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو ایمان سے محروم کر دیتی ہیں۔ 

1 نعمت اسلام پر شکر نہ کرنا۔ 2 اسلام کے جاتے رہنے کا کوئی خوف و خطر محسوس نہ کرنا۔ 3 اہل اسلام پر ظلم کرنا۔  یہ تینوں ایسے ایسی چیزیں ہیں کہ ان کی وجہ سے بعض اوقات بندہ ایمان سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ ( تنبیہ الغافلین)

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر تو 70 ایسے گناہ کر کے آئے جو تیرے اور اللہ کے درمیان ہوں۔ اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ تو ایک گناہ ایسا لے کے آئے کہ جس کا تعلق تیرے اور کسی دوسرے بندے کے ساتھ ہو۔  (تنبیہ الغافلین)

شرک کے علاوہ اللہ جس گناہ کو چاہے بخش دے۔ لیکن جو بندوں کے درمیان معاملہ ہو، اُسے تو وہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرتے، جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے یا اُس کا بدلہ نہ دے دیا جائے۔

حضرت یزید بن سمرہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ساحل سمندر کی طرح جہنم کے بھی کنارے ہیں جن میں بختی اونٹوں جیسے سانپ اور خچروں جتنے بڑے بچھو رہتے ہیں۔ اہل جہنم جب عذاب ہلکا ہونے کی فریاد کریں گے تو انہیں حکم ہوگا، یا ان کے دل میں خیال آئے گا کہ کیوں نہ کناروں سے باہر  نکل جائیں۔

 تو وہ کناروں پر آئیں گے۔ وہاں سانپ اور بچھو انہیں ہونٹوں سے اور چہروں سے پکڑ لیں گے اور ان کی کھال تک کھینچ کر اتار دیں گے۔ وہ لوگ اُن سے بچنے کے لیے پھر جہنم کی آگ کی طرف بھاگیں گے اور اس میں کود پڑیں گے ۔ تو ان کے کاٹنے کی وجہ سے ان کو کھجلی شروع ہو جائے گی حتٰی کہ کُھجلاتے کُھجلاتے ان کی ہڈیاں تک ظاہر ہو جائیں گی۔

ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا بہت تکلیف ہوتی ہے، تو وہ کہیں گے ہاں بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ تو ان سے کہا جائے گا، یہ اُس تکلیف اور ظلم کا عِوض ہے جو تم اہل ایمان کو دیا کرتے تھے۔

 یعنی انہوں نے جو ظلم کیا ہوگا اُس ظلم کی اُن کو وہاں  یہ سزا مل رہی ہوگی۔ (تنبیہ الغافلین)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مہاجر صحابی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی کام تھا جسے وہ تنہائی میں عرض کرنا چاہتا تھا مقام حجر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے لشکر کے ساتھ ایک سنگلاخ وادی میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے وہ صحابی ساری رات چکر لگاتے رہے کہ کوئی موقع ملے اور اپنی بات عرض کروں یہاں تک کہ صبح نمودار ہو گئی۔

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور صبح کی  نماز  پڑھانے کے لیے تشریف لے جانے لگے۔ تو اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور عرض کیا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کام ہے آپ نے ارشاد فرمایا مجھے جانے دو انشاءاللہ کام ہو جائے گا۔ مگر اس شخص نے اونٹنی کی مہار نہ چھوڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہلکا سا درہ اسے لگا دیا۔ اس نے مُہار چھوڑ دی۔

آپ  نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ فجر کی نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرح متوجہ ہوئے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہونے شروع ہو گئے ۔آپؐ نے پکار کر فرمایا وہ شخص کہاں ہے جسے ابھی میں نے دُرا لگایا تھا۔ سب خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کو دہراتے ہوئے پھر فرمایا وہ شخص موجود ہو تو کھڑا ہو جائے۔ 

وہ شخص گھبرا کر اعوذ باللہ تعالی ثم برسولہ۔  میں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں کے کلمات پڑھنے لگا۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسے قریب سے قریب تر کرنے لگے حتی کہ جب وہ آپ کے بالکل قریب آگئے تو آپؐ نے اُسے اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا، یہ کوڑا پکڑ، اور مجھ سے بدلہ لے لے۔

وہ شخص عرض کرنے لگا، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اس کے نبی کو کوڑا ماروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کوئی حرج نہیں کوڑا پکڑ لو اور اپنا بدلہ لے لو۔ اس نے پھر یہی عرض کیا کہ خدا کی پناہ میں اللہ کے نبی کو کیسے کوڑا ماروں۔ مگر آپؐ نے اصرار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، نہ مارنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ تو مجھے معاف کر دے۔

  تو اس شخص نے کوڑا پھینک دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے معاف کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جو شخص بھی کسی مومن پر ظلم کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کا بدلہ دلوائیں گے۔ (تنبیہ الغافلین)

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ارشاد فرمایا، اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ۔ مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا اس لیے کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔ ( بخاری، مسلم، ابو داؤد ،نسائی، ترمذی، الترغیب)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سرزمین عرب میں شیطان بتوں کی پوجا سے تو مایوس ہو چکا ہے۔ لیکن اسے چھوڑ کر وہ تمہارے اُن گناہوں سے خوش ہو جایا کرے گا جنہیں تم حقیر جانتے ہو۔ حالانکہ قیامت کے روز یہی گناہ ہلاکت میں ڈالنے والے ہوں گے۔

 امکانی حد تک ظلم سے بچتے رہو اس لیے کہ بندہ قیامت کے روز اپنی نیکیاں لے کر حاضر ہوگا اور خیال کرے گا کہ یہ اُسے نجات دلا دیں گی۔ تو ایک اور بندہ آ کر عرض کر ے گا، اے میرے رب تیرے اِس بندے نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالی فرمائے گا، اِمْحُ مِنْ حَسَنَاتِهِ، اس ظالم کی نیکیاں اس کے ظلم کے مطابق مٹا دو۔ اور مظلوم اسی طرح عرض کرتا رہے گا حتٰی کہ اس کے گناہ (ظلم) کے مقابل اس کی کوئی نیکی باقی نہ رہے گی۔( پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا)

 اس کی مثال ایک سفر کی سی ہے کہ مسافروں نے کسی جنگل میں پڑاؤ کیا۔ ان کے پاس (کھانا وغیرہ پکانے کے لیے) لکڑیاں نہیں تھیں، تو لوگ ادھر ادھر بکھر گئے تاکہ لکڑیاں جمع کر لیں۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ وہ لکڑیاں جمع کر لائے، پھر آگ کا ایک الاؤ تیار کیا اور اس پر جو چاہا پکایا۔ اسی طرح گناہ ہوتے ہیں۔ (کہ ایک ایک کر کے انبار بن جاتے ہیں جو نیکیاں برباد کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں) (ابو یعلی مسند احمد طبرانی الترغیب)

واسق باللہ بڑا ظالم بادشاہ تھا لوگوں پر ظلم کرتا تھا لیکن اللہ تعالی کی طرف سے اسے ڈھیل تھی۔ اس کی شکل و صورت بھی کچھ خوفناک تھی آنکھیں بڑی بڑی جس طرح بیل کی آنکھیں ہوں کوئی بھی اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ لوگوں پر اتنا ظلم کرتا کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں ہوتی تھی۔

   اس وقت جب بادشاہ مرتا تو اس پر سونے کی چادر ڈالی جاتی تھی۔ اسی طرح جب اس پر سونے کی چادر ڈالی، تو تھوڑی دیر بعد دیکھا گیا، کہ چادر میں کوئی چیز حرکت کر رہی ہے۔ جب چادر ہٹائی تو دیکھا کہ ایک چوہا آنکھیں نکال کر جا رہا ہے۔ حالانکہ اس محل میں چوہا کہاں سے آگیا تھا شاہی محل تھا۔ یہ اس کے ظلم کی سزا تھی جو اللہ تعالی لوگوں کو بطور عبرت دکھا رہے تھے۔

خاموشی بھی ظلم ہے

اکثر ہم ظلم کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، مگر بولتے نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ “یہ میرا مسئلہ نہیں”  مگر یہی خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے۔

قرآن میں واضح فرمایا گیا ہے “اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا” (سورۃ آلِ عمران 57)

خاموش تماشائی بھی دراصل ظلم کے نظام کا حصہ بن جاتا ہے، کیونکہ ظلم وہاں پنپتا ہے جہاں انصاف کی آواز دب جائے۔

ظلم کے خلاف آواز اٹھانا صرف بہادری نہیں بلکہ انسانیت کا فریضہ ہے۔ اپنے گھر میں انصاف قائم کریں۔کمزور کی بات سنیں۔ معاشرتی ناانصافی کے خلاف بولیں۔اور سب سے بڑھ کر، خود کسی پر ظلم نہ کریں ، کیونکہ ظلم کا آغاز ہمیشہ چھوٹے عمل سے ہوتا ہے۔

ظلم کا اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، انصاف کی روشنی کو کبھی مکمل نہیں بجھا سکتا۔ ہر عہد میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے ظلم کے سامنے ڈٹ کر کہا: “بس اب بہت ہوا” یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔

ظلم کے خلاف سب سے بڑی جنگ میدانوں میں نہیں، ضمیر کے اندر لڑی جاتی ہے۔ اگر ہم ہر دن اپنے رویے میں انصاف، احترام اور رحم پیدا کریں، تو شاید دنیا سے ظلم کا ایک سایہ کم ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں