آرکٹک میں جنگی ماحول: نیٹو کی فوجی مشقیں شروع

نیٹو کی فوجی مشقیں 0

آرکٹک خطے میں نیٹو کی فوجی مشقیں شروع ہو گئیں جن میں 14 ممالک کے 25 ہزار فوجی شریک ہیں۔ مشقوں میں پہلی بار شہریوں کے کردار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

آرکٹک میں نیٹو کی فوجی مشقیں شروع، شہریوں کی تیاری پر خاص توجہ

اوسلو (رائٹرز)  نیٹو نے پیر کے روز آرکٹک خطے میں اپنی بڑی فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، جن میں اس بار ایک نئی حکمت عملی کے تحت شہریوں کی تیاری اور کردار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ دو سال بعد ہونے والی بڑی فوجی مشقیں کولڈ رسپانس کے نام سے جانی جاتی ہیں اور اس بار یہ 9 مارچ سے 19 مارچ تک جاری رہیں گی۔ اس اہم فوجی سرگرمی میں 14 ممالک کے تقریباً 25 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں، جو سخت برفانی ماحول میں دفاعی حکمت عملی اور جنگی تیاریوں کا عملی مظاہرہ کریں گے۔

یہ مشقیں خاص طور پر یورپی آرکٹک علاقے میں نیٹو کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے منعقد کی جا رہی ہیں۔ اس خطے کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ نیٹو کے رکن ممالک ناروے اور فن لینڈ کی سرحد روس سے ملتی ہے۔

مشقوں کے دوران فوجی دستے سخت سرد موسم، برفانی علاقوں اور سمندری ماحول میں جنگی حکمت عملی، نقل و حرکت اور دفاعی تعاون کی مشق کریں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔

شہریوں کے کردار پر پہلی بار خصوصی زور

اس بار کی مشقوں میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صرف فوج ہی نہیں بلکہ شہری اداروں اور عام لوگوں کی تیاری کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

نیٹو حکام کے مطابق جدید جنگی حالات میں شہریوں، مقامی اداروں اور ہنگامی سروسز کا تعاون نہایت اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے ان مشقوں میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اگر کسی ہنگامی صورت حال میں فوج کو مدد درکار ہو تو شہری کس طرح معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔

یہ فوجی مشقیں ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہیں جب گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان کشیدگی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آرکٹک خطہ اس وقت عالمی سیاست اور دفاعی حکمت عملی میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے، کیونکہ یہاں قدرتی وسائل اور جغرافیائی برتری دونوں موجود ہیں۔

خطے کی سلامتی کے لیے اہم اقدام

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرکٹک میں اس نوعیت کی بڑی فوجی مشقیں نیٹو اتحاد کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف فوجی تعاون مضبوط ہوتا ہے بلکہ اتحادی ممالک کو سخت موسمی حالات میں مشترکہ کارروائیوں کی عملی تربیت بھی ملتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ان مشقوں کے ذریعے نیٹو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ وہ آرکٹک خطے میں اپنی دفاعی تیاری اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں